جی فائیودور میں حیران کن واقعات ہوں گے
ایک جانب ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا ٹیکنالوجی کے تیز رفتار ترین دور میں داخل ہو چکی ہے،پاکستان میں بھی آئندہ برس ”جی فائیو“ٹیکنالوجی کی سہولت دستیاب ہو جائے گی۔دنیا پہلے ہی سمٹ کر ہر شخص کی ہتھیلی پر آچکی ہے۔انگلی چھوتے ہی سیکنڈوں میں سات سمندر پار کے زندہ مناظر نظروں کے سامنے آجاتے ہیں۔تاریخ میں رونماہونے والے کئی دہائیاں پہلے کے واقعات ہوں یاآج کی تازہ خبر، آپ چلتے پھرتے دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں۔امریکہ کی طرف سے 1945میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے سے2021میں انتہائی بوکھلاہٹ کے عالم میں کابل سے اپنے فوجیوں کونکالنے تک جو چاہیں دیکھ سکتے ہیں۔اس دور میں سست روی درست نہیں۔آپ چاہیں تب بھی موئنجو داڑودور جیسی بیلوں کی جوڑی اور ہل کی مددسے کھیتوں میں کاشت کاری نہیں کرسکتے۔آپ کی اولاد روک دے گی۔فرسودہ آلات پیداوار کب کے متروک ہو چکے۔یاد رہے صرف آلات پیداوارتبدیل نہیں ہوئے،انہوں نے پیداوار رشتے بھی بدل دیئے ہیں، انسانی فکر کو بھی برق رفتار سے کام کرنا سکھا دیا ہے۔پاکستان دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ہمارے حکمرانوں (بیوروکریسی اور سیاست دانوں دونوں)نے گزشتہ چالیس پچاس برسوں میں پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ امریکی خواہش پر پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی بھرپورکوشش کی مگربوجوہ انہیں اپنے مقصد میں مکمل کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔(ڈیرہ بگٹی کی دویونین کونسلوں میں کئے گئے فراڈ کو یادرکھیں)۔ سب جانتے ہیں کہ دنیا میں پاکستان کی شناخت ایک زرعی ملک کی ہے۔ لیکن آج پاکستان لاکھوں گندم اور چینی بھی درآمد کر رہا ہے، ٹماٹر، پیاز اور آلو درآمد کرنے پر بھی مجبور ہے۔ بلوچستان میں مختصر وقفوں کے بعد قحط سالی کا دور آتا ہے۔کھیت اور باغ ویران ہو جاتے ہیں، بھیڑ بکریاں اور مال مویشی مر جاتے ہیں۔بلوچ عوام اپنے گھر بار چھوڑ کرنقل مکانی کرتے ہیں،مگر ان لالچی اور خود غرض حکمرانوں ڈیم بنانے کی سمت آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔میرانی ڈیم سمیت ایک آدھ ڈیم تعمیر ہوا بھی اس کو کھیتوں اور آبادیوں تک پہنچانے کے لئے پائپ لائن نہیں بچھائی گئی۔یہ مجرمانہ غفلت عوام دشمنی کے مترادف ہے۔نہیں ہونی چاہیئے تھی۔موجودہ اپوزیشن اس دوران برسرِ اقتدار رہی۔ اس کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ناتجربہ کار نالائق،اور نااہل ہے۔اس نے مہنگائی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔مگر 3سال میں اپنی تمام تر ذہانت، قابلیت اور سیاسی تجربے کے باوجود گرا نہیں سکی۔اسی انتظار میں ہے کہ اپنی کمزوریوں کے بوجھ سے خود ہی زمیں بوس ہو جائے گی۔ کہیں سے اس کان میں بھنک پڑ جاتی ہے کہ حکومت قبل از وقت انتخابات کے بارے سوچ رہی ہے، یہ سنتے ہی اپوزیشن کے چہروں پر رونق آجاتی ہے۔قائدین اپنے کارکنوں کو انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایات دینے لگتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ کنٹونمنٹ انتخابات میں بدترین اور سبق آموز شکست کے فوراً بعد حکومت ایسا احمقانہ فیصلہ کیوں کرے گی؟ اس سوال پر بھی غور نہیں کیا جاتاکہ مہنگائی میں کمر توڑ اضافے کے باوجود عوام اپوزیشن کے گرد جمع کیوں نہیں ہورہے؟پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن کو مضبوط بنانے کے لئے سوچ بچار کی بجائے پی پی پی کی قیادت کے خلاف مسلسل دشنام طرازی کرنے میں مصروف ہیں۔ نون لیگ کی قیادت پنجاب میں 51سیٹیں حاصل کرکے اس وہم میں مبتلا ہوگئی ہے کہ آئندہ انتخابات جیتنے اور وفاق سمیت پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ حالانکہ معروضی حالا ت اس کے برعکس اشارہ دے رہے ہیں۔ عدالتی موڈ تبدیل ہو چکا ہے۔ماڈل ٹاؤن جیسا حساس کیس کو فیصلے تک پہنچانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ نون لیگی وکلاء ابھی تک یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ انہیں تیاری کرنے کی ضرورت نہیں،فیصلہ ان کے مؤکل کے حق میں سنایا جائے گا۔وہ اور ان کے مؤکلین خوابوں سے باہر نہ نکلے اور مقدمے کی تیاری میں کوتاہی کی تو یاد رکھیں کہ یہ رویہ انہیں بند گلی میں لے جائے گا۔حکومت کیعلم میں کہ اس نے کب انتخابات کرانے ہیں؟اپوزیشن کے قائدین اور ان کے ہم خیال دانشور زندہ حقائق سے چشم پوشی کریں گے تو آنے والے دنوں میں خود دیکھ لیں گے کہ ٹھوس شواہد کو جھٹلانا کتنا مشکل کام ہے؟ ماورائے قانون فیصلہ سنانے والے ججز کی اکثریت ریٹائر ہو چکی ہے۔اور جن ججز کی مدت ملازمت 2023کے بعدبھی جاری رہنے کی توقع کی جا رہی ہے وہ بعض قانونی الجھنوں اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔ عام آدمی بھی نجی محفلوں میں پاکستان میں رونما ہونے والی متوقع اورغیر متوقع تبدیلیوں پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔یہ ذرائع ابلاغ کے اثرات ہیں،عام آدمی کے پاس واٹس ایپ اور فرصت دونوں ہیں۔روایتی میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا بھی عام آدمی کی سیاسی تربیت میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔سوشل میڈیا عوام کو دکھا رہا ہے کہ لندن میں مقیم ایک 16برس کے باہمت شایان علی نامی نوجوان نے برطانوی پارلیمنٹ کے باہر اور اندر منی لانڈرنگ میں ملوث بعض صف اول کے سیاستدانوں (لندن میں رہائش پذیر)کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ سوشل میڈیا لمحہ بہ لمحہ مہم کی پیش رفت باقاعدگی سے دنیا بھر میں پہنچا رہا ہے۔وکلاء کو چاہیئے کہ دنیا بھر کی معلومات سامنے رکھیں تاکہ عدالت کے سوالوں کا جواب دے سکیں۔بغیر تیاری مقدمات کی پیروی آئندہ نقصان دہ ثابت ہو گی۔وقت کے تقاضے بدل جائیں تو دانشمندی سے کام لیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف 39 شرائط کے مطابق کی جانے والی قانون سازی پرعمل بھی کرائے گا۔منی لانڈرنگ سر فہرست جرم ہے۔عدالتوں سے بیجا نرمی کی آس لگانا درست نہیں۔عام آدمی نے فائیو جی ٹیکنالوجی کی فیوض و برکات سے مستفید ہونا سیکھ لیا ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ اب 60اور70کی دہائی والا پاکستان نہیں رہا۔پاکستان معروف کمپنیوں کے(میڈ ان پاکستان) اسمارٹ فون برآمد کرنے لگا ہے۔تب ٹی وی بھی پارکوں میں حکومت دکھایا کرتی تھی جو 9بجے کے خبرنامے کا ساتھ ہی بند ہو جاتا تھا۔اب سینکڑوں چینل 24گھنٹے ہر گھر میں دیکھے جا رہے ہیں۔ ہر پاکستانی بالخصوص نوجوان دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہے، اسے بیوقوف بنانا آسان نہیں۔سچ چھپانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام سے کہہ رہے ہیں 3برسوں میں امریکہ ختم ہو جائے گا۔یہ اہم پیشگوئی پاکستان یا بھارت کے نجومی نہیں کرہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا تجزیہ ہے۔اس کے باوجود سابق امریکی صدر2024کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بھی پرعزم ہیں!!!


