الیکشن سے پہلے نیب مقدمات کے فیصلے۔۔۔؟

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی عدالتوں کو مطلوب دو بڑے ملزمان ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم قائد الطاف حسین اور مسلم لیگ نون کے قائد محمد نواز شریف کو لندن سے پاکستان نہیں لا سکتے۔اس سے پہلے وہ ایک سے زائد بارپرامید لہجے میں میڈیا کے روبرو نون لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف کوجلدپاکستان لانے کا دعوی کرتے رہے ہیں۔یہ ایک تکلیف دہ اور افسوسناک حقیقت ہے:”عالمی اخلاقی اقدار“ اس وقت دم توڑ دیتی ہیں جب مطلوب ملزم یا مجرم اپنے ملک سے بے تحاشہ دولت لوٹ کر لندن لایا ہو“۔پانامہ لیکس میں ایسے لوگوں کے نام موجود ہیں،2014میں منظر عام پر آئے تھے،7برس بیت گئے، نہ حکومت پاکستان اس دوران برطانوی حکومت سے ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئی،نہ ہی ملزمان واپس آئے۔اس تاخیر کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جب تک پاکستان سزائے موت کی سزا ختم نہیں کرتا اس وقت تک برطانیہ سے ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ ممکن نہیں۔۔۔۔۔ ناکامی کے اعتراف کے ساتھ ہی اسی موقع پروزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک اور دعویٰٰ کردیا ہے، انہوں نے کہا ہے:”الیکشن سے پہلے نیب مقدمات کے فیصلے ہوں گے“۔ دوسال میں نیب مقدمات میں فیصلوں کے دعوے کو فی الحال ”سیاسی پیش گوئی“ کہا جا سکتا ہے، اور ضروری نہیں کہ ہر سیاسی پیش گوئی سچ ثابت ہو، اس بارے وثوق سے کوئی رائے نہیں دی جا سکتی۔ اس حوالے سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ 50،50چانسز ہیں۔آج یہ محض ایک خواہش ہو سکتی ہے۔لیکن اس کے حقیقت بننے کے چانسز بھی یکسر مسترد کرنا درست نہیں۔روشن پہلو سامنے رکھنا چاہیئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مقدمات کا فیصلہ حکومت نہیں کرے گی،مقدمات کی سماعت عدالت میں ہوگی، اور سماعت جج/ججزپر مشتمل بینچ کرتاہے۔نہ جانے کیوں جج کو عملاً یہ اختیار حاصل ہے کہ اپنی رائے کے مطابق فیصلہ دے۔ ہر جج اپنے فیصلے میں لکھتا ہے:In my opinion،پاکستان کی طویل عدالتی تاریخ میں متعدداہماور دوررس نتائج کے حامل فیصلے ہوئے اور ریکارڈ کا حصہ ہیں جو صرف اور صرف معزز جج/ججزکا ذاتیopinionہے، اس فیصلے کی تائید میں ملکی آئین کی شق یا رائج لوقت قوانین سے ممکن نہیں۔اس روایت کا آغازابتدائی دورمیں جسٹس منیر کے اس فیصلے نے رکھی جو معزز جج نے ”نظریہئ ضرورت“ سے کشیدکیا تھا۔ واضح رہے ”نظریہئ ضر ورت“ جیسی اصطلاح آئین ِ پاکستان میں کبھی موجود نہیں رہی۔مگرعملاً ”نظریہئ ضر ورت“ نے آج تک آئین کو اپنے نوکیلے خونخوار پنجو ں میں جکڑ رکھا ہے۔اسے آئین پر بالادستی حاصل ہے۔آخری بار ا س غیر آئینی اصطلاح کے تحت فیصلہ 1999میں جسٹس چوہدری افتخار محمد نے دیا جس میں آرمی چیف کو3سال تک آئین پاکستان میں ترمیم کا اختیار بھی تفویض کر دیا جو خود جسٹس صاحب کو بھی حاصل نہیں۔ججز کے معاملے میں ایک آئینی اختلاف دور کرنے کے لئے 19ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ نے منظور کی تھی، سپریم کورٹ نے اپنے عدالتی حکم کے تحت اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرایا تھا۔ اس مثال سے یہی سمجھا جائے گا کہ اداروں کے اختیارات آئین متعین کرتا ہے۔ البتہ ادارے اپنے اندرونی معاملات چلانے کے لئے حسب منشا رولز اینڈ ریگولیشنز بناتے ہیں۔کابینہ اپنے معالات کے لئے رولز آف بزنس طے کرتی ہے۔یہ کہنے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ اداروں کے سربراہان آئین کے دیئے ہوئے اختیارات ملک اور عوام کے بہترین مفاد میں استعمال کرتے ہیں۔ اپنی ذاتی رائے آئین پر مسلط نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے عوام نے اپنی آنکھوں سے اس کے برعکس مناظر بار بار دیکھے۔ایسا نہ ہوتا تو یقینا اچھا ہوتا۔وزیر داخلہ کی پیش گوئی پوری ہونے میں کسی کو شک و شبہ نہ ہوتا۔سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے بگاڑ کی اصلاح کیسے ہو گی؟ کون کرے گا؟کب کرے گا؟ اصلاح کے راستے میں پارلیمنٹ خود ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ممکن ہے بعض دانشور اس تأثر سے متفق نہ ہوں۔انہیں اس جملے سے پارلیمنٹ پر حملے کی بو آئے۔ لیکن جو پارلیمنٹ قانون سازی کے سوا دنیا کے دیگر تمام کام بشمول گالم گلوچ، ماردھاڑگزشتہ کئی دہائیوں سے کررہی ہو۔جعلی ڈگریاں اراکین کی جیبوں اور فائلوں میں موجود ہوں۔ایک صوبے کاوزیر اعلیٰ میڈیا کے روبرو مسکراتے ہوئے کہے:۔۔۔۔۔”ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا جعلی ہو“۔۔۔۔ یہ جملہ پورے معاشرے کے ذہن کی عکاسی کے لئے کافی ہے۔جعل سازی پورے معاشرے کو گھیر لے تب یہ جملہ کسی وزیر اعلیٰ کی زبان پر آتا ہے۔لیکن مایوس ہونے کی بجائے امید کادامن تھام لیں۔ کمرکس لیں۔اصلاح ممکن ہے۔دوسرے ملکوں کی مثال پیش کرنے کی ضرورت نہیں، اپنے ملک کو دیکھ لیں، پہلے ایک کروڑ پاکستانیوں نے کرونا بچاؤ کے ویکسین لگوانے میں 113دن لئے، پھر دھیرے دھیرے یہ مدت کم ہوتی چلی گئی، دوروز پہلے 10لاکھ 72ہزار افراد نے ویکسینیشن کا عمل مکمل کیا یا اس کا پہلا انجکشن لگوا لیا ہے۔اب ملک کے ہر حصے میں سینٹرز کے سامنے بڑی تعداد میں لوگ قطار بنائے کھڑے دیکھے جا سکتے ہیں۔پاکستان کے عوام اصلاح چاہتے ہیں۔ بالائی طبقہ اصلاح نہیں چاہتا۔لیکن گزشتہ تین برسوں میں عوام کی بڑی تعداد نے اس طبقے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے یہ پیغام دے دیا ہے کہ بالائی طبقہ زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکے گا۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد سیالکوٹ کے نتائج اسی سمت اشارا دے رہے ہیں۔بالائی طبقے کی پسپائی نے میاں شہباز شریف کو یہ حوصلہ بخشا ہے کہ وہ ٹی وی پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان کو اپنی بپتا سناتے ہوئے اپنے بڑے بھائی سے شکایت کر سکیں:
”اٹک جیل سے اڈیالہ جیل تک میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہا، جلاوطنی کے دکھ ان کے ساتھ برداشت کئے، لیکن مجھے ان قربانیوں کے صلے میں کیا ملا؟“
ٹی وی چینل پر کی جانے والی شکایت کودرست تناظر میں دیکھاجائے، اس سوال کو سرسری انداز میں دیکھنے کی بجائے ان کے لب و لہجے میں چھپے کرب کو محسوس کیا جائے، ان کے چہرے کے تأثرات کو بھی دیکھا جائے، ان کی آنکھوں میں لہراتی بے تابی اور الوداعی لکیریں اپنے اندر ایک نیا پیغام لئے نظر آئیں گی۔ اس سے چند ماہ قبل انہوں نے کہا تھا مجھے ہاتھ جوڑنے پڑے،پاؤں پکڑنے پڑے تب بھی میں اپنے بھائی کو منالوں گا۔”جرگہ“ میں اپنی ناکامی کا اعتراف ہے۔انہیں یقین ہو گیاہے کہ ان کے بڑے بھائی ان کے مشوروں سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔انہوں نے نئے مشیر تلاش کر لئے ہیں۔راستے جدا ہو گئے ہیں۔ایک منزل نہیں رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں