سندھ اسمبلی باہر کے مناظر نے بلوچوں کی عزت نفس اور جذبات کو مجروح کیا، سیاسی رہنما
کوئٹہ (انتخاب نیوز) کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی کیلئے احتجاجی بلوچ مظاہرین اور طلبہ پر پولیس کی جانب سے تشدد کیخلاف سابق وزیراعلیٰ بلوچستان وچیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی، نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمدشہی نے اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان وچیف آف ساراوان نواب محمد اسلم رئیسانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہاہے کہ میں لاپتہ افراد کی کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والے بلوچ مرد اور خواتین کیخلاف سندھ پولیس کے وحشیانہ تشدد کی مذمت کرتاہوں۔ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج پر بیٹھے بلوچوں کیخلاف حکومت کا یہ طرز عمل انتہائی شرمناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ازخود نوٹس لے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج کرنے والی بلوچ خواتین، طلبہ اور دیگر کارکنوں پر سندھ پولیس کے بہیمانہ تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایسے رویوں کو انتہائی شرمناک اور ہر طرح سے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبر کا شکار لاپتہ افراد کے لواحقین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے حکمران طاقت کا استعمال کرکے پرامن احتجاج کرنے والی خواتین کی چادریں چھین رہے ہیں۔ بلوچوں کے قومی و انسانی حقوق سلب کرنے کے بعد ان سے پرامن احتجاج تک کا حق چھین کر کیا پیغام دیا جارہا ہے۔ سندھ اسمبلی باہر کے مناظر نے تمام بلوچوں کی عزت نفس اور جذبات کو مجروح کیا ہے۔


