عمرہ اور سرکاری دورہ ساتھ ساتھ
وزیر اعظم شہبازشریف آج چار روزہ دورے پر ایک بڑے وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے۔واضح رہے رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب پہنچتی ہے۔یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں،شریف فیملی ماضی میں بھی عمرے کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جاتی رہی ہے۔البتہ اس بار وفد میں اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی شامل ہیں۔ چونکہ مخلوط حکومت میں 13جماعتیں شامل ہیں اس لئے وفد ماضی کے وفود سے نسبتاً بڑا نظر آتا ہے۔پی ٹی آئی کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے اور شاید کچھ عرصہ یہ تنقید جاری رہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن مزاجاً تنقید اپنا حق سمجھتی ہے،اوردوسری وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی 9اور 10اپریل کی درمیانی شب عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ سے محروم کئے جانے کے باعث شدید غصے کی حالت میں ہے اورفوری انتخابات کے اعلان کا مطالبہ کر رہی ہے اس تناظر میں اسے عمرہ جیسی عبادت بھی سرکاری خزانے پر بوجھ نظر آتی ہے۔دوسری طرف مسلم لیگ نون کے وزیر مملکت برائے خزانہ مفتاح اسماعیل واشنگٹن میں پی ٹی آئی کی جانب سے ایک قرآنی حکم ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“کو سیاسی نعرہ بنانے پر ایک نیا فتویٰ جاری کر رہے ہیں جس کا ان کے سرکاری منصب سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی ان کے پاس کسی عالم دین کے مساوی معلومات ہیں کہ وہ قرآنی احکام کے حوالے سے گفتگو کا استحقاق رکھتے ہیں۔کیاوہ نہیں جانتے کہ مسلم لیگ نون کے پاس آج 2013 والی اکثریت نہیں،وہ خود بھی شیشے کے گھر میں رہتے ہیں، پی ٹی آئی کے خلاف اس قسم کی غیر ضروری اور حساس نوعیت کی گفتگو کے منفی اثرات ان کی پارٹی کے لئے بھی نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ انہیں آئی ایم ایف شرائط کا دفاع کرنے کا مشکل ٹاسک ایسے وقت سونپا گیا ہے جب عوام ان سے مہنگائی میں کمی لانے کی آس لگائے بیٹھے تھے۔ انہیں توقع تھی کہ مسلم لیگ نون اقتدار میں آکر سستا پیٹرول اور سستی بجلی فراہم کریں گے۔مناسب ہوگا کہ مفتاح اسماعیل اپنی توجہ اپنی محکمہ جاتی ذمہ داریوں پر مرکوز رکھیں، غیر ضروری اور غیر محتاط گفتگو سے اجتناب برتیں۔جیسے جیسے وقت گزرے گا انہیں علم ہوتا جائے گا کہ حالات ماضی سے کئی گنا مختلف ہیں۔ورلڈ بینک کے صدرڈیوڈ ملپاس نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس جنگ کا جلد خاتمہ نہ ہوا تو غذائی قلت کا سامنا کرنا ہوگا، اس لئے کہ روس کا شمار گندم اور گیس کے بڑے برآمد کنندگان میں ہوتا ہے، جبکہ یوکرین بھی سن فلاور، گندم، مکئی اور دیگر اناج کا نمایاں برآمد کنندہ ملک ہے۔اس جنگ کے نتیجے میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں 13فیصد اضافہ ہو چکا ہے،جنگ جاری رہی تو یہ اضافہ 37فیصد ہونے کاخدشہ ہے، 60فیصد غریب ملک سری لنکا کی طرح دیوالیہ ہو سکتے ہیں۔مفتاح اسماعیل سوچیں کہ پاکستان اس خرابی سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ اپنے محکمہ کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔نئی مشکلات پیدا نہ کریں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اگر ایک بڑے وفد کے ساتھ عمرے پر جانا پسند کیا ہے تو انہوں نے اس فیصلے کے عواقب اور نتائج پر غور کر لیا ہوگا،وہ ایک جہاں دیدہ شخص ہیں، دانستہ کوئی غلط فیصلہ نہیں کر سکتے۔بھول چوک انسانی فطرت کا خاصہ ہے، کوئی بھی اس خامی سے مبرا نہیں۔ان کی واپسی پر یہ عقدہ کھلے گا سعودی عرب کا دورہ لیگی حکومت کے لئے کس قدر مفید اور سود مند رہا؟ خطے میں روس اور یوکرین جنگ کے علاوہ بھی دوررس نتائج کی حامل تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کا وزیر اعظم ہاؤس سے نکل کر سڑک پر آنا بھی خطے کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔عین ممکن ہے پی ٹی آئی کودورہئ روس کی قیمت چکانی پڑی ہے۔لیکن اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کیا روس اس اقدام کو خاموشی سے نظر انداز کر دے گا؟ کیا روس کو اپنے مفادات عزیز نہیں ہوں گے؟کیا روس تک متنازعہ مراسلے کے مندرجات نہیں پہنچے ہوں گے؟ کیا روس کا سفارت خانہ پاکستان میں پاکستانی سفارت کارماسکو میں کام نہیں کررہے؟کیا افغان طالبان نے کسی بیرونی امداد کے بغیر ہی تنہا اپنے بل بوتے پرامریکہ کو کابل خالی کرنے پر مجبور کردیا تھا؟ ویت نام کی جنگ بھی کسی ہمسایہ ملک کی امداد کے بغیرہی ویت نامی عوام نے اپنے وسائل اور افرادی قوت کی مدد سے تنہا جیت لی تھی؟روسی صدر ولادی میر پوتن اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی 3گھنٹوں پر محیط ون آن ون ملاقات میں اس خطے کے مستقبل پر کوئی بات نہیں ہوئی ہوگی؟کیا یورپی ممالک اور بھارت (امریکی دھمکی کے باوجود)روس سے تجارت نہیں کر رہے؟کیا امریکہ 20سال قبل اپنے نیٹو اتحادیوں سمیت افغانستان کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کے بلند بانگ دعووں کے ساتھ حملہ آور نہیں ہوا تھا؟کیا امریکہ نے دنیا کے سامنے 20سال قبل جو کہا تھا اسے سچ ثابت کر کے دکھادیاہے؟اگر ان سوالوں کا جواب میں ’۔۔۔’نہیں“۔۔۔کے سواکچھ نہ کہا جا سکے تو کیا امریکہ کو آج ”عالمی سپر پاور“ کہنا درست ہوگا؟اس سوال پر نون لیگی حکومت کو بھی غور کرنا ہوگا۔عراق امریکی دوستی نبھاہتے ہوئے راکھ کا ڈھیر بن گیامگرکیا اس راکھ میں دبی چنگاریوں نے ایرانی اور عراقی جنرلز کے قتل کا بدلہ نہیں لیا؟کیا امریکی حکمرانوں نے ایران سے یہ نہیں کہا تھا:”جتنا بدلہ لیا جا چکا ہے، کافی ہے!“۔کیا پاکستان کو اپنے ہمسایہ ملک ایران سے کئے گئے تحریری معاہدوں کے باوجودسستی گیس،بجلی اور سستا پیٹرول حاصل کرنے کا اختیار حاصل ہے؟اگر ہے تو پاکستان اس اختیار کو استعمال کیوں نہیں کرتا؟ کیا یہ امریکی غلامی کا ٹھوس ثبوت نہیں ہے؟کیا اس کے بعد بھی ہماری قومی سلامتی کمیٹی کو سازش اور مداخلت کی فضول بحث میں اپنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا گزشتہ75سال میں جو کچھ پاکستان کے عوام کے ساتھ ہو چکا ہے، کافی نہیں؟کیا اس ماضی پر فخر کیا جا سکتا ہے؟کیا پاکستان کو قدرت نے ہمہ اقسام قدرتی وسائل اور
جفاکش افرادی قوت سے نہیں نوازا؟ کیا بجلی کی موجودہ قلت اوررمضان کے مہینے میں 8گھنٹے سے 16گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ماضی کی غلط معاشی اور غلط خارجہ پالیسی کا نتیجہ نہیں؟ کیا پاکستان کو ترقی اور خوشحالی سے دور کرنے میں (غلامی کی حدوں کو چھوتی ہوئی) امریکی تابعداری کاکوئی کردار نہیں؟پاکستان کے پالیسی ساز جان لیں،عوام اس سے زیادہ دکھ نہیں سہہ سکتے۔Enough is enough!،درست فیصلوں کا وقت آ چکا ہے، درست فیصلے کئے جائیں!عوام ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، انہیں غلط فیصلے کرکے غربت، بھوک، بیماری،بیروزگاری، جہالت اور آئی ایم ایف کی دائمی غلامی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔


