بنگلا دیش، دریا میں زائرین کی کشتی الٹنے سے 23 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلا دیش میں دریا میں کشتی الٹنے سے 23 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں لاپتہ ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مقامی پولیس افسر شفیق الاسلام نے بتایا کہ ہم نے 23 افراد کی لاشیں نکالی ہیں جبکہ مزید کی تلاش کے لیے رسیکیو اور غوطہ خور کاوشوں میں مصروف ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کشتی میں 50 ہندو زائرین سوار تھے جو صدیوں پرانے مندر کی طرف جارہے تھے کہ شمالی بنگلا دیش کے بوڈا قصبے کے قریب دریائے کروٹوا کے بیچ میں کشتی اچانک کسی چیز سے ٹکرا کر ڈوب گئی۔ ایک اور پولیس افسر نے کہا کہ کم از کم 25 مسافر ابھی تک لاپتا ہیں، جبکہ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ 10 جاں بحق افراد کو ریسکیو کرکے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ مسلم اکثریتی ملک بنگلادیش میں ہر سال ہزاروں ہندو زائرین بودیشوری مندر جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور مشرقی بھارت میں میں ہندو برادری کے سب سے بڑے مذہبی تہوار د±رگا پوجا کی ابتدا تھی جس کی وجہ سے قدیم مندر پر بڑی تعداد میں زائرین کا ہجوم جمع ہوا ہے۔ ناقص دیکھ بھال اور گنجائش سے زیاد مسافروں کی سواری کی وجہ سے کشتیوں کے سانحات بنگلا دیش میں عام ہیں۔اسی طرح گزشتہ سال ایک اور مسافر کشتی کے دوسری کشتی سے تصادم کے بعد ڈوبنے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس سے قبل فروری 2015 میں دارالحکومت کے مغرب میں ایک دریا میں کشتی ایک مال بردار بحری جہاز سے ٹکرا گئی تھی جس کے نتیجے میں 78 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں