سینیٹ،کوئٹہ میں میٹروبس اور سرکلریلوے منصوبے کی قرار داد منظور
اسلام آباد:سینیٹ میں 3قراردادیں متفقہ طور پر منظورکرلی گئیں،پہلی قراردادفنکاروں دوسری کوئٹہ میں میٹروبس اور سرکلرریلوے کے منصوبے بنانے اور تیسری قرارداد سرکاری ملازمین کے حوالے سے تھی، سینیٹ کااجلاس آج صبح 10بج کر30 منٹ تک ملتوی کردیاگیا۔پیر کوسینیٹ کااجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹرفیصل جاوید نے قرارداد پیش کی قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ پاکستان کی تفریحی صنعت سے وابستہ فنکاروں کی منصفانہ اور جائز ملکیانہ کی ادائیگیوں کا مسئلہ درپیش ہے، جو حق تصنیف کی پامالی کے مترادف ہے، یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ فنون کی اجازت اور سپردگی کیلئے ملکیانہ مقرر کرنے اور فنکاروں کو ان کے فن پارے کسی بھی طریقے سے استعمال ہونے پر ادائیگیاں یقینی بنانے کے ضمن میں کاپی رائٹ بورڈ کو بااختیار بنانے کیلئے حکومت اقدامات لے۔ قرارداد کی حکومت نے حمایت کی وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے کہاکہ ہم فنکاروں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کررہے ہیں۔قرارداد متفقہ طور پر پاس کرلی گئی،سینیٹر دنیش کمار نے قرارداد پیش کی کہ سینیٹ آف پاکستان سفارش کرتا ہے کہ وفاقی حکومت کوئٹہ، بلوچستان میں میٹروبس اور سرکلر ریلوے منصوبے بشمول اس سے منسلک راستوں کی تعمیر کیلئے وفاقی پی ایس ڈی پی سے فنڈز فراہم کرے تاکہ عوام کے فائدے کیلئے میٹرو پولیٹن سٹی میں ٹرانسپورٹ کی کمی کو دور کیا جائے۔ وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی ِمحمدخان نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ صوبہ حکومت سروے کرکے وفاق کوبھیجے گی توہم منظور کرلیں گے۔قراردادمتفقہ طور پر پاس کرلی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ قرارداد پیش کہ کہ یہ ایوان حکومت پر زوردیتا ہے کہ وفاقی سرکاری ملازمین کے ساتھ2021میں ہونے والے معاہدے پر گریڈ ایک سے سولہ تک کی آسامیوں کی اپ گریڈیشن اور تمام ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کے خصوصی حوالے سے من وعن عمل درآمد کرائے۔ قرارداد کی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے حمایت کی اورکہاکہ ملازمین کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں ان کے مسائل حل کریں گے۔قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی گئی سینیٹ کااجلاس آ ج منگل تک صبح 10بج کر30 منٹ تک ملتوی کردیاگیا۔


