زہرہ بلوچ، نثار بادینی پر قاتلانہ حملے اور واقعہ خاران کی شفاف تحقیقات کی جائے، این ڈی پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے زہرہ بلوچ پر ہونے والے قاتلانہ حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں نامعلوم مسلح افراد کا راج بڑھتا جا رہا ہے جو دن دھاڈے کسی کو بھی قتل کر کے آسانی سے فرار ہوجاتے ہیں۔ بلوچستان میں امن و امان، قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے۔ کئی سال پہلے اسی مقام سریاب روڈ پر مسلح موٹرسائیکل سواروں نے پروفیسر صبا دشتیاری کو بھی فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بھر میں نامعلوم افراد چوری، ڈکیتی، زمینوں پر قبضے سمیت لوگوں کر اغوا اور قتل کرنے میں ملوث ہیں جو کسی بھی شہر کے بیچوں بیچ کارروائی کر کے پولیس، لیویز اور ایف سی کی چیک پوسٹوں کے سامنے سے با آسانی فرار ہو جاتے ہیں اور ان پر کوئی تحقیقات بھی نہیں ہوتی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں صرف پنجگور میں درجن بھر واقعات ہوئے جن کے اہلخانہ کے احتجاج ریکارڈ پر موجود ہیں۔ داد جان کے قتل کے بعد اہلخانہ سے مذاکرات اور اس کے بعد کیس کو غلط رخ دے کر اس کیس کو ختم کیا جارہا ہے۔

گزشتہ دنوں خاران میں بھی ثنا اللہ شاہوانی کے 2 بیٹوں کو قتل کردیا گیا تھا اور 1 بیٹا تاحال لاپتہ ہے جن کے اہلخانہ کے مطابق وہ سی ٹی ڈی کی تحویل میں ہے۔ اسی طرح آج نوشکی میں سماجی کارکن نثار بادینی کو بھی ٹارگٹ کلنگ میں قتل کیا گیا۔ اس طرح کے غیر انسانی واقعات کا معمول سے ہونا حکومت، انتظامیہ اور عدلیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ زہرہ بلوچ سمیت نثار بادینی و دیگر پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کی شفاف تحقیقات کر کے اس طرح کے حملوں کے روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں۔



