عوام پر مزید مہنگائی کا بوجھ

حکومتی اعلانات اور طفل تسلیوں کے باوجود تیل، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اور ہوش ربا اضافہ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے کیونکہ ان بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے اشیائے خوردونوش کی ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے جمعہ کے روز بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 39 پیسے فی یونٹ بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ اس بات کاخطرہ موجود ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا جائے گا۔ اس سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آجائے گا۔ چینی، آٹا اور گیس کی قیمتیں پہلے سے آسمان پر ہیں لیکن حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ان کے مسائل میں اضافہ کررہی ہے۔ ادھر وزیر خزانہ شوکت عزیز نے آئی ایم ایف سے طویل مذاکرات کئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایم مزید 2کھرب سے زائد ٹیکس لگانے کی شرط پیش کی ہے۔اگر ٹیکسوں کا یہ پہاڑ جتنا بوجھ عوام پر پڑا تو وہ اسے برداشت نہیں کرپائیں گے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکامی، تیل، گیس اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور ایسے بلند و بانگ دعوؤں نے حکومت کی پوری قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور عوام جان چکے ہیں کہ ملک میں مثبت تبدیلی تو نہیں آئی البتہ ہر طرف تباہی ہی تباہی دیکھنے میں آرہی ہے۔ حکومتی اقدامات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ عوام کے مسائل سے آگاہ نہیں ہے اور نہ ہی اسے عوامی مسائل پر کسی قسم کی فکر لاحق ہے۔ کبھی کبھی یہ گمان بھی گزرتا ہے کہ موجودہ حکومت ملکی معیشت، سماجی اقدار اور سیاسی روایات کو نقصان پہنچانے آئی ہے۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے یا تو آئندہ انتخابات میں جانا نہیں ہے یا وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ اتنی خراب کارکردگی کے باوجود بھی عوام دوبارہ اس کا انتخاب کریں گے۔ حکومت کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ اس نے 3سال میں 40ارب ڈالر کے نئے قرضے لئے ہیں اگر کل کوئی تبدیلی آئے گی تو لازمی طور پر اس حکومت سے پوچھا جائے گا کہ اتنی بڑی رقم کیسے اور کہاں خرچ ہوئی۔ ایسے بھی چینی، آٹا، ایل این جی اور دیگر معاملات کے بڑے بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں اگر سابق حکمران قید و بند کی سزا بھگت رہے ہیں تو لازمی طور پر موجودہ حکومت کا بھی احتساب ہوگا۔ مقام افسوس ہے کہ کسی بھی شعبے میں کسی قسم کی بہتری نہیں آئی ہے۔ بلکہ طرف تباہی ہی تباہی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت سوا تین سال کی مدت پوری کرچکی ہے جبکہ انتخابات سے 90روز قبل نگران حکومت بنتی ہے۔ اس لحاظ سے حکومت کے پاس تقریباً سوا سال کی مدت باقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مدت میں وہ کیا جادو دکھائیں گے کہ عوام دوبارہ اس پر اعتماد کریں۔ یقیناعوام بیزار آچکے ہین اور وہ آئندہ انتخابات میں ضرور دیگر جماعتوں کو کامیابی کا موقع دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں