کوئٹہ، انتظامیہ کی جانب سے بھتہ خوری قابل مذمت ہے، مرکزی انجمن تاجران

کوئٹہ:مرکزی انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کے بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے کوئٹہ شہر میں ایک بار پھر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی شروعات میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے برما ہوٹل ڈبل روڈ نیو اڈہ سرکی روڈ لیاقت بازار مسجد روڈ پرنس روڈ منی مارکیٹ اور دیگر علاقوں میں مجسٹریٹ صاحبان اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے سینکڑوں دکانیں سیل کرنے اور شہر میں آئے روز درجنوں تاجروں کو زور و زبردستی گرفتار کرکے ان کو زد کوب کرنے مارنے پیٹنے لاک اپ میں بند کرنے اور ہر ہر دکاندار سے 1000 سے 2000 روپے لیکر ان کو چھوڑنے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کی مرکزی قیادت نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاں کہ ڈی آئی جی اور آئی جی پولیس کو اس ظلم ناروا عمل اور شہر کوئٹہ میں اس طرح پولیس کی جانب سے دن میں لاکھوں روپے بھتہ لینے کی خبر نہیں ہے یا وہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں حکومت خود لاک ڈاون پر قصداً عملدرآمد نہیں کر وا رہی اور حکومت نے مجسٹریٹ صاحبان اور بے لگام پولیس انتظامیہ کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شہر ناپرسان میں جو بھی آیا جو بھی کیا اور جس سرکاری افیسر کا جس طرح دل کرتا ہے وہ کر جاتا ہے لیکن اس کو لگام دینے والا کوئی نہیں ہوتا اس ماہ رمضان میں جس طرح رشوت کا بازار گرم کیا گیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتا۔


