کابینہ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری

اتنی بڑی تعداد میں مختلف الخیال اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا اپنی جگہ ایک مشکل کام ہے، جبکہ ملکی معیشت بھی آئی ایم ایف کی شرائط نے نتھی ہے۔بہر حال وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ نے حلف اٹھا لیا اور میڈیا اطلاعات کے مطابق وزراء نے حلف برداری کے فوراً بعد محکمہ جاتی امور نمٹانا شروع کر دیئے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ بقول جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن موجودہ حکومت کے پاس زیادہ سے زیادہ ایک سال ہے۔ بجٹ سازی بھی سرپرہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کا نازک کام بھی خوش اسلوبی سے نتیجہ خیز بنانا ہے۔گویا ہمہ جہتی معاملات اور مسائل حل طلب ہیں۔عام آدمی کو مہنگائی سے نجات کا وعدہ بھی پورا کرنا ہے۔ایسی صورت حال میں اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ جبکہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزارت خارجہ کا عہدہ نہ سنبھالنے پر بھی میڈیا میں چہ می گوئیاں جاری ہیں۔کہا جارہا ہے کہ وہ ضامن کی حیثیت اے این پی کی شکایت لے کر لندن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مسلم لیگ نون کے رہبر نواز شریف سے مشاورت کے ذریعے کوئی حل نکال سکیں۔بہرحال یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ درجن بھر اتحادیوں کو بیک وقت خوش رکھنا آسان نہیں، ایک کو راضی کریں تو دوسرا ناراض ہوجاتا ہے۔لیکن یہ بھی تاریخی مجبوری ہے کہ سب کو ساتھ لے کر اس طرح چلنا ہے کہ عوام کے گمبھیر مسائل بھی حل ہو سکیں۔ آئی ایم ایف بھی مطمئن رہے۔چونکہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنا مسلم لیگ نون کے لئے کوئی نیا کام نہیں،ماضی میں ڈالر کی قیمت ایک خاص سطح پر قائم رکھنے کا معاہدہ کر چکے ہیں، عین ممکن ہے اس بار بھی وزارت خزانہ کامیاب ہوجائے تو روزانہ کی بنیادوں پر ڈالر کے اونچا نیچا ہونے کا سلسلہ رک سکتا ہے۔آنے والے دنوں میں سب کچھ سامنے آجائے گا۔واضح رہے جمہوریت کا حسن یہ بتایا جاتا ہے کہ اختلاف رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔کیاوزیر اعظم سارے اتحادیوں کو یکساں طور پر مطمئن کرپائیں گے، اس سوال کا ہاں میں جواب دینا آسان نہیں۔لیکن ناممکن کو ممکن بنانا ہی سیاست کا اصل کام ہے۔ توقع کی جا سکتی ہے اپنے دھیمے لہجے اور ملنسار طبیعت کی بناء پر ان کی کامیابی کے امکانات کسی دوسرے سیاست دان کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ویسے بھی سیاست مشکلات سے کھیلنے کا دوسرا نام ہے،جو شخص مشکلات برداشت کرنے سے عاری ہو، وہ سیاست کے میدان میں نہیں آتا۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست چند خاندانوں تک محدود نظر آتی ہے۔ ماضی میں اس رویئے کو ایک حد تک استحکام حاصل رہا لیکن ہمارے مشرقی ہمسایہ ملک بھارت میں کانگریس اپنی سیاسی قوت برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئی اور بی جے پی عوام کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب رہی۔اس تبدیلی کے اثرات دیگر ملکوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔اس تناظر میں مسلم لیگ نون اور پی پی پی کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے ایم کیو ایم اور بعض دیگر جماعتوں سے تحریری معاہدے بھی کئے گئے ہیں۔ان پر من و عن عمل نہ کیا گیا تواتحادی ناراض ہو جائیں، مسلم لیگ نون کی ایوان میں اپنی اکثریت برقرار نہیں رہے گی،اور اس کے نتیجے میں اقتدار کی مدت کم ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے۔خطے میں سیاسی نفسیات بھی ماضی جیسی نہیں رہی۔ داخلی صورت حال بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جا، اندرونی محاذ پر مشکلات ہوں تو خارجہ محاذ بھی مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ابھی وزیر اعظم شہباز شتیف داخلی مشکلات دور کرنے میں مصروف ہیں، جب بیرون ملک دورے پر جائیں گے یا ان کی وزارت خارجہ انہیں صورت حال سے آگاہ کرے گی تب انہیں معلوم ہوگا کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟ اور شاید اس وقت ان کے پاس زیادہ وقت نہ بچے کہ دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کے لئے وقت نکال سکیں۔یاد رہے کہ داخلی محاذ پر دوستوں کی ناراضگی کی قیمت خارجہ محاذ پر بھی چکانی پڑتی ہے۔کوشش کی جائے کہ اتحادی ناراض نہ ہوں۔ان سے وعدہ خلافی نہ کی جائے۔چھوٹی چھوٹی رنجشیں بڑھ کر ایک پہاڑ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، اور پھر انہیں دور یا عبور کرنا ممکن نہیں رہتا۔ وزیراعظم سیاست کی ان نزاکتوں سے آشنا ہیں، انہیں ناراض دوستوں کو راضی کرنے کا ہنر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ آتا ہے، بلکہ اس فن میں وہ یکتا ہیں۔پی پی پی کے آصف علی زرداری اپنی جگہ سب پہ بھاری ہیں، اس لئے انہیں ناراض نہ کیا جائے،کوئی دراڑ پیدا نہ ہونے دی جائے۔گزشتہ روز حلف برداری میں شرکاء کی بڑی تعداد سابق حکومت سے ناراض ہونے والوں کی دکھائی دے رہی تھی۔ ایوان میں ان کی اہمیت کو عددی پیمانے سے نہ ناپا جائے، یاد رہے کہ 170سے آگے تعداد بڑھانے میں ان چھوٹی پارٹیوں کا کردار ہے۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی کا سڑکوں پر رہنا بعض نئی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔رمضان کے مہینے کو ماضی میں کبھی بھی سیاسی کیلنڈر کا حصہ نہیں سمجھا گیا۔75سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں جب کسی سیاسی احتجاج کی منصوبہ ہوتی تھی رمضان اور محرم کا خیال رکھا جاتا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی نے اس تصور کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔لوگ افطار بھی جلسہ گاہ میں کرتے ہیں، اور 12بجے رات تک پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی نہ صرف سنتے ہیں بلکہ نعروں کا پرجوش جواب بھی دیتے ہیں۔آخری لمحے تک تازہ دم نظر آتے ہیں۔جلسے کے شرکاء کے چہرے دیکھ لئے جائیں، فرق واضح ہوجائے گا۔ہر جلسہ پہلے جلسے سے بڑا ہوتا ہے۔عوام کے موڈ کو نظر انداز نہ کیا جائے۔موجودہ حکومت سنجیدگی سے سوچے؛ اگر اس نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کیا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا یا کمی آئے گی؟ ظاہر ہے اضافہ ہوگا، اور یہ اضافہ مہنگائی کم کرنے کے حکومتی دعووں کو نقصان پہنچائے گا۔بجلی کے دام اسی طرح بڑھائے جاتے رہے تو دیگر اشیاء کی قیمتوں اضافہ ہونا یقینی ہے،حکومتی ساکھ متأثر ہوگی۔اس نقصان سے بچنے کا ایک راستہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تجویز مان لی جائے اور جتنی جلدی گدلا پانی صاف ہو اتنی جلدی عوام کی امانت عوام کو لوٹا دی جائے۔یعنی انتخابات کرائے جائیں۔ویسے بھی موجودہ اسمبلی کے بارے میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کا کہنا تھا کہ الیکشن نہیں ہوئے، سلیکشن ہوئی ہے، وزیر اعظم سلیکٹڈ ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا مشورہ صائب ہے، مان لیا جائے،نئے انتخابات ہی اس ٹائیٹل کو دھو سکتے ہیں۔حکومت مولامنا کی تجویز کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں