پاکستان کے خدشات دورکرنے کا عندیہ

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ایک سے زائد بار کہتے رہے ہیں کہ آئندہ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے افغان طالبان کسی تنظیم کو افغانستان کی زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے بھی ایسی ہی یقین دہانی کرائی جاتی رہی بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ ٹی ٹی ٹی پی نے امیر ملاہیبت اللہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اس لئے وہ اپنی بیعت کی پابندی کریں گے۔ مگر اس یقین دہانی کے باوجود کوئٹہ اور گوادر میں خود کش دھماکے ہوئے اور ان دھماکوں کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کی۔اب شیخ رشید بھی تولیم کر رہے ہیں کہ خودکش بمبار افغانستان سے آئے تھے۔گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں اب بھی افغانستان کی زمین ہمسایہ ملک میں دہشت گردی کے لئے استعمال کی جارہی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کی شکایت کے جواب میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے پاکستان کو جن معاملات پرتشویش ہے،وہ حل کئے جائیں گے۔ مسائل پیدا کرنے والوں سے اسی انداز میں نمٹیں جیسے پنجشیر والوں سے نمٹا گیا ہے۔یعنی انہیں سخت جواب دیا جائے گا،سخت کارروائی ہوگی۔ افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے محمد رستم مہمند کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات مزید بھی ہو سکتے ہیں۔اس کی وجہ پہلے سے آنے والے لوگ ہیں، جو اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی کوشش کریں گے لیکن رستم مہمند کا خیال ہے کہ حکومت سازی کے بعد ایسے واقعات میں کمی آئے گی۔کابینہ کا اعلان 11ستمبر تک متوقع ہے۔اس روز کی اپنی اہمیت ہے، امریکہ نے نائین الیون(11ستمبر2001) کو ٹریڈ ٹاور اور دیگر مقامات پر حملوں کو افغاستان پر حملے کا جواز بنایا تھا۔یہ تاریخ بھی زیادہ دور نہیں، دو دن بعد اعلان ہو جائے گا۔ یادرہے افغانستان گزشتہ چار دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔معمول کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں بھی بعض اوقات کابینہکا فوری اعلان نہیں کرتیں،جبکہ افغانستان کے حالات ناممکنات سے گزرے ہیں۔خارجہ پالیسی میں سی پیک میں اشتراک کی خواہش سے یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور داعش جیسی تنظیموں کو کام کرنے کی ماضی جیسی آزادی حاصل نہیں ہوگی۔چین اور روس اپنے مفادات کے خلاف افغانستان کو اقدامات سے روکیں گے۔دونوں ملک اپنے معاشی استحکام کے لئے سی پیک، ون بیلٹ ون روڈ کو جو اہمیت دیتے ہیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک آدھ امریکی سینیٹر کے بیان کے یہ معنے نہیں لئے جا سکتے کہ امریکہ اگلی صبح پورے فوجی سازو سامان اورپروٹوکول کے ساتھ واپس افغانستان پہنچ جائے گا۔اتنے بڑے یو ٹرن کا خواب دیکھا جا سکتا ہے، اس پر عمل ممکن نہیں۔احمد مسعود کے فرانس جانے کی خبروں میں اگر صداقت ہے توان کی جلد واپسی کے بارے کچھ کہنا آسان نہیں۔افغان طالبان کو کابل کے صدارتی محل تک رسائی میں طویل عرصہ لگا۔اگر افغان طالبان عملی طور پر دنیا کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے تو احمدمسعود کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ انہیں یہ پہلو نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے کہ وہ خراب ساکھ والے طالبان کا مقابلہ نہیں کر سکے، چند دنوں میں ”ناقابل تسخیر“ وادی پر طالبان کا قبضہ ہوگیا۔خطے کے طاقتور ملک چین اور روس طالبان حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، تعمیر اور ترقی کے اعلانات کر رہے ہیں۔ ترکی، اور ایران بھی ایسے ہی عزائم رکھتے ہیں۔جرمنی کی چانسلر میرکل کہہ رہی ہیں: طالبان کے ساتھ بات چیت ضروری ہے“۔ وہ سمجھتی ہیں کہ طالبان کا تقریباً پورے افغانستان پر کنٹرول ہے۔اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ بات چیت سے افغانستان میں رہ جانے والے افغانوں کو نکالنے میں مدد ملے گی۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کہتے ہیں:”افغان طالبان کو ان کے اقدامات سے جانچیں گے، الفاظ سے نہیں“۔ اسکے معنے یہی ہوتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کا رویہ دیکھ کر حتمی فیصلہ کریں گے۔طالبان کے اقدامات سامنے آنے میں ایک دو ہفتے لگیں گے،پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔طویل مسافت احمد مسعود اور ان کے ساتھیوں کو طے کرنی ہے۔افغان عوام کو اپنا حامی بنانا ہے۔انہیں قائل کرنا ہے کہ افغانستان کی تقسیم ہی واحد آپشن ہے۔ملک آسانی سے نہیں ٹوٹتے۔وار لارڈز اپنے چاروں طرف نظر گھمائیں، اگر وہ اتنے ہی بااثر ہوتے تو ملاعمر مدرسے کے طالبان کی مدد سے انہیں شکست نہیں دے سکتے تھے۔شام میں بشارالاسد کی حکومت ختم نہیں ہوئی۔یمن میں حوثی اپنے مقاصد میں تاحال ناکام ہیں۔ نہتے لوگوں کوقطار میں کھڑا کر کے قتل کر انا اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاناامریکہ کی ضرورت تھی۔ان کی مدد سے امریکہ اپنی پرانی پوزیشن برقرارنہیں رکھ سکا۔ پنجشیر پر طالبان کے حملوں کی مذمت صرف ایران نے کی ہے۔باقی دنیا خاموش ہے۔عملاً ایران بھی چین کے ساتھ ہے۔400ارب سے زائد کے سمجھوتوں کے بعد یہ سمجھنا کہ ایران پنجشیر کی وجہ سے چین کو چھوڑ دے گا، درست نہیں۔ہر ملک خواب دیکھ سکتا ہے، اس پر کچھ خرچ نہیں ہوتا،لیکن انفرادی خواب حقیقت نہیں ہوتے۔ اجتماعی خواب بھی کڑے امتحان سے گزرنے کے بعد تعبیر کا روپ دھارتے ہیں۔احمد مسعود اور ان کے قریبی ساتھی نے نعرہ بلند کیا ہے۔اصل فیصلہ عوام کریں گے۔آئر لینڈ کے عوام کی طرح جدوجہد درکار ہوگی۔اخلاقی، سیاسی اورآئینی مراحل طے کرنا ہوں گے۔چند روزہ مزاحمت سے دنیا کو ایسا پیغام نہیں مل سکا جو ملک کی تقسیم کی طرف پہلا قدم بن سکتا۔حقیقت پسندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں