خطے میں غیر یقینی صورت حال
کسی ملک میں 20سال تک لڑی جانے والی عالمی قوتوں کی جنگ کا خاتمہ ایک پیچیدہ عمل ہے،اس کے بارے میں یہ سمجھ لینا کہ بجلی کے آن آف بٹن کی طرح معاملات درست ہونا شروع ہو جائیں گے،خواہش تو ہو سکتی ہے مگر عملاً ایسا ممکن نہیں۔جن ملکوں کی اربوں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ڈوب جائے وہ بوریا بستر باندھ کر خاموشی سے یہ صدمہ برداشت نہیں کرتے،مکمل خسارے سے بچنے کے لئے تگ ودو جاری رکھتے ہیں۔افغانستان میں امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کے انخلاء کے مناظر انہی حقائق کی عکاسی کر رہے ہیں۔حملہ کرتے وقت حملہ آور افواج میں ایک ترتیب،ایک نظم،ڈسپلن، اور عزم جھلکتا ہے۔سراسیمگی اور افرا تفری اس ملک کی افواج اور عوام میں نظر آتی ہے جس پر اچانک یہ مصیبت نازل ہوتی ہے۔افغانستان کے امیر المومنین ملا عمر کا موٹر سائیکل پر سوار ہوکر کسی نامعلوم منز ل کی جانب روانگی کا منظر لوگو ں کو یاد ہوگا۔اس واقعے کو 20سال بیت گئے ہیں،
آج حملہ آور افواج پر خوف طاری ہے۔نہتے عوام کا ہجوم طیاروں کی طرف بڑھنے سے بھی ڈر جاتے ہیں، گولیاں برسانے لگتے ہیں۔دوسری جانب اپنے پالتو نان اسٹیٹ ایکٹرزسے ممکنہ خدمات لینے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ داعش خراسانی کوخاص مواقع اور خاص مقاصد کے لئے پال پوس کر خلیجی ریاستوں میں چنگیزی قہر بناکر اتارا گیاتھا۔نہتے شہریوں کے ہاتھ باندھ کر قطار میں بٹھانا اور تلواروں سے ان کے سرجداکر کے میناروں کی شکل دینا ایسی ہی تنظیموں کے سیاہ کارنامے ہیں۔ پھر تیل کنووں سے سستا تیل خرید کر بیرون ملک منتقل کرنا بھی زیادہ پرانے واقعات نہیں۔ روس نے وسائل کی لوٹ مار کے ایسے مناظر کی تصاویر وائرل کی تھیں، دنیا کے ذہن اور ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ لیکن اس سچائی کو نظرانداز کرنا بھی آسان نہیں کہ اس مرتبہ چند ہزار افغان شہریوں کے سوا کسی نے ہمسایہ ممالک جانے اور پناہ لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین 20سال قبل آئے تھے۔پاک افغان سرحد پر کوئی جم غفیر نہیں دیکھاگیا۔ معمولات زندگی میں کوئی خلل نہیں آیا۔کابل ایئر پورٹ پر خود کش حملہ غیر متوقع نہیں تھا، امریکی صدر جو بائیڈن پہلے ہی آگاہ تھے۔پس پردہ قوتیں بھی جلد ہی بے نقاب ہو جائیں گی۔ٹیکنالوجی تمام کردار سامنے لے آتی ہے۔لاکھوں امریکی فوجیوں کے انخلاء کے دوران درجن بھر فوجیوں کاحملے کی زد میں آناناقابل برداشت نقصان نہیں۔ دعا کی جائے:”اَللہ لواحقین کو صبر عطا فرمائے“۔لیکن اس موقع پر ان لاکھوں بے گناہ افغان شہریوں (بچوں، بچیوں،خواتین اور بوڑھے والدین) کو بھی یادرکھاجائے جو ڈرون حملوں اور دیگر کارروائیوں میں مارے گئے۔ دنیا بھرکے پر امن عوام کی ہمدردی ان افغان شہریوں کے ساتھ ہے جو تاریک راہوں میں زندگی سے محروم کئے گئے۔جنہیں چیتھڑوں کی صورت اسپتال منتقل کیا جاتا رہا۔دنیا جانتی ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ سانپ پالے،یہ نہیں سوچا کہ سانپ کا کام ڈسنا ہے۔دودھ پلانے والوں بھی نہیں بخشتا۔جو دانشور ہمسایہ ملک میں ایک مہذب، غیر ملکی یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے وزراء پر مشتمل حکومت کی تشکیل کے لئے بے چین ہیں، انہیں چاہیئے کہ یہ حقیقت یاد رکھیں کہ افغان طالبان روایتی الیکشن جیت کرحکومت تشکیل نہیں دے رہے، غیر ملکی افوج کو میدان جنگ میں شرمناک شکست سے دوچار کرنے کے بعد یہ معرکہ سرانجام دے رہے ہیں۔جنہیں میدان جنگ میں ہرایا ہے، انہیں وزارتیں دینا آسان کام نہیں۔اتنی بے صبری کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔مشکل اور پیچیدہ معاملات سدھارنے میں وقت درکار ہے،مناسب وقت دیا جانا چاہیئے۔حکومت بن جائے، تھوڑی مدت گزر جائے تب اس سے کارکردگی اور وعدوں کی تکمیل کا تقاضہ کیا جائے۔وعدے پورے نہ کئے جانے کی صورت میں ضروری اقدامات کا راستہ کھلا ہے،ساری دنیا دیکھ رہی ہے،فیصلہ کرنے میں آزاد ہے، حالات کے مطابق فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن حکومت سازی کا عمل مکمل ہوئے بغیر ہی یہ شور مچانا کہ ان کا رویہ پرانا رہے گا، یہ تبدیل نہیں ہوں گے، بربریت ان کا شعار ہے۔ سفاکیت اور بربریت ان کی سرشت میں شامل ہے۔سرشت کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ کابل ایئر پورٹ سے لوگوں کی بیرون ملک روانگی سے بھی یہی اشارا ملتا ہے کہ امریکہ بھی جلد از جلد کابل چھوڑنا چاہتا ہے۔جبکہ افغان طالبان کی منصوبہ بندی کے مطابق امریکیوں کے انخلاء کے بعد اپنی حکومت کا اعلان کرنا چاہتے ہیں۔اپنے اس ریصلے کے لئے وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہم آزاد افغانستان میں حکومت سازی پسند کریں گے۔امریکی حکام دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے داعش کی اڈوں پر ڈرون حملے کرکے اپنا بدلہ لے لیا ہے۔اگر امریکی دعووں کو سچ مان لیا جائے تو افغان طالبان کے لئے مزید آسانی پیدا ہو گئی ہے۔اور بچی کھچی داعش کا خاتمہ کرنے میں انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔آج دنیا کے پاس دو آپشن ہیں: اول یہ کہ اپنے شکوک کو اس صدی کا سب سے بڑ سچ مانیں اور یقین رکھیں کہ افغان طالبان 2001پر کھڑے ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اور نہ ہی تبدیلی آنے کے کوئی امکانات ہیں؛ دوسرا آپشن یہ ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے انسانی حقوق کا احترام کرنے، خواتین کو تعلیم اور کاروبار کی آزادی دینے کے حوالے سے کرائی جانے والی یقین دہانی پر اعتماد کریں، انہیں اپنے دعوے سچ ثابت کرنے کاموقع دیں۔ دعووں کے برعکس رویہ ہونے کی صورت میں جیسا چاہیں سلو ک کریں۔ابھی تک انہوں نے خواتین کی آمد و رفت اور پردے کے حوالے سے مکمل نرمی برتی ہے،کسی قسم کی سختی نظر نہیں آئی۔دنیا افغان طالبان کے ساتھ گزشتہ20برسوں میں جو کچھ کر سکتی تھی، کر چکی۔نتیجہ سب کے سامنے ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی کابل سے نکل گئے ہیں یا 31اگست تک انخلاء مکمل ہو جائے گا۔پاکستان نے بھی عبوری قیام کی سہولت فراہم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔تین ہفتے کا ویزہ جاری کیا جائے گا۔امریکی حکام کے بیانات سے بھی یہی تأثر مل رہا ہے کہ وہ سفارت روابط ختم نہیں کریں گے۔چین کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ایران بھی اس مرتبہ چین کے ساتھ کھڑا ہوگا۔دنیا پورے منظر پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔پاکستان نے ماضی کے برعکس محتاط رویہ اپنایا ہے۔اور افغان طالبان کے اقدامات سے افغان عوام میں بھی ماضی جیسا خوف دیکھنے میں نہیں آیا۔مناسب یہی ہے کہ دنیا”جیو اور جینے دو“ کی پالیسی اختیار کرے۔سب سکھ کا سانس لیں۔بھوک، بیماری اور افلاس سے چھٹکارہ حاصل کریں۔


