’قانون کی نظر میں سب ایک ہیں‘ کی بازگشت

اگلے روز اسلام آباد میں ڈسڑکٹ کورٹس کی تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کرٹ جسٹس اطہر من اللہ اور وزیر اعظم پاکستان دونوں نے تسلیم کیا کہ قانون کی نظر میں کمزور اور طاقتور کی ایک ہی حیثیت ہونی چاہیے مگر بدقسمتی سے نہیں ہے۔یہاں طاقتور کے لئے ایک قانون ہے اور کمزور کے لئے دوسرا قانون ہے۔صوبائی سطح پر ہائی کورٹ اعلیٰ ترین عدالت ہے۔اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت اس لئے یہاں کی ہائی کورٹ کا مقام نفسیاتی طور پر دیگر ہائی کورٹس سے قدرے مختلف او رنمایا ں سمجھا جاتا ہے۔کچھ عرصہ قبل یہاں عدلیہ اور وکلاء کے درمیان دو بدو محاذ آرائی بھی ہوچکی ہے۔وکلاء کے چیمبرز فلاحی پلاٹ پر تعمیر کئے گئے تھے،سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل پر مسمار کردیئے گئے۔وکلاء کو یہ اقدام(قانونی ہونے کے باوجود) سخت ناگوار گزرا،انہوں نے انتقاماً ہائی کورٹ پر چڑھائی کردی، چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ کو گھنٹوں یرغمال بنائے رکھا۔اس دوران بقول چیف جسٹس وہ مشتعل وکلاء کے ہاتھوں مارے جانے (قتل ہونے) کے لئے ذہنی طور پرتیار تھے۔یعنی انہوں نے عدالت سے بھاگنا پسند نہیں کیا۔عام آدمی ٹی وی چینلز پر لمحہ بہ لمحہ کاروائی دیکھتے رہے۔اس بدنما واقعے سے پہلے بعض ججز کو ان کے چیمبر میں بند کرکے تالے میں ایلفی ڈالنے کے ایک سے زائد واقعات عوام دیکھ چکے تھے۔ایک خاتون جج کا چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام لکھا گیاشکایتوں بھرا خط بھی میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ چکا ہے۔جس میں خاتون جج نے لکھا تھا وکلاء کے ہاتھوں ذلت آمیز سہنے سے کہیں بہتر تھا کہ میں تعلیم حاصل نہ کرتی،گاؤں کی دیگر ان پڑھ عورتوں کی طرح دیواروں پر اپلے تھاپ کر زندگی گزار لیتی۔وکلاء کے ہاتھوں پولیس کو زدوکوب کرنے کے کئی واقعات میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔ عارضہئ قلب کے ایک اسپتال پر وکلاء کے منظم حملے،اور تھوڑ پھوڑ سمیت فائرنگ کے مناظر بھی عوام کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔وکلاء جب چاہتے ہیں عدالتوں میں نعرے بازی کرتے ہو داخل ہوتے ہیں،اور ہڑتال کے نام پر عدالتی کارروائی بند کرا دیتے ہیں۔سوال یہ ہے یہ ہلڑ بازی وکلاء کس قانون کے تحت کرتے ہیں؟اگر ان کے اس قسم کے اقدامات ان کا قانونی حق تھا تو عدالت کے طلب کرنے پر روپوش کیوں ہوجاتے ہیں؟اسلام آباد کی توڑ پھوڑ کے ذمہ دار متعدد وکلاء بھی تاحال عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ بار کونسل ان وکلاء کو جانتی ہے مگر عدالت سے تعاون نہیں کیا جارہا۔خودعدالت بھی واقف ہے، لیکن بعض مصلحتوں کی بناء پر نام بتانا نہیں چاہتی۔پولیس سمجھتی ہے جب وکلاء کے خلاف متأثرہ ججز فریق نہیں بن رہے،تو ہر دوسرے تیسرے ہفتے وکلاء کے ہاتھوں پٹنے والی پولیس اپنے سر پر یہ بوجھ کیوں اٹھائے؟یہ طویل داستان تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے عدالت صرف کمزور کو سزا دیتی ہے،طاقتور کو نہیں دیتی،ایک گھسا پٹا نعرہ ہے۔’پہلے بتایا جائے ”طاقتور“ سے مراد کون ہے؟“، آج ”طاقت ور“ کی تعریف قانون کی کسی کتاب میں درج نہیں۔اب میڈیا پر ایسی خبریں گشت کر رہی ہیں کہ حکومت، فوجداری،دیوانی اور دیگر شعبوں میں سینکڑوں ترامیم منظور کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ جب تک ”طاقتور“ اور”کمزور“ میں فرق قانون کی کتابوں میں واضح نہیں کیا جائے گا، کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔صرف سابق وزیر اعظم نواز شریف کو طاقتور کہا جاتا ہے۔اس لئے کہ انہیں سزا یافتہ ہونے کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت عدالت نے ذاتی مچلکے پر ضمانت منظور کر لی تھی۔ یادرہے ملزم کو پیش کرنے کی ذمہ داری ضامن قبول کرتا ہے،زیر بحث مقدمے میں اس کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی، کیا ضامن بھی ”طاقتور“ ہوتا ہے؟خرابی کہیں اور ہے، علاج کسی دوسری جگہ تجویز کیا جا رہا ہے،عام آدمی اپنی کم علمی کے باوجود اتنا شعور ضرور رکھتا ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے یا کرنے کاارادہ ظاہر کیا جارہا ہے، سب ”ٹوپی ڈرامہ“ لگتا ہے۔حکومت نے عدالتوں کے لئے خوبصورت عمارتیں تعمیر کرنے کے لئے سنگ بنیاد رکھ دیا ہے، یہ عمارت تعمیر ہو جائے گی۔اس میں ججز اور عملہ بھی بیٹھ جائے گا۔ لیکن کیا اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت دیگر عمارتیں کشادہ اور دیدہ زیب کمروں پر مشتمل نہیں۔ پھر چیف جسٹس کو گھنٹوں یرغمال بنانے کی وکلا کو جرأت کیسے ہوئی؟ پہلے اس یلغار کے سامنے بند باندھا جائے۔تاکہ ججز خود کو غیر محفوظ نہ سمجھیں۔ عدالت کے احاطہ میں ”طاقت“ استعمال کرنے پر صرف پولیس اہلکار ہی گرفتار کئے جائیں گے اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی تو یقین کیجئے کچھ نہیں بدلے گا۔لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے گھر بیٹھے ملزم کو ضمانت قبل از گرفتاری کے ساتھ یہ حکم جاری کرنا کہ ملزم کو گرفتاری سے 10روز پہلے بتایا جائے کہ چھاپہ کب مارا جائے گا؟سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکم قانون کے مطابق دیا گیا تھا؟اگر قانون کے مطابق نہیں تھا تو سپریم کورٹ یاسپریم جوڈیشل کونسل نے اس ”معززجج“کے خلاف غیر قانونی حکم دینے پر باز پرس کیوں نہیں کی؟خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ عام آدمی اپنے 74سالہ تجربے کی بنیاد پرجانتا ہے اصل خرابی اس خاموشی میں پنہاں ہے۔عام آدمی اس راز سے اس لئے واقف ہے کہ وہ ایک مقدمے میں 40سے50سال تک عدالت میں پیشیاں بھگت رہا ہے۔ہر پیشی پر اسے اپنے وکیل کے ناز اٹھانے پڑتے ہیں۔اس مدت کے دوران مظلوم کاکوئی پرسان حال نہیں۔سب ظالم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ Concurrent findingجیسے مقدمے میں اسٹے آرڈر پر بحث نہیں کی جاتی،مدعی کا ہر مطالبہ اس کی زبان سے نکلتے ہی مان لیاجاتا ہے۔واضح رہے ہائی کورٹ پہنچنے سے پہلے ماتحت عدالت میں یہ فریق مدعا علیہ کہلاتا ہے۔دو بار مقدمہ ہارنے کے بعد اس کی پوزیشن نہ جانے کیوں تبدیل ہو جاتی ہے۔ماضی کے مدعا علیہ کا نام اب مدعی بن جاتا ہے۔جبکہ یہی فریق طویل عرصے تک مدعاعلیہ کی حیثیت میں اصل مدعی کی حق تلفی کرتا ہے۔ ماتحت عدالتوں میں ہارنے کے باوجوداسے ہائیکورٹ میں 8/10سال مزید ظلم کرنے کیاجازت مل جاتی ہے۔اس خرابی کو دور کئے بغیر جتنی ترامیم کر لی جائیں، عدالتی نظام سدھر نہیں سکتا۔جج کو قانون کا پابند بنانے کی ضرورت ہے۔ جج فیصلہ اپنی رائے کے مطابق نہ لکھے بلکہ قانون کے مطابق لکھے۔جس جج کے تین فیصلے سپریم کورٹ مستردکر دے،اسے اپنی کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔جو فریق ایک مقدمہ سپریم کورٹ میں ہارجائے اسے دوسرے مقدمے میں بتایاجائے کہ دوسرا مقدمہ ہارنے کی صورت میں اس کے خلاف عدالت کا وقت ضائع کرنے کا مقدمہ چلے گا۔اور سپریم کورٹ میں تین مقدمے ہارنے والے وکیل کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔عدالتی نظام کے تمام گلے سڑے کینسر زدہ اجزاء الگ کئے جائیں ورنہ خرابی موجود رہے گی،جسٹس منیر اور جسٹس قیوم جیسے ججز نمودار ہوتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں