کیا قومی حکومت مائنس پی ٹی آئی کی تشکیل آئینی ہوگی؟
قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف نے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کی ایک تجویز پیش کی ہے کہ فوری طور پر ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے جس میں موجودہ حکمراں جماعت پی ٹی آئی شامل نہ ہو۔ واضح رہے کہ یہ تجویز ایسے لمحات میں پیش کی گئی ہے جب مسلم لیگ نون سمیت اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرائی جاچکی ہے اور اسپیکر 14دن کے اندر اس پر بحث اور منظوری کے لئے اجلاس بلانے کے آئینی طور پر پابند ہیں،یہ آئینی مدت21یا22مارچ کو پوری ہو رہی ہے، اور اس میں صرف تین چار دن رہ گئے ہیں۔سوال یہ ہے کہ یہ تجویز انہوں نے کس حیثیت میں پیش کی ہے؟مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت سے یا قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے؟ اگر انہوں نے یہ تجویز مسلم لیگ (ن) کے صدر کی حیثیت پیش کی ہے تو کیا انہوں مسلم لیگ (ن) کے تاحیات رہبر محمد شریف سے مشاورت اور منظوری لینے کے بعدیہ قدم اٹھایاہے؟ اس لئے کہ دو روزقبل مسلم لیگ(ق) کے سینئررہنما اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) وہی کرتی ہے جو نوازشریف کہتے ہیں، یعنی شہباز شریف فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں۔اور اگر شہباز شریف نے یہ تجویز قائد حزب اختلاف کے طور پر پیش کی ہے تو کیا انہوں اراکین قومی اسمبلی سے خاطرخواہ مشاورت کرکے ان سے باضابطہ اجازت لی تھی؟یایہ تجویز انہوں نے ذاتی حیثیت سے دی ہے؟جب تک وہ مذکورہ سوالات کا جواب نہیں دیتے اس تجویز پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔اس کے ساتھ ہی شہباز شریف یہ بھی بتائیں کہ یہ تجویز انہوں نے کس مجاز اتھارٹی کو دی ہے؟اور اس تجویز کی آئینی پوزیشن کیا ہے؟کیا آئین میں ایسا کوئی آرٹیکل موجود ہے جو ”قومی حکومت“ تشکیل دینے کے بارے میں شرائط اور قواعد و ضوابط بیان کرتا ہے؟اس سوال کاجواب نفی میں ہے۔اسی سے جڑا ہواسوال یہ ہے کہ قومی حکومت سے پی ٹی آئی کو مائنس کرنے کا آئینی جواز کیا ہے؟نیزشہباز شریف یہ بھی بتائیں، کیا وہ آئین سے بالا کوئی شخصیت ہیں؟کہ پاکستان کے 23/ 24کروڑ عوم ان کے فرمودات پر عمل کرنے کے پابند ہیں؟ عام آدمی ان کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ رکن قومی اسمبلی اورقائد حزب اختلاف ہیں۔دیگر ایم این ایز کی طرح، عدم اعتماد کی تحریک کے حق میں یامخالفت میں صرف ایک ووٹ دینے کے مجاز ہیں۔ مسلم لیگ (ن) میں ان کی جو قدر و قیمت ہے اس کا مظاہرہ ہر دوسرے دن عوام دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کی تجاویز کو مسلم لیگ (ن) کے ”رہبر“ تسلیم نہیں کرتے۔جیسے ہی وہ کوئی دعویٰ کرتے ہیں، ان کی بھتیجی مریم نواز نائب صدر مسلم لیگ (ن)کی جانب سے تردید آجاتی ہے۔جبکہ آئین میں کوئی آرٹیکل موجود نہیں، نہ ہی انہوں نے اراکین اسمبلی سے اس تجویز پر مشاورت کی اور اجازت لی ہے۔یہ ایک ایسی تجویز ہے جوسراسر بلاجوازاور بے وقت کی راگنی ہے، کوئی کشش اور جاذبیت نہیں رکھتی، کسی بحث مباحثہ کے بغیر ہی طاق نسیاں پر سجا دی جائے گی۔آئین ساز ادارے کے رکن کی حیثیت سے ان کی زبان پر کوئی غیر آئینی تجویز نہیں آنی چاہیئے۔ انہیں خود بھی کوئی سیاسی تجویزدیتے وقت اس کی آئینی حیثیت کا خیال رکھنا چاہیئے۔ اس میں شک نہیں کہ ملک کو آج سنگین معاشی اور امن و امان کے مسائل سے دو چار ہے۔سابق وزیر قاعظم اورمسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجارت حسین نے حکومت اور اپوزیشن کو مشورہ دیا ہے کہ خطے کے حالات کے پیش نظر ڈ چوک(اسالم آباد) پر جلسے نہ کریں، انہیں ڈر ہے کوئی سیاسی رہنماکسی دہشت گرد کے ہاتھوں مروایا جا سکتا ہے۔جس کا دیر تک سب کو افسوس ہوگا۔محترمہ بینظیر بھٹو کوپہلے ایئر پورٹ سے اپنی رہائش گاہ کی طرف جاتے ہوئے کارساز(کراچی) کے قریب بم دھماکے سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور پھر لیاقت باغ(راولپنڈی) کے جلسے سے خطاب کے بعد قاتلانہ حملہ کیا گیا۔اس قاتلوں کے قدموں کے نشان امریکہ تک جاتے ملے۔بلکہ ایک باخبرامریکی افسر نے اس بارے اعتراف بھی کیاتھا۔متعدددوسرے سیاست دان بھی دہشت گردوں کے ہاتھ سے قتل کئے جاتے رہے ہیں۔ خود مولانا فضل الرحمٰن پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین کے مشورے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔حکومت اور اپوزیشن اپنی تمام توجہ تحریک عدم اعتماد پر مرکوز رکھیں۔23مارچ تک اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے علاوہ دیگر غیر ملکی نمائندے بھی اسلا م آباد میں ہوں گے۔اگر 24مارچ سے تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری تک جلسے نہ کئے جائیں تو تصادم اور دہشت گردی دونوں کے خطرات کم ہو جائیں گے۔عین ممکن ہے اس سے پہلے ہی کوئی سرپرائز دیکھنے کومل جائے،جس کی امید بعض حلقے لگائے بیٹھے ہیں۔ اراکین قومی اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔قانونی کارروائی میں غفلت نہ برتی جائے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق بار کونسلز بھی ملک کو آئینی بحران سے بچانے کے لئے سپریم کورٹ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔عدالت سے ایسے حکم کی استدعا کی جائے گی جو بحران کی روک تھام کر سکے۔الغرض ہر شخص فکرمند ہے۔یاد رہے کہ امریکہ کاکہنا نہ ماننے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔صرف لیڈر کی جانی قربانی نہیں ہوتی، بلکہ احتجاج کے دوران ملک بھر میں سرکاری اور نجی املاک بھی نذر آتش کر دی جائیں گی جیسا کہ محترمہ بینظیر بھٹوکی شہادت کے بعد ہو چکاہے۔اسے دہرانے سے بچا جائے۔کوشش کی جائے کہ ممکنہ حد تک خطرات کو دعوت نہ دی جائے۔ ایسے سانحات کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ احتیاط بہتر ہے۔اپوزیشن اور حکومت دونوں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ملک اور عوام کے مفادات کے لئے سوچیں۔مناسب راہ نکالی جائے، بے جا ضد نہ کی جائے۔لاشیں گرانے کا کام کوئی ذی ہوش انسان نہیں کرتا،ایسی سوچ پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔نوجوانوں کو طیش میں لانا مشکل نہیں لیکن مشتعل لوگوں کو نارمل حالت میں لانا یقینا ایک مشکل کام ہے۔دشمن ہمیشہ تاک میں رہتا ہے، ایسے مواقع مل جائیں تو بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ دانشمندی کا تقاضہ ہے کہ لاشیں نہ گریں۔زخمیوں کو ایمبولینسوں میں لیجانے کی نوبت نہ آئے۔املاک نذر آتش نہ ہوں،راکھ کا ڈھیر منٹوں میں بنتاہے مگر تعمیر میں برسوں لگتے ہیں۔امید ہے تصادم اور خونریزی سے بچا جائے گا۔عدم اعتماد کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے اسی میں سب کا فائدہ ہے۔


