عالمی برادری کی ذمہ داری ہے افغان عوام کی مدد کر ے،عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی برادری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان عوام کی مدد کریں تا کہ وہ امن و استحکام کے ماحول میں رہ سکیں،دنیا افغانستان کی ہنگامی صورتحال کا نوٹس لے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ممکن مدد کے لیے اقدامات اٹھائے۔ وزیر اعظم نے قومی سلامتی مشیر کو افغانستان کا دورہ کرنے اور وفود کی سطح پر افغان حکام سے امداد کے حوالے سے مذاکرات کرنے کی ہدایت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کے لیے خصوصی طور پر قائم بین الوزارتی رابطہ سیل کا دورہ کیا اور افغانستان کے لئے قائم ایپیکس کمیٹی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ شوکت فیاض ترین، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف اور اعلی حکام شریک تھے۔ قومی سلامتی مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے ایپیکس کمیٹی کو افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں انسانی ہمدردی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹننے کے لیے افغانستان کے لیے 5 ارب روپے کی امدادی پیکیج کی منظوری دیدی گئی۔امدادی اشیاء میں 50ہزار میٹرک ٹن گندم، ادویات و میڈیکل سامان اور سردیوں کے لیے سامان شامل ہے۔ افغانستان سے پاکستان اہم درآمدات پر سیل ٹیکس میں کمی کی اصولی منظوری بھی دید ی گئی۔ وزیر اعظم کا اس موقع پر کہناتھا کہ پاکستان کی سرحدوں سے داخل ہونے والے تمام افغانی باشندوں کے لیے مفت COVID-19 ویکسینیشن جاری رہے گی۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وزیر اعظم نے افغانستان کے لیے ہندوستان کی طرف سے 50 ہزار میٹرک ٹن امدادی گندم جو کہ پاکستان سے گزر کر جانی ہے، کی راہداری کی اجازت دی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ علاج معالجے کے لیے ہندوستان میں پھنسے ہوئے افغانیوں کی پاکستان کے راستے وطن واپسی میں مدد کی جائے۔ اجلاس میں افغانیوں کی سہولت کے لیے پاکستانی ویزا کے حصول کو آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ تین ہفتوں کے اندر اجرا کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعظم نے افغانستان کی امداد کے لیے اقدامات اور بارڈر مینیجمنٹ کی ستائش اور اطمینان کا اظہار کیا۔عمران خان نے افغان باشندوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ پشاور تا جلال آباد بس سروس کی بحالی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا بارڈرز پر تعینات اہلکاروں کی استعداد کار بڑھائی جائے اور سرحدوں کی صوابدیدی بندش نا کی جائے۔ ایپیکس کمیٹی نے افغانستان میں ہنگامی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت پاکستان افغان باشندوں کی مدد کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی۔ وزیر اعظم کا کہناتھا افغان بہادر ترین قوم ہے جنہوں نے مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ سالوں کے تنازعات کے بعد بین الاقوامی برادری پر زمہ داری عائد ہوتی ہے کے وہ افغان عوام کی مدد کریں تا کہ وہ امن و استحکام کے ماحول میں رہ سکیں۔ دنیا افغانستان کی ہنگامی صورتحال کا نوٹس لے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہر ممکن مدد کے لیے اقدامات اٹھائے۔ وزیر اعظم نے قومی سلامتی مشیر کو ہدایت کی کہ وہ افغانستان دورہ کر یں اور وفود کی سطح پر افغان حکام سے امداد کے حوالے سے مذاکرات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں