بلوچستان یونیورسٹی ہاسٹل سے طلباء کو جبری طور پر لاپتہ کرنا قابل مزمت ہیں, نیشنل پارٹی

نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و ضلعی صدر کوئٹہ حاجی عطاء محمد بنگلزئی اور نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار نے بلوچستان یونیورسٹی میں طلبا کی بازیابی اور تحفظ کے لیئے طلباء تنظیموں کی جانب سے جاری دھرنے میں گفتگو کرتے ہوئے احتجاج کی بھر پور حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے ہوسٹل سے گزشتہ دنوں دو طالبعلموں کے لاپتہ ہونا لمحہ فکریہ ہے سینکڑوں سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں طلبا کا ہوسٹل سے جبری لاپتہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی سمیت بلوچستان بھر سے طالبعلم آئے روز جبری طور پر لاپتہ ہورہے ہیں گزشتہ دنوں نوشکی سے کوئٹہ آتے ہوئے بھی بلوچستان یونیورسٹی کے دو طالبعلم جو آپس میں کزن ہیں لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اس عمل سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لوگ تعلیمی اداروں سے اپنے نوجوانوں کو دور رکھ رہیے ہیں جو بلوچستان کے مستقبل کے لیئے نیک شگون نہیں ہے۔ پارٹی نے طلبا کے تحفظ کے لیئے بلوچستان یونیورسٹی میں مشترکہ طلبا احتجاج کی بھرپور حمایت کی ہیے اور مطالبہ کرتا ہیے کہ یونیورسٹی طلبا سمیت تمام لاپتہ افراد کو فی الفور بازیاب کیا جائے طلبا یونینز پر عائد پابندی ختم کی جائے اور بلوچستان کا مسئلہ گفت و شنید سے حل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں