شرح سود 16فیصد کردی گئی، مہنگائی توقعات سے زیادہ بڑھی ہے، اسٹیٹ بینک

کراچی :سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 100بیسز پوائنٹس اضافہ کا اعلان کیا جس سے پالیسی ریٹ 16فیصد ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے جمعہ کو منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ملک میں مہنگائی کا دباؤ مسلسل اور توقعات سے زیادہ ہے جسے قابو کرنے کیلئے شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہے۔لہٰذا شرح سود کو 15فیصد سے بڑھا کر آئندہ دو ماہ کیلئے 16فیصد کر دیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک اعلامیے کے مطابق فیصلے کا مقصد مالیاتی شعبے کا استحکام بھی ہے۔گزشتہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود 15 فیصد پر برقرار رکھی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ایم پی سی کے اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ مہنگائی کا دباؤ توقع سے زیادہ مضبوط اور مسلسل ثابت ہوا ہے۔ فیصلے کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ بڑھی ہوئی مہنگائی راسخ نہ ہوجائے، مالی استحکام کو درپیش خطرات قابو میں رہیں اور اس طرح زیادہ پائیدار بنیاد پر بلند نمو کی راہ ہموار کی جاسکے۔جاری معاشی سست روی کے اس دور میں مہنگائی کو مسلسل عالمی اور ملکی رسدی دھچکوں کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ تحریک مل رہی ہے جس سے لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ پھر ان دھچکوں کے اثرات وسیع تر نرخوں اور اجرتوں پر پڑرہے ہیں جس کی بنا پر مہنگائی کی توقعات اپنے مقام سے ہٹ سکتی ہیں اور وسط مدتی نمو کو متاثر کرسکتی ہیں۔ نتیجے کے طور پر لاگتی مہنگائی نظر انداز نہیں کی جاسکتی اور زری پالیسی کے ذریعے ردعمل ضروری ہوجاتا ہے۔ ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی کو کم کرنے کی مختصر مدتی قیمت اسے راسخ ہونے دینے کی طویل مدتی قیمت سے کم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں