قومی اسمبلی اپنی آئینی ذمہ داری کا خیال رکھے
آئین ساز ادارہ اپنے مقام و مرتبہ کو فراموش کرکے بچوں کی طرح لڑنا شروع کر دے تو کوئی بھی ریاست عالمی برادری میں تماشہ بن جاتی ہے۔پاکستان پہلے ہی معاشی بدحالی شکار ہے، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا سامنا کر رہا ہے،دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے،پارلیمنٹ کے اراکین جذبات کی بجائے سنجیدگی سے کام لیں۔ملک اور عوام کو درپیش مسائل کو سامنے رکھیں، غیر ملکی سازش کے نتیجے میں 70کی دہائی میں ملک دو لخت ہو چکا ہے۔پاکستان کسی نئی سازش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے فوراً بعد(پہلی دہائی ختم ہونے سے پہلے ہی)نوستارے جذباتی نعرے لگاتے ہوئے ملک کو انارکی کی طرف لے گئے۔نصف صدی تک ترقی کاسفر رکارہا، کوئی ڈیم نہیں تعمیر ہوا، زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان گندم، چینی، دالیں، خوردنی تیل، حتیٰ کہ پیازاور ٹماٹر کے لئے بھی دوسرے ملکوں کا محتاج ہو گیا۔لاکھوں ایکڑ اراضی پانی کی عدم دستیابی کے باعث بنجر ہو گئی۔سستی پن بجلی کاحصول ممکن نہیں رہا۔تیل، گیس اور کوئلے سے چلنے والے مہنگے بجلی گھر لگائے گئے۔ملک اندھیروں میں ڈوب گیا۔صنعت کا پہیہ چلنا بندے ہونے لگا، مہنگی بجلی استعمال کرکے عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات بیچنا مشکل سے مشکل ترہوتا چلا گیا۔یاد رہے جب کسی ملک میں زراعت اور صنعت اپنا کام کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہاں بیروزگاری، غربت، بیماری، جہالت اور جرائم اپنے پنجے گاڑ لیتے ہیں۔عمران خان اپنی حکومت بچا سکیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بظاہرقومی اسمبلی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد حکومت سے ناراض ہوکر ان کاساتھ چھوڑچکی ہے، اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیر اعظم انہیں منانے میں ناکام رہے۔گزشتہ روز بھی وہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے۔عدالتی فیصلہ بھی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو مسترد کر چکا ہے۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف بھی اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔پنجاب اسمبلی کی عمارت میں اراکین داخل نہیں ہو سکتے، خار دار تاروں سے رکاوٹیں کھڑی ہیں۔حمزہ شہباز اکثریت کے ساتھ ہوٹلوں میں اعتماد کا ووٹ لے رہے ہیں۔خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک آچکی ہے۔گویا مخالفت پورے ملک میں زور پکڑرہی ہے۔ایسے اقدامات کے باوجود وزیر اعظم مضبوط ہونے کا دعویٰ تو کر رہے ہیں مگر یہ دعویٰ خلاف واقعہ ہے۔ایوان میں اکثریت ساتھ چھوڑ دے تو حکومت گر جاتی ہے، گھر جانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔عمران خان قوم سے خطاب کر کے اپنے اتحادیوں کو سمجھانے کی کوشش کر سکتے ہیں اور ایسا کر بھی رہے ہیں مگر انہیں چھوڑ کر جانے والے اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔اب حکومت مخالف جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔چند دنوں کی مہمان نظر آتی ہے۔تقاریر کا سلسلہ ڈیڑھ سال تک جاری رکھنا وزیر اعظم کے بس کی بات نہیں۔جلد ہی وہ خود بھی تھک جائیں گے،جیسا کہ 126روزہ دھرناسانحہ آرمی پبلک اسکول پشاورہوتے ہی ختم کر دیا گیا تھا۔یاد رہے سیاست لگے بندھے اصولوں اورقوانین کے تابع ہے لیکن یہ قوانین ساکت و جامد نہیں، وقت کے ساتھ ان میں مناسب لچک موجود ہوتی ہے جو انہیں ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔یہ لچک نہ رہے تو معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ بھی یاد رہے کہ اقتدار حاصل کرنے تک کی جدوجہد سیاسی تسلسل کاپہلا مرحلہ ہے،جبکہ اقتدار کو برقرار رکھنا دوسرا مرحلہ ہے۔ ہر دو مراحل کے تقاضے مختلف ہیں۔ پہلے مرحلے میں مخالفین کو چاروں خانے چت کرنا مرکزی نکتہ سمجھا جاتا ہے۔یہ مرحلہ بے رحمی سے آگے بڑھنے کے مخصوص ضابطوں میں جکڑا ہوتاہے۔ہوش سے زیادہ جوش غالب رہتا ہے۔ اس کی نگاہوں کے سامنے صرف ”اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے##پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے!##ساتوں روز چوبیس گھنٹے گھومتا رہتا ہے۔لیکن اقتدار ملتے ہی اس کے تقاضے تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس مرحلے میں سب کو ساتھ لے کر چلنا بنیادی تقاضہ بن جاتا ہے۔مبصرین کا کہناہے کہ پی ٹی آئی نے اقتدار ملنے کے بعد ہوش پر مبنی نئی حکمت عملی اپنانے کی بجائے ماضی کی مخاصمانہ سوچ کے مطابق چلتے رہنا پسند کیا۔اس غلطی کا نتیجہ آج ان کے سامنے سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجر بینچ کے دیئے گئے فیصلے کی شکل میں آگیا ہے۔پاکستان کا مستقبل اسی فیصلے میں دیئے گئے رہنما متعین کریں گے۔لیکن دیگرعدالتی فیصلہ بھی ایک سے زائد معنے دیتا محسوس ہو رہا ہے۔اپوزیشن کے حامی ماہرین قانون سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے میں حکومت یا اسپیکر کو صرف عدم اعتماد کی ووٹنگ کرانے کا حکم دیاہے۔ اس کے برعکس حکومت یقین رکھتی ہے کہ بات وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں پر اسمبلی ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے پہلے کھڑی تھی۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اخذ کردہ مفہوم کے مطابق آئین کے آرٹیکل 5پر بحث کااغاز کر دیا ہے۔واضح رہے آئین کا آرٹیکل5بادیئ النظر میں پاکستان کے سفیر اسد مجید(اس وقت امریکہ میں تعینات)کے بھیجے ہوئے7مارچ کے مراسلے سے نتھی ہے۔ اوراپوزیشن اس مراسلے کو جعلی کہتی ہے۔حکومت پہلے اس مراسلے کے مندرجات اور صداقت کا کھوج لگانا چاہتی ہے اور اسمبلی کا بنیادی فریضہ قرار دیتی ہے۔صاف نظر آرہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں دو مفاہیم بیک وقت پائے جاتے ہیں،یہ اتنا سادہ اور غیر مبہم نہیں کے قومی اسمبلی کسی ایک کو درست مان کر اپنی کارروائی کو آگے بڑھا سکے۔علاوہ ازیں ایک مشکل یہ بھی ہے کہ یہ مراسلہ میڈیا کے حوالہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟وزیر اعظم کہہ چکے ہیں یہ مناسب نہیں، اس طرح وہ خفیہ کوڈ میڈیا کے ہاتھ لگ جائے اور یہ خطرناک عمل ہوگا۔اب درمیانہ راستہ یہی رہتا ہے کہ ان کیمرا اجلاس بلایا جائے، اراکین قوم اسمبلی زیر بحث مراسلہ خود دیکھ اور پڑھ لیں اور اپنا ذہن استعمال کریں۔عام آدمی کی نظریں قومی اسمبلی کے اجلاس پر مرکوز ہیں، 12:30تک ملتوی کیا گیا تاخیر سے شروع ہوا۔پھر افطار کے لئے اجلاس ملتوی ہوا۔رمضان کا مہینہ ہے،دن کو روزہ اور رات کو تراویح اور سحری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اسی دوران وزیر اعظم نے 9بجے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،جو منحرف اراکین کے خلاف صدارتی یفرنس اور اجلاس کی توسیع جیسے اہم فیصلے کرے گا۔اس تناظر میں عدم اعتماد کی ووٹنگ کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں۔بعض مبصرین دبے لہجے میں مارشل لاء کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں،عام آدمی ”اَللہ خیر کرے“ کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سوچنا اپوزیشن، حکومت اور عدلیہ کو ہے اس لئے کہ فیصلہ انہی تینوں نے کرنا ہے، ملک دیر تک ہوا میں معلق نہیں رہ سکتا۔


