افغان جنرل نے کہا کہ امریکہ نے ہم سے غداری کی دھوکہ دیا

تحریر: امان اللہ شادیزئی
گزشتہ سے پیوستہ
ویت نام کے بعد امریکی استعمار کو دوسری بڑی شکست ہوئی ہے اور طالبان فاتحہ بن کر ابھرے ہیں، امریکہ اور یورپ صدمہ میں ہے، کہ یہ کیسے ہو گیامسلح فوجی قوت بھی رکھتی ہے اور جدید وسائل کی حامل قوت بھی ہے، اور نیٹو تو اس وحشیانہ جنگ میں امریکہ کے ہم رکاب تھی ان سب کو طالبان کے ہاتھوں تاریخی شکست سے دوچار ہونا پڑا،یہ بھی قوتوں کے نزدیک زہنی صدمہ اور ہیجان انگیز صدمہ ہے، طالبان کی فتح ان کو ناگوار گزر رہی ہے، اور کچھ دیکھنا چاہ رہے ہیں، لیکن بات بن نہیں رہی ہے، ابھی امریکہ شکست کے صدمے میں ہے، اس سے تعزیت ہی کی جا سکتی ہے، پاکستان میں دو قسم کے دانشورتھے جو اپنے قلم کا جادو دیکھا رہے تھے ان میں ایک حصہ دانشوروں کاوہ تھا جو روسی کیمپ میں کھڑے تھے اور دوسرا حصہ امریکی کیمپ میں قلم سمبھالے کھڑا تھا سراب کے پیچھے دوڑ رہا تھا، افغانستان میں جب نور محمد ترہ کئی کے سایہ میں کمیونسٹ افغانستان تبدیل ہو گیا تھا اور یہ دانشور پاکستان کو بکھرتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور قوم پرست دانشور مختلف خطے وجود میں دیکھ رہے تھے اس موقع پر دو بڑی اہم شخصیات کا حوالہ دینا چاہوں گا، یہ اس دور کی بات ہے جب سویت یونین افغانستان میں اپنی سرخ فوج کیساتھ موجود تھا اور افغان مجاہدین سرخ فوج سے بڑی قوت سے مزاحمت کر رہے تھے اور جہاد کا علم بلند کئے ہوئے تھے اور سویت یونین کی سرخ فوج کو ناقابل شکست تسلیم کرتے تھے بلکہ انہیں یقین تھا پوری دنیا میں کمیونسٹ راج ہو جائیگا، اور سرمایہ داری کا بستر لپیٹ دیا جائیگا، اس موقع پر ایک حوالہ مرحوم غوث بخش بزنجو کا اور دوسرا حوالہ نواب محمد اکبر خان بگٹی کا دینا چاہتا ہوں کتاب
pakistan the indian Factor rajedta sareen 1984
مرحوم بزنجو نے صاحب کتاب کو 1982ء 7اپریک کو انٹرویو دیا ایک سوال کے جواب میں یو ں کہا
The Soivt union could Never permiT a goverment There Wich worked against its intersts.You Can not thorow tham out by force you can not defet them through war ar by sending sabotaress you can not defete the red armi.Its is utter foolish ness you thnk in that stran.It can only creat more beternes.
نواب بگٹی شہید قوم پرست لیڈر تھے لیکن کمیونسٹ نہیں تھے ایک لحاظ سے وہ آزاد خیال شخصیت تھی
انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا
if you expect the west to evict the russion from there undo the ervolution that can be start roul edout tha situation in afghanistan as loard carrington ssad “is irrevsable “page 47
یہ حوالہ ماضی میں افغانستان کے حوالے سے تھے تاکہ آج کی نوجوان نسل کو ماضی سے آگاہی حاصل ہو سکے اور تاریخ کے اوراق میں مثبت ہے کہ سرخ سامراج کو افغانستان کی سرزمین پر بدترین شکست ہو گئی، اور اب امریکہ نے ناقابل یقین شکست تھ ہے اوربعض لکھنے والوں کو بھی یقین نہیں آرہا ہے، کہ امریکہ نے طالبان کے ہاتھوں بدترین شکست کھائی ہے سابقہ لیفٹ کے لکھاری امریکہ سے امیدا باندھے ہوئے تھے، انہیں بھی بڑا صدمہ ہوا ہے، اور شکستہ دنیا نے دیکھا امریکہ بھاگ رہا تھا اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا امریکی شکست کھائے گا تاویلیں کر کے دل کو تسلی دے رہے ہیں، امریکہ شکست کھائے گا، انہیں یقین نہیں آرہا ہے اب ان کیلئے کوئی کیمپ موجود نہیں ہے اب ان دانشوروں اور سیاسی دانشوروں کیلئے کوئی کیمپ موجود نہیں ہے۔ان تمام دانشوروں کیلئے تو بہتر ہوتا کہ وہ افغان جنرل کی طرح کھل کر اعتراف کر تے کہ امریکہ نے ہمیں دھوکہ دیا یا طالبان مخالف کیمپ میں ان کیلئے صرف جگہ امریکی کیمپ رہ گیا تھا وہ بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر بھاگ گیا
ان کو تایخ فراموش نہ کر سکے گی یہ انہوں نے امریکہ اور نیٹو کی جدید فوجی قوت کو شکست فاش دی ہے، امریکی کیمپ میں سکتہ طاری ہے،
ہم جب بھی افغانستان کی تاریک کا ذکر کرینگے تو ماضی کے حالت اور تجزیہ کو فراموش نہ کر سکیں گے، اس کے بغیر تاریخ ادھوری رہے گی ہم یہ تجزیہ اس حوالے سے کر رہے ہیں کہ افغانستان کے آرمی لیفٹنٹ جنرل سمعی سادات سے کھل کر اپنا اظہار کیا ہے اور امریکہ کی منافقت کا پردہ چاک کیا ہے اور کچھ حوالے قوم پرستوں کے بھی دیتے ہیں، تاکہ ماضی نظر میں رہے اور اوجھل نہ ہو جائے، اتنے جنرل کے احساست اور خیالت کا تجزیہ کریں اور دیکھیں کہ اس نے امریکی فوج اور انتظامیہ کو کس طرح دیکھا ہے، اور دل کی بات دکھا دی ہے وہ تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں
جنرل نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا۔
گزشتہ ساڑے تین ماہ سے جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کی انتہائی خون ریز اور دم بہ دم بڑھتی ہوئی یلغار کے خلاف دن رات لڑتا ہوں اس دوران ہمیں ڈھنگ سے سائنس لینے کا موقع بھی نہیں ملا۔ہم کئی بار طالبان کے حملوں کی زد میں آئے مگر پھر بھی ہم نے انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا اور بہت بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے دو چار کیا۔اس کے بعد مجھے افغانستان کی اسپیشل فورسز کی قیادت کے لئے دارالحکومت کابل بلایا گیا۔مگر طالبان شہر میں داخل ہورہے تھے یعنی بہت دیر ہوچکی تھی جب امریکہ صدر بائیڈن نے کہا میں تھک چکا ہوں میرے حواس قابو میں نہیں تو لمحے امریکی صدر بائیڈن نے ان الفاظ نے شدید رنج پہنچایا کہ امریکہ فوجیوں کو ایک ایسی جنگ لڑ کر جان نہیں دینی چاہیے جو خود افغان فورسز بھی لڑنا نہیں چاہتی ہیں۔جنرل سمیع سادات نے کہا یہ حقیقت نا قابل تردید ہے کہ افغان فوج لڑنے کا عزم کھو چکی تھی مگر یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ہم نے جس پر احساس بھی بہت شدت کے ساتھ پروان چڑھا کہ ہمارے امریکہ شراکت داروں نے ہمیں چھوڑ دیا ہے چند ماہ کے دوران امریکی صدر کے الفاظ سے ہمارے لئے شدید عد م احترام جھلکا ہے اور وفا داری بھی کہیں دکھائی نہیں دی۔افغان فوج کو مکمل طور پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس کے بھی مسائل ہے جن میں اقراء پروری،کرپشن اور بیورو کرسی نمایاں ہیں مگر ہم نے لڑنا نہیں اس وقت چھوڑا جب ہمارے شراکت داروں نے لڑنا چھوڑ دیا۔
امریکی صدر اور یورپی یونین قائدین افغان قومی فوج کے ناکام ہوجانے کی باتیں کر کے مجھے اور دوسرے بہت سے لوگوں کو شدید دکھ پہنچا دیئے ہیں کیونکہ اس صورت حال کے اسباب کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا جارہا۔واشنگٹن اور کابل کے درمیان سیاسی تقسیم نے افغان فوج کو الجھنوں سے دوچار کردیا اور ہم اپنے حصے کا کام ڈھنگ سے کرنے کے قابل نہ ہوسکے۔امریکہ کئی سال سے ہمیں لڑائی کے میدان میں لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا رہا تھا یہ لاجسٹک سپورٹ روک دی گئی تو ہم مفلوج ہوگئے امریکہ اور افغان قیادت نے ہماری معقول راہ نمائی بھی نہیں کی۔
میں افغان فوج میں تھری اسٹار جنرل ہوں 11ماہ تک 15ہزار فوجی جنوب مغربی افغانستان میں طالبان سے نبردآزما رہے میں نے اس طرح کی لڑائی میں اپنے سینکڑوں افسران اور سپاہی کھو دیئے۔یہی سبب ہے کہ میں تھکن سے چور اور غدرے منتشر خیال فرد کی حیثیت سے عملی تناظر پیش کر کے اتفاق فوج کے وقار کی کوشش کررہا ہوں میں یہ سب کچھ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ میں افغان فوج کو تمام کاتاہیوں اور خرابیوں سے بری الذمہ قرار دینا چاہتا ہوں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سوں پوری شان و قار سے اپنے حصے کا کام کیا ہے یعنی میدان میں ڈتے رہے مگر امریکیوں اور افغان قیادت نے ہمیں دھوکہ دیا۔
اگست کے دوران جب ہم جنوبی افغانستان کے شہر لشکر گاہ پر طالبان کو قابض ہونے سے روکنے کی کوشش میں خاصی سے جگری سے لڑ رہے تھے تب افغان صدر اشرف غنی نے اسپیشل فورسز کی قیادت کے لئے میرا نام تجویز کیا میں نے خاصہ ہچکچاہٹ کے ساتھ اپنے ساتھیوں کو وہی چھوڑا اور 15اگست کو کابل پہنچا۔میں لڑنے کے لئے تیار تھا مگر مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ صورت حال اتنی خرب ہوچکی ہے۔صدر اشرف غنی نے مجھے کابل میں سیکورٹی کو یقینی بنانے کا ٹاسک دیا تھا مجھے اس حوالے سے کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا کیونکہ طالبان شہر میں داخل ہورہے تھے اور اشرف غنی ملک سے فرار ہوچکے تھے۔
یہ احساس اب بھی غیر معمولی شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے کہ ہمیں بری طرح دھوکہ دیا گیا ہے اشرف غنی جس عجلت کے ساتھ فرار ہوئے ہیں اس سے انتقال اقتدار کے حوالے سے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے مذاکرات کی راہ مسدود ہوگئی اگر کچھ ایسا ہوا تو انخلاء کے عمل میں اتنی بڑھ بونگ رہائی نہ دی ہوتی نظم وضبط یقینی بنانے کی کوشش ہی نہیں لی گئی یہی سبب ہے کہ انتشار پھیلا اور کابل ائیر پورٹ پر دل خراش ار دل دھلانے والا مناظر کو بنیاد بنا کر امریکہ صدر جوبائیڈن نے16اگست کو قوم سے خطاب میں کہا کہ افغان فوج مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور یہ کہیں کہیں تو برائے نام بھی لڑائی نہیں ہوئی حقیقت یہ ہے کہ ہم آخر تک غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20سالوں کے دوران ہم نے 60ہزارفوجی کھو دیئے یہ پوری قوم کا کم وبیش 20فیصد ہے۔سوال یہ ہے کہ افغان فوج کیوں ناکام ہوئی اس کے 3جواب ہیں۔(جاری ہے)
(نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں