فیصلہ اسمبلی کے فلور پر ہونا چاہیے

بی اے پی کے 14”ناراض“اراکین نے اپنے دستخطوں کے ساتھ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد پریس کانفرنس کے توسط سے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو اسمبلی میں اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں رہا اس لئے فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔اس قرارداد سے پہلے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے23اراکین کے دستخطوں کے ساتھ تحریک عدم اعتماد پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔اراکینِ اسمبلی کے دستخطوں کا شمار کیا جائے تو 65کے ایوان میں 37اراکین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے چنانچہ وہ اکثریت کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔لیکن وزیر اعلیٰ تا حال مستعفی نہیں ہوئے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ایوان میں انہیں اکثریت کا اعتماد حاصل ہے۔مستعفی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ عدم اعتماد اسمبلی کے فلور پر نہیں کیا گیا۔جب تک ”ناراض“اور متحدہ اپوزیشن کے معزز اراکین عدم اعتماد کا اظہار اس مقصد کے لئے بلائے گئے اسمبلی کے مخصوص اجلاس میں حاضر ہوکر عدم اعتماد کا اظہار نہیں کریں گے وزیر اعلیٰ کا دعویٰ سچ مانا جائے گا۔ دستخط کرنے والے 37 اراکین اس قانونی تقاضے سے باخبر ہیں مگر اسے پورا کئے بغیر چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے لئے اجلاس میں حاضر ہوئے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں۔وزیر اعلیٰ جام کمال خان اس رویئے کو”بلیک میلنگ“ کہہ رہے ہیں۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے والے 37میں سے کم از کم33اراکین کواسمبلی کے فلور پر اجلاس میں اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنا ہوگا۔ یہ کام ماضی کے تجربات کی روشنی میں مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اسمبلی کے فلور پر عدم اعتماد کا با آوازِ بلنداظہار کئے جانے کے باوجود سینیٹ کے چیئرمین اپنے عہدے پر موجود ہیں اور اپنے فرائضِ منصبی اد ا کر رہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معزز اراکین اسمبلی خفیہ رائے شماری میں مطلوبہ تعداد ثابت نہیں کر سکے تھے۔بعض اراکین کو یہ علم نہیں تھا کہ الیکشن کمیشن کی فراہم کردہ ”مہر“ بیلٹ پیپر کے کون سے مقام پر ثبت کرنی تھی۔اوردیگر معزز رکن یہ نہیں جانتے تھے کہ بیلٹ پیپر پر اپنے دستخط کر دیئے جائیں تو ”ووٹ“ضائع ہوجاتا ہے، گنتی میں شمار نہیں کیا جاتا۔ پے درپے رونما ہونے والے واقعات کے بعدیوں لگتا ہے کہ ”ناراض“ اراکین کو خدشہ ہے کہ کسی وجہ سے اسمبلی کے فلور پر مطلوبہ تعداد(کم از کم33)والی شرط پوری نہ ہو۔کوئی سے”پانچ“ اراکین کچھ بھی کرسکتے ہیں۔انسان ہیں بیمار ہوسکتے ہیں، کوئی خاندانی مصروفیت اسمبلی نہ آنے کا عذر بن سکتی ہے۔اور اگر اسمبلی میں موجود ہوں اور عین آخری لمحے ان کا ”ضمیر“ جاگ جائے اور وہ وزیر اعلیٰ پر عدم اعتماد نہ کریں تب بھی وزیر اعلیٰ کو اکثریت کا اعتماد حاصل رہے گا۔یہ خدشہ نہ ہوتا تو ناراض اراکین کو بار بار پریس کانفرنس بلانے اور وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے کا گراں قدر مشورہ دینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی۔عارضی صلح کے محرکات میں بھی یہی خدشہ شامل تھا۔ سیاست دان اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ان کی زبان پر یہ جملہ ہروقت رہتا ہے یا آسکتا ہے:”میں نے اپنا قانونی حق اپنے ضمیر کے مطابق آزادانہ طور پر استعمال کیا ہے،میں یہ نہ کرتا تو اور کیا کرتا؟“۔ساراقصور ”ضمیر“ کا ہے جس کے سونے جاگنے کے اوقات آئین اور قانون میں درج نہیں۔ یاد رہے کوئی سیاست دان نجومی نہیں ہوتا کہ اسے پہلے ہی علم ہوجائے کہ وہ کس روزاپنے گھر کی سیڑھیوں سے پھسل کر ”زخمی“ہوجائے گا یا اس کی کمر کا درد بڑھ جائے گا، ڈاکٹر اسے آرام کا مشورہ، اور چلنے پھرنے سے منع کر دیں گے۔ بشری کمزوریاں سب کے ساتھ ہیں۔ابھی تک ایسی قانون سازی نہیں ہوئی کہ عدم اعتماد کا اظہار کوئی رکن ویڈیو لنک کے ذریعے کر سکے، اس کی اصالتاً حاضری اور خفیہ رائے دہی دونوں لازم ہیں۔دراصل اعتماد کا فقدان ہی سیاستدانوں کا مستقل روگ ہے۔”ہارس ٹریڈنگ“ کا مسئلہ بھی سیاست میں موجود ہے۔نوٹ دینے والا بھی اپنے اطمینان کے لئے ”ویڈیو“ بنانا ضروری سمجھتا ہے تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے۔متعدد ویڈیوز میڈیا کے سامنے آچکی ہیں۔ لیکن سب نوٹ لینے دینے والی نہیں،ان میں سے بعض نیم نازیبا ہیں، ان کا ایک حصہ نازیبا مگر دوسرا حصہ اعترافِ جرم کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔، متعلقہ فرد اعترافِ جرم کرتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا اس پر سخت نادم ہے۔تاہم قانونی ماہرین کا خیال ہے جب تک ایسی ویڈیوز کی فارنزک رپورٹ نہیں آتی،انہیں قانونی حیثیت نہیں مل سکتی۔اور فارنزک رپورٹ اس وقت تک نہیں آ سکتی جب تک متنازعہ ویڈیوز پیش کرنے والے افرادعدلیہ سے تعاون نہیں کرتے۔عدل کی کنجی ملزمان نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، عدالت کے حوالے کرنے کو تیار نہیں۔عجیب اتفاق ہے کہ تمام نازیبا ویڈیوز قابلِ اعتماد ہیں، کہیں سے ان کے مشکوک ہونے کی شکایت تاحال موصول نہیں ہوئی۔یہ بھی سچ ہے کہ سیاست دان کوئی فرشتہ نہیں ہوتا، سر تا پاانسان ہوتا ہے، اور سب جانتے اور مانتے ہیں: ”انسان خطا کا پتلا ہے“۔ فرشتے صرف عام انتخابات(ہر پانچ سال بعد) میں ووٹ ڈالنے آتے ہیں۔البتہ ضمنی انتخابات فرشتوں کے بغیر ہی منعقد کرا لئے جاتے ہیں۔یہ شکایت امریکہ جیسے ملک میں بھی نومبر2020 میں دنیا کا سب سے پرانا جمہوری ملک ہونے کے باوجود سنی گئی۔ڈونلڈ ٹرمپ تا حال اپنی دھاندلی والی شکایت پر قائم ہیں، اپنے حریف جو بائیڈن(موجودہ امریکی صدر) کی جیت اور اپنی ہار تسلیم نہیں کرتے۔ان کے بارے میں بیشتر امریکی یقین رکھتے ہیں کہ اگر آئندہ انتخابات تک زندگی نے وفا کی اور صحت نے اجازت دی تووہ صدارتی امیدوار ہوں گے۔مگرعمر کے جس حصے میں پہنچ چکے ہیں دونوں شرائط میں سے کسی ایک کے ختم ہوجانے کے امکانات موجود رہیں گے۔دوسری بار تحریک عدم پیش کئے جانے کے بعد توقع ہے کہ اسمبلی کا اجلاس جلد ہی طلب کر لیا جائے گا۔یہ سسپنس اجلاس کی کارروائی کے اختتام کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔جس گروپ کے پاس کم از کم 33ووٹرز کی حمایت ہوگی، اس کا وزیر اعلیٰ آئندہ 22 مہینے تک چین سے حکومت کر سکے گا۔ پاکستان میں سیاسی پیش گوئی آسان نہیں،ہر بار ایک نیا فارمولا سامنے آتا ہے،عقل دنگ رہ جاتی ہے۔سیاسی پیش گوئی منہ چھپائے کسی کونے میں اس وقت کو کوس رہی ہوتی ہے جب منظر عام پر آئی تھی۔معجزات اور کرامات کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ وہ محیرالعقول ہوتے ہیں۔ ماورائے عقل ہوتے ہیں۔شعبدہ بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں