حکومت بھی سڑکوں پر
اگر حکومت پریشان نہ ہوتی تو سڑکوں پر نہ آتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت عبدالحفیظ شیخ کو سینیٹر بنوانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اپنے وزیرخزانہ کی شکست پی ٹی آئی کو نہیں بھولی۔ اسے اس ناکامی سے پہلے اپنے اراکین کی وفاداری پرجواعتماد تھا، اب نہیں ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق19کروڑ روپے فی ایم این اے پیشکش کی جا چکی ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ووٹوں کے خریدار منہ مانگے دام دینے کو بھی تیار ہیں، 19کروڑ روپے سے بات آگے جاسکتی ہے۔بعض ایم این ایز کا قد کاٹھ دیکھ کر انہیں آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دینے کی ضمانت بھی دی جارہی ہے۔مسلم لیگ قاف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش بھی زیرغور ہے۔ممکنہ بِکنے والے ذومعنی گفتگوکر رہے ہیں، اس سے بھی حکومت کی پریشانی بڑھ گئی ہے۔ ورنہ غیر ملکی دورے کافی سمجھے جاتے۔جگہ جگہ تقریبات اور جلسے منعقدکرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔میڈیا کے روبرو وزراء یہ کہنے پر مجبور نہ ہوتے کہ ہم نہیں رہیں گے تو ان کرسیوں پر بیٹھنا تمہیں بھی نصیب نہیں ہوگا، کوئی تیسرا ہی بیٹھے گا۔ اس کے جواب میں اپوزیشن جواب دیتی ہے:”ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں“۔ عام آدمی اس جواب سے یہی معنے اخذ کرتاہے کہ اپوزیشن کو ملک کی موجودہ معاشی خستہ حالی اور خطے میں جاری کشمکش کو دیکھتے ہوئے اقتدار نہیں چاہیئے، اسے صرف عمران خان کو گھر بھیجنا مقصود ہے کہ وہ ”این آر او“ دینے سے انکاری ہیں۔ عمران خان کی جگہ اپوزیشن ہر ایرے غیرے کو وزیر اعظم قبول کرنے کوتیار ہے چاہے اس کے پاس پاکستان کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) ہو یا نہ ہو۔معین قریشی کی مثال سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہی ”نادرا“ اس کے ماتحت ہوگا۔ پہلے قومی شناختی کارڈ کی شرط چپڑاسی، ڈرائیور،خانساماں، مالی اور چوکیدار کے لئے ہوتی ہے۔اگر امریکہ نے وزیر اعظم بنا کر بھیجا ہوتو اسے ”نجیب الطرفین“ وزیر اعظم سمجھا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ خطے میں صورت حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، کیا آج معین قریشی والا فارمولا تمام حلقوں کے لئے قابل قبول ہوگا؟معمولی سوجھ بوجھ کا آدمی بھی کہے گا:اس سوال کا جواب ”ہاں“ میں نہیں دیا جاسکتا۔اس لئے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کو طویل عرصے کے لئےabsolutely not کہا جا چکا ہے۔یہ انکاریہ الفاظ تنہا عمران خان سے منسوب کرنا درست نہیں۔مقتدر حلقے بھی اپنی زبان سے نہیں،اپنے عمل سے یہی کہہ رہے ہیں۔غیر ملکی سفراء اور وزراء ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی طرح جی ایچ کیو پہنچ کر شہداء کی یادگار پر پھول پیش کرتے ہیں۔اس کے بعد کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔واضح رہے،دنیابھر میں اس رسم کی ادائیگی کے ایک ہی معنے سمجھے جاتے ہیں۔پاکستانی اپوزیشن ہر سیاسی اقدام سے پہلے ”اگر ایمپائر نیوٹرل رہاتو“ دہرانا ضروری سمجھتی ہے۔اس ”اگر ایمپائر نیوٹرل رہاتو“کوبھی عالمی تناظر میں دیکھا اور سمجھاجائے۔ اور یہ بھی سوچا جائے کہ امریکی صدر غیر ملکی سربراہان کے ساتھ مشترکہ اعلامیے کا اعلان ”پینٹاگون“ میں کرتا ہے، (یہ مقام امریکی ’جی ایچ کیو‘ ہے)، پریذیڈنٹ ہاؤس میں ایسا اعلان نہیں کیا جاتا۔امریکہ میں صدر کا پینٹاگون جانامعیوب نہیں سمجھا جاتا۔کیا امریکہ میں 235سال سے مسلسل جمہوریت نہیں قائم؟یاد رہے اگرسیاست میں سوچنے کا عمل رک جائے یا ترک کر دیا جائے تو سیاست اسی طرح سڑاند دینے لگتی ہے جیسے کسی جوہڑ میں کھڑا ہوا پانی بدبو دار ہو جاتا ہے۔سیاست کو ہروقت بہتی ندی کی طرح رواں دواں رہنا چاہئے، تاکہ صاف شفاف رہے۔یہ دلیل بھی کافی حدتک وزن رکھتی ہے کہ ملک میں باربارمارشل لاء نہ لگائے جاتے تو آج پاکستان کی جمہوریت متنازعہ نہ ہوتی۔لیکن اس دلیل کو سو فیصد درست ماننا بھی آسان نہیں۔سابق امریکی صدر اور ان کے حامی امریکی انتخابات کو اسی طرح دھاندلی زدہ کہہ رہے ہیں جیسے پاکستان میں اپوزیشن میں شامل اور اس سے بار مگر حکومت سے ناراض سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے عوام اور سیاسی ورکرز کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے اور ان اسباب کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے جو اس شکایت کی بنیاد ہیں اور اسے توانا بنانے میں کھاد کا کام کرتے ہیں۔دنیا نے تجربات سے یہی سیکھا ہے کہ کوئی خرابی بلا سبب نہیں ہوتی، کوئی حادثہ دفعتاً نہیں ہواکرتا۔اَللہ نے انسان کو عقل دی ہے،جن لوگوں نے عقل استعمال کی، وہ آج ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں کو چھورہے ہیں اور اس کے برعکس پاکستانیوں کی طرح جہاں جہاں غور وفکر ترک کر دیاگیا،وہاں غربت، جہالت،بیماری اور بیروزگاری نے خیمے ڈال رکھے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے ایسے ملکوں کانام گرے لسٹ میں ڈالا، بلیک لسٹ میں ڈالنے کی دھمکی دی اور انہیں سمجھایا:”منی لانڈری کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے،تمہارا ملک دیوالیہ ہو جائے گا“۔حتیٰ کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانس بھی کہنے لگے ہیں:”کسی منی لاندرنگ کرنے والے کو برطانیہ میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی“۔ برطانوی پارلیمنٹ میں بھی معاشی جرائم کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں یہ کام ایف اے ٹی ایف کے دباؤ پر ہورہا ہے۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ معاشی پریشانی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔دنیا بھر میں بنیادی خرابی کی اصلاح پر توجہ دی جانے لگی ہے۔پاکستان میں بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مخاصمت کی اصل وجہ معاشی جرائم کے خاتمہ کی جانب پیشرفت ہے۔جو حلقے معاشی اصلاح کو پسند نہیں کرتے،وہ حالات کو جوں کا توں رکھنا چاہتے ہیں۔Status quoبرقرا رکھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔یہ کشمکش دنیا بھر میں جاری ہے۔یوکرین کی لڑائی بھی اسی کشمکش کی بڑی تصویر ہے۔لوٹنے والوں کے لئے پرانی حدود میں زندہ رہنا دن بہ دن مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔امریکی آمدنی کا بڑا ذریعہ فوجی اسلحہ کی فروخت ہے۔ اس مقصد کے لئے دنیا میں جنگ کا جاری رہنا لازمی شرط ہے۔خلیجی ریاستوں کے بعد امریکہ نے یوکرین کو جھوٹے سچے آسرے دے کرروس سے لڑنے کے لئے آمادہ کیا،یوکرینی صدر زیلنسکی کی زبان پر یہی شکایت ہے کہ جب روس سے لڑنے کاوقت آیا تو یوکرین کو امریکہ اور نیٹو نے تنہا چھوڑ دیا۔لیکن تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے نئے تقاضے فتحیاب ہوتے ہیں پرانی قوتیں اپنے فرسودہ پن کی بناء پرکمزور ہوجاتی ہیں، معاملات دھیرے دھیرے ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور انجام کار شکست سے دوچار ہوتی ہیں۔پاکستان میں یہ تاریخی جنگ شروع ہوچکی ہے،متحارب فریقین میں جنگ جاری ہے، جیت کسے ملتی ہے؟ فیصلہ ہونے میں کچھ وقت تو لگے گا۔


