جاوید جبار کی نامزدگی غیر قانونی،ہمیشہ سے سلیکٹڈ اورنابلد لوگ ہی بلوچستان کی نمائندگی کی ہے، بی این پی

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ 10 ویں این ایف سی ایوارڈ کے لئے تکنیکی رکن کی نامزدگی کی بجائے دانشور، ادیب کو نامزد کرنا بلوچستان کے ساتھ صریحاً زیادتی ہے اور محکمہ خزانہ سمیت کسی کو بھی اس بارے میں علم نہیں جس پر تمام سیاسی، سماجی حلقے حیران ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کو ماضی کی روایات کی طرح ایک بار پھر ہر معاملے میں نظر انداز کرتے ہوئے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھتے ہوئے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (این ایف سی) کے لئے تکنیکی رکن کی نامزدگی پر بھی صوبے کے ارباب اختیار اور متعلقہ حکام کو اعتماد میں لئے بغیر دسویں این ایف سی ایوارڈ کے لئے دانشور و ادیب جاوید جبار کی نامزدگی غیر قانونی فیصلہ ہے بیان میں کہا گیا کہ جاوید جبار ہمارے لئے قابل احترام ہے لیکن متعلقہ شعبہ کے لئے ان کی خدمات پیش کرنا تکنیکی اعتبار سے درست نہیں کیونکہ جاوید جبار جوکہ بنیادی طور پر دانشور اور ادیب ہے انہیں حکومت بلوچستان نے دسویں این ایف سی ایوارڈ کے لئے بلوچستان سے غیر سرکاری رکن نامزد کردیا ہے جبکہ اس کی نامزدگی کے لئے ہمیشہ تکنیکی طور پر صوبے ملک کی معیشت، مالیات اور اقتصادیات پر گہری نظر اور دسترس رکھنے والی شخصیات کی نامزدگی ہی ناگزیر سمجھی جاتی ہے ہمیشہ سے بلوچستان کے مقدمے کو سلیکٹڈ نمائندگی کے ذریعے صحیح طور پر پیش کرنے کے لئے ماہر اقتصادیات، سیاست و معاشیات کو نامزد نہیں کیا گیا ہے یہاں بیٹھ کر دیگر صوبوں اور وفاق کے سامنے بلوچستان کے بنیادی ایشوز اور مسائل کو ٹھوس انداز میں پیش کیا جاتا ہے اس طرح کے فیصلوں کی وجہ سے بلوچستان گزشتہ 70 سالوں میں این ایف سی سمیت کسی بھی حصے میں اپنا صحیح حصہ وصول نہیں کر پا رہا بلوچستان پر ہمیشہ حقائق، حالات، متعلقہ شعبوں کی بجائے سلیکٹڈ سفارش، غیر معیاری امور سے نابلد لوگ ہی بلوچستان کی نمائندگی کرتے چلے آرہے ہیں سی پیک، سیندک، ریکوڈک، گولڈ پراجیکٹ،گڈانی پاور پراجیکٹ، گیس بجلی سمیت بلوچستان کو صحیح حق نہیں مل رہا اٹھارویں ترمیم کے کسی بھی پہلو پر عملدرآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا جس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے بلوچستان کی قومی مقدمہ اور حقوق کی جنگ لڑنا محال حقوق کا دفاع کرنا تک ممکن نہیں ہوتا بیان میں بلوچستان کے پارلیمانی رہنماؤں سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس اہم غیر معیاری فنانشلی شعبہ سے ہٹ کر غیر سرکاری رکن کی دسویں این ایف سی ایوارڈ کے لئے نامزدگی کے فیصلے پر مشترکہ موقف اور مضبوط لائحہ عمل وضح کیا جائے اور اس فورم پر بلوچستان کے حقوق کو ٹھوس بنیادوں پر اٹھا کر اس فیصلے کو پارلیمنٹ عوامی دباؤاور آئینی چیلنجز سے واپس کروایا جائے تاکہ این ایف سی ایوارڈ میں صحیح حقیقی نمائندے کی نامزدگی کرکے بلوچستان کو وفاق سے اس کا حق دلوایا جائے۔


