خضدار، بی این پی کے زیر اہتمام حفیظ بلوچ و دیگر لاپتہ افراد و اسلام آباد میں طلبہ تشدد کیخلاف احتجاجی ریلی

خضدار (انتخاب نیوز) حفیظ بلوچ ودیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، بلوچ طلبہ پر اسلام آباد میں تشدد کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کی طرف سے احتجاج و ریلی، ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتاہوا خضدار پریس کلب کے سامنے ایک احتجاج مظاہرہ کی شکل اختیار کی،مظاہرین پلیکارڈز اٹھار رکھے تھے جن پر لاپتہ کی بازیابی کا مطالبہ اور بلوچ کو تعلیم دو کے نعرہ درج تھے، جبکہ گیارہ سال سے لاپتہ سعداللہ بلوچ کی دوننھی بچیوں نے اپنے والد کے تصویریں اٹھاکر احتجاج میں شریک تھیں، احتجاجی مظاہرہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی خضدار کے صدر شفیق ساسولی، ضلعی رہنما حیدرزمان بلوچ، سابق تحصیل صدر میرصادق غلامانی، تحصیل صدر سفرخان مینگل، علی احمد شہوانی، عبدالغنی، عمرانی، سید سمیع اللہ، ڈاکٹر محمد بخش مینگل، محمداکبر جتک ودیگر نے خطاب کیا، مقررین کا کہناتھاکہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کا فہرست بہت طویل ہے اس کا ابتدا سردار عطااللہ خان مینگل کے جوان سالہ فررزند اسد مینگل سے ہوا جس کا سلسلہ اب تک تھم نہ سکا، سعداللہ بلوچ، جنگیز بلوچ اور غفور بلوچ سے لیکر حفیظ بلوچ تک جاری ہے، گزشتہ ماہ خضدار میں ہمارے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کو دوران تعلیم اسکول پر چھاپہ مار کر اٹھایاگیا، جبکہ اسلام آباد میں بلوچ طلبہ نے جب جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا بنیادی حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا تو ان طلبہ پر بہیمانہ تشدد کیاگیا، ان طلبہ پر ایف آئی آر بھی درج ہوا، حالانکہ ریاست ماں کی حیثیت رکھتی ہے، یہ کیسی ماں ہے جو بچوں کے ساتھ زیادتی کررہی ہے، ہم سے صرف بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے گمشده افراد کے لیے احتجاج کررہ ہیں، سب بھی ہماری خواتین اسلام آباد میں احتجاج پر ہیں، وہ خواتین کہ جن کی دوپٹہ تک کسی نے نہیں دیکھا تھا، آج وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں، ہم یہ سمجھتے کہ ایک سازش کیتحت تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اٹھا کر غائب کیاجاتاہے، ہمیں پہلے یہ طعنہ دیا جاتا تھا کہ بلوچ تعلیم سے دور ہے اب جب ہمارے نوجوان اعلی تعلیم کی طرف گامزن ہے تو ان کو اٹھاکر غائب کیاجارہاہے، یوں محسوس ہورہاہے کہ بلوچ ہونا جرم ہے،  اگر یہ جرم ہے تو ہم یہ جرم ہمیں کرتے رہیں گے کیونکہ بلوچ ہیں اور بلوچ ہی رہیں گے، انہوں نے کہاکہ ہمارا یہ مطالبہ یہ ہے کہ اگر ان گمشدہ بلوچوں پر کوئی الزام ہے تو پھر ان کو سامنے لاکر اپنی ہی عدالت سے سزا دلوائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن جبری گمشدگی بالکل قابل قبول نہیں۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں