سیاست سڑکوں پر‘عدالت کے کمرے میں

جس ملک میں آئین سازوں کو بھی یہ معلوم نہ ہو کہ آئین کا کونسا آرٹیکل کس معاملے میں کیا کہتا ہے؟ اس ملک میں ہر دوسرے تیسرے سال ”حکومت گراؤاور حکومت بچاؤ“ کے نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔یہ کام سڑکوں سے شروع ہوتا ہے اور عدالت کے کمرے میں پہنچ جاتا ہے۔آغازہلکی پھلکی گالم گلوچ سے کیا جاتا ہے جو جلد ہی سرکاری عمارتوں پرحملوں اور نجی املاک کو نذرِ آتش کرنے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اراکین قومی اسمبلی بھی آئین کی زبان کوسمجھنے سے قاصرہوجائیں تو ملک کا وہی حشر ہوتا ہے جس کے افسوسناک مظاہر آج پاکستان میں دیکھے جا رہے ہیں۔صدر پاکستان کب کوئی آرڈیننس جاری کر سکتا ہے؟وزیر اعظم کی طرف سے کسی جج کے خلاف اس کی ماورائے قانون شکایات پر جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے کا مجاز ہے؟ اورملک بھرکے وکلاء بارکونسل کی شکل میں عدالتوں کو سماعت سے روکنے،ہڑتال کرنے اور طیش میں آکر ججز کو زدو کوب کرنے،اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت سمیت تمام عدالتوں میں توڑ پھوڑ کرنے کا اختیار آئین کے کونسے آرٹیکل کے تحت حاصل ہے؟ حتی کہ عارضہئ قلب کے علاج معالجے کے لئے قائم اسپتال میں فائرنگ کرتے ہوئے گھسنے، مشینوں کو ناکاہ بنانے، ڈاکٹروں پر حملہ کرنے، انہیں مارنے پیٹنے اور زخمی کرنے، مریضوں کو آکسیجن سے محروم کرنے اور انہیں جان بچاکر گھروں میں منتقل ہونے پر مجبور کرنے جیسی مجرمانہ حرکات کے لئے آئین کے کس آرٹیکل سے اختیارات کشید کرتے ہیں؟تاجر جب چاہیں ذخیرہ اندوزی کریں،غذائی اجناس کی مصنوعی قلت پیداکرکے من مانی قیمتیں وصول کریں۔سیاسی جماعتوں کے کارکن پارکوں، کھیل کے میدانوں پر،اسپتالوں اور اسکولوں کے لئے مختص کردہ پلاٹوں پر قبضہ کریں اور متعلقہ سرکاری محکموں کے افسران ان غیر قانونی قبضہ کی گئی زمینوں پر قائم ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو ”چائنہ کٹنگ“کہہ کر دستاویزات جاری کریں۔پولیس طاہلکار اغواء کیوارداتوں مکیں ملوث ہوں اور انہیں سزا نہ دی جائے۔عورتیں گھروں محفوظ نہ رہیں، موٹروے پر کسی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوجائے نتو پولیس باس ختون کی مدد کرنے کی بجائے ڈاکوؤں کو بھیج دے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔معیشت بدحال ہے، ملک میں پچاس پچاس سال تک کوئی ڈیم تعمیر نہیں کیا جاتا، صنعت اور زراعت دونوں شعبے پانی اور بجلی کی عدم دستیابی کے باعث بری طرح تباہی کا شکار ہیں۔کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں،اسکول میں داخلہ نہیں لے سکتے، جو اسکول جارہے ہیں انہیں پڑھانے والے اساتذہ میسر نہیں۔بیشتر نجی اسکولوں میں اساتذہ کو غیر ہنر مند مزدور کی کم سے کم تنخواہ کے مساوی تنخواہ نہیں دی جاتی، 60اور 80گز کے گھروں میں اسکول چل رہے ہیں۔سفر کی سہولتیں ناپید ہیں،مناسب ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں۔اراکین قومی اسمبلی کی بولیاں لگ رہی ہیں، گھروں سے غائب ہیں،سندھ ہاؤس میں غیر قانونی جمع کردہ دولت کمانے والے، عدالتوں کو مطلوب افرادان کے ووٹ خریدرہے ہیں،خریداروں کی پناہ میں ہیں یا خریداروں نے یرغمال بنا رکھا ہے؟ الغرض سارا ملک انارکی کا شکار ہے۔انہیں یہ بھی احساس نہیں 57اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ یوم پقاکستان کے موقع پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، اپوزیشن کی جانب سے اجلاس میں شرکت سے روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔دنیا پرانے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو خیرباد کہہ کر نئے نظام کی تشکیل میں مصروف ہے۔امریکہ 1945سے جنگی جنون میں مبتلاء ہے۔ افریقی ممالک، خلیجی ریاستوں،عراق، شام، لیبیاء کو تباہ کرنے کے بعد افغانستان پر 20سال بم برساتا رہا۔اگست2021میں بدحواسی کے عالم میں کابل سے نکلا۔اب کوئی ایسا پسماندہ ملک نہیں بچا جسے وہ کسی بہانے اپنا شکار بنا سکے۔یوکرین کے ذریعے روس سے جنگ کرانے کی حکمت عملی امریکہ کے کام نہیں آئی۔یوکرین کو تنہا چھوڑ کر امریکہ نے تسلیم کر لیا کہ وہ براہ راست روس سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں۔یوکرین کی مدد نہ کرنے کے نتیجے میں یورپی ممالک بھی اپنی بقاء کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔امریکی پسپائی کے ساتھ ہی دنیا کو غیر اعلانیہ عالمی جنگ سے چھٹکارہ حاصل ہوا جو 1945سے جاری تھی۔ایشیائی ممالک بھی نئی صف بندی کی فکر میں ہیں۔او آئی سی کے 57رکن ملک امریکہ کو دھیرے دھیرے خدا حافظ کہہ رہے ہیں۔ ڈالر کی بجائے یوآن (چینی کرنسی)میں لین دین شروع کردیا ہے۔یواے ای اور سعودی عرب نے بسم اللہ کردی ہے، پاکستان بھی 2011سے معاہدہ کئے بیٹھا ہے۔اپوزیشن ابھی 90کی دہائی سے باہر نہیں نکلی۔وہ آج بھی یہ سمجھ رہی ہے کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔اب حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔حکومت عدالت سے منحرف اراکین آئینی تشریح کے لئے رجوع کر رہی ہے۔سپریم بار کانسل پہلے ہی سپریم کورٹ پہنچ چکی ہے۔یہ کام پارلیمنٹ کا ہے۔اراکین اسمبلی کے لئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں رکھی۔اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ ان پڑھ شخص بھی پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل ہے۔اور بعض حکومتوں میں وزیر تعلیم بھی ان پڑھ رکن اسمبلی وزیر تعلیم رہا چکا ہے۔سندھ کے وزیر تعلیم کی مثال پرانی نہیں،میڈیا نے عوام تک پہنچادی تھی، لوگوں کو یاد ہوگا۔اگر سپریم کورٹ آئینی تشریح کے مقدمات کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سے اراکین پارلیمنٹ کی تعلیمی استعداد بھی معلوم کر لیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ قانون سازادارے میں قانون سازی کی ذمہ داری کیسے لوگوں کے پاس ہے۔جب تک پارلیمنٹ میں تعلیم یافتہ افراد نہیں پہنچتے اس وقت تک ملک کے حالات اسی طرح پریشان کن اور دگرگوں رہیں گے۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں پاکستان کی پارلیمنٹ کی تعلیمی استعداد کا صفر(زیرو) ہونا شرمناک ہے، نقصان دہ ہے۔فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔پلک اور 23،24کروڑ عوام کی تقدیر ان پڑھ پارلیمنٹ افراد کے سپرد کرنا اجتماعی خود کشی کے مترادف ہے۔عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے پر بھی اپوزیشن ملک میں امن و امان کی صورت حال بگاڑنے کے اشارے دے رہی ہے۔اگر اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کو کچلنے کی ضد پر قائم رہے تو جمہوریت کا برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔وزیر داخلہ کی وارننگ کو نظر نہیں کیا جانا چاہیے۔عوام کے مفادات کو سامنے رکھا جائے، ذاتی عناد کو ذہن سے جھٹک دیا جائے۔سیاست تحمل سے خالی ہو جائے بتو سب کچھ فنا ہا جاتا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں سوچیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں