سینیٹ ،اپوزیشن اور حکومتی اراکین ایک دوسرے پر برس پڑے

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سینیٹ میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین ایک دوسرے پر برس پڑے ،اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دور ان حکومتی بینچز سے شور شرابہ ، سینیٹر بہرہ مند تنگی اور سیف اللہ ابڑ و کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ، اراکین کی جانب سے ایک دوسرے پر جملے بازی کی گئی ، ایوان مچھلی منڈی بن گیا، حکو متی سینیٹر آصف کرمانی وزراء کی عدم موجودگی پھٹ پڑے اور کہاہے کہ ہم آسکتے ہیں وزراء کیوں نہیں آئے ؟ جس پر چیئر مین سینٹ نے وزراء کو اجلاس میں بلانے کی ہدایت کی جبکہ سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر شہزاد وسیم نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ملک میں بجلی نہیں تھی ،اب پورا ملک اندھیروں میں ڈوب گیا ہے ،الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری نظر نہیں آتی،فواد چوہدری کو ہتھکڑیاں لگا کر ایسے لایا گیا جیسے کوئی دہشتگرد ہو جس کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے فی الحال یہاں بات کرنا مناسب بھی نہیں ،وزیر فواد چوہدری کے معاملے پرشہادت اعوان جواب دینگے ، ایوان کو آگاہ بھی کریں گے۔ جمعرات کو سینٹ کااجلاس چیئر مین سینٹ محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے کہاکہ پہلے ملک میں بجلی نہیں تھی ،اب پورا ملک اندھیروں میں ڈوب گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کس وجہ سے بلیک آؤٹ ہوا یہ تو معلوم نہیں تاہم ملک میں اندھیرے میں چلا گیا۔اپوزیشن لیڈر شہزاد وسیم نے کہاکہ فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے رویے پر ایک تبصرہ کیا،فواد چوہدری نے کسی قانون کوتو نہیں توڑا،لیکن لگتا ہے الیکشن کمیشن کا دل ٹوٹ گیا،جس طرح سے فواد چوہدری کی گرفتاری کیلئے دھاوا بولا گیا سب نے دیکھا ۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن کے پہہ در پہہ فیصلوں سے جانبداری نظر آرہی ہے،الیکشن کمیشن کا کام فری اینڈ فئیر الیکشن کروانا ہے،جب بھی الیکشن کی باری آتی ہے الیکشن کمیشن بوجہہ تیار نظر نہیں آتا۔ انہوںنے کہاکہ حالت جنگ کیلئے فوج بھی تیار رہتی ہے ،اسی طرح سے الیکشن کمیشن کو الیکشن کیلئے ہر وقت تیار رہنا ہوتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری نظر نہیں آتی۔ شہزاد وسیم نے کہاکہ نگران وزیرِ اعلیٰ کے تقرر کیلئے الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار ہونا چاہیے ،ہم نے دیکھا الیکشن کمیشن نے ایک ایسیشخص کا نام وزیر اعلیٰ کیلئے چنا جو متنازع ہے،ایسے متنازع نگران وزیر اعلیٰ کو لگا کر الیکشن کمیشن نے جانبداری ثابت کی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ یہ وہ قصور تھا فواد چوہدری کا جس پر گرفتاری ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ فواد چوہدری کو آدھی رات کو ان کے گھر سے اٹھایا جاتا ہے،ان کو سڑکوں پر اور پھر اہک شہر سے دوسرے شہر گھمایا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کے طلب کئے جانے کے باجود فواد چوہدری کو اسلام آباد پہنچایا جاتا ہے،فواد چوہدری کو ہتھکڑیاں لگا کر ایسے لایا گیا جیسے کوئی دہشتگرد ہو۔ اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ فواد چوہدری کو چادر ڈال کر جج کے سامنے پیش کیاجاتا ہے،ایک دن میں راؤ انوار جیسے کردار عدالتوں سے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے جاتے ہیں۔ ا سموقع پر اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی بینچز سے شور شرابا کیا گیا اس دور ان سینیٹر بہرہ مند تنگی اور سیف اللہ ابڑو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور اراکین کی جانب سے ایک دوسرے پر جملے بازی کی گئی ،ایوان مچھلی منڈی بن گیا ۔چیئر مین سینٹ نے اراکین کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت دی ۔ اجلا س کے دور ان حکومتی بینچز سے وزراء کی عدم حاضری پر آصف کرمانی نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ ہم آسکتے ہیں یہاں وزراء کیوں نہیں آئے۔انہوںنے کہاکہ وزراء کو پابند بنایا جائے کہ وقت پر آیا کریں اور روز آیا کریں،ہم جب اپوزیشن میں تھے تو اعتراض کرتے تھے ایک ہی پارلیمانی وزیر سارے جواب دیتا ہے،آج بھی صورتحال مختلف نہیں آج بھی ایک وزیر مملکت سارے سوالات کے جوابات دیتے ہیں،آج بھی وزراء کی لائن خالی نظر آتی ہے ،اگر وزراء نہیں آسکتے تو اس ایوان کو تالا لگا دیں ،مانتا ہوں اسلام آباد میں ٹھنڈ ہے لیکن ممبرز بھی تو پہنچ جاتے ہیں۔چیئر مین سینٹ نے وزراء کو اجلاس میں بلانے کی ہدایت کی ۔ سینیٹر یوسف رضاگیلانی نے کہاکہ فواد چوہدری کی گرفتاری پر وزیر مملکت شہادت اعوان جواب دیں گے۔سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ معاملہ عدالت میں ہے فی الحال یہاں بات کرنا مناسب بھی نہیں ،وزیر فواد چوہدری کے معاملے پر ایوان کو آگاہ بھی کریں گے۔اجلا س کے دوران پی ٹی آئی رکن دوست محمد محسود نے چیف الیکشن کمشنر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر مسلم لیگ (ن )کا چپڑاسی ہے، منشی ایک قابل عزت لفظ ہے اس شخص کیلئے ان سے بھی گھٹیا الفاظ استعمال کئے جائیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ کسی کی بھی گرفتاری اور ہتھکڑیاں لگا کر میڈیا پر چرچا ہونا خوشی کی بات نہیں، فواد چوہدری سے ہزار اختلاف ہیں مگر انہیں ہتھکڑی میں دیکھ کر دکھ ہوا۔ انہوںنے کہاکہ دہشتگردوں کی طرح ان کے چہرے پر ہردہ ڈال کر لایا گیا اس پر بہت افسوس ہوا، ان پر تو پھر پرچہ اور پھر گرفتاری ہوئی مجھ ہر تو کوئی ہرچہ بھی نہیں ہوا تھا۔ لیگی سینیٹر نے کہاکہ آدھی رات کو مجھے میرے گھر سے گرفتار کیا گیا، جب جیل بھیجا گیا تو ہائی سیکیورٹی والے سیل میں ڈالا گیا۔ انہوںنے کہاکہ وہاں موجود مزید قیدیوں میں سے کوئی قتل تو کوئی دہشتگردی کے مقدمے میں آیا تھا، اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی مگر کسی نے مذمت نہیں کی،مجھ پر تو کرایہ داری کا مقدمہ بنا کر یہ سب سلوک کیا گیا۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ نوازشریف تو اپنی بیٹی کے ساتھ پیشیوں ہر جاتے تھے، عمران خان پر کو کئی کیسز ہیں مگر یہ کسی میں بھی پیش نہیں ہوتے۔ انہوںنے کہاکہ یہ کہتے ہیں کہ قانون سب کھ لئے برابر ہے اس وقت کہاں تھے، آج مشرف کی سزا پر کوئی بات نہیں کرتا، ہم تو مشرف کو کٹہرے میں لے کر آئے مگر آپ نے ان کی وکالت کی، ایک دوسرے کے گناہ نہ گنیں، جو کام کرنے آئیں ہیں وہ کریں۔ اجلاس کے دور ان سینیٹر افنان اللہ خان کو ایوان میں ویڈیو بنانا مہنگی پڑ گئی۔ چیئر مین سینٹ نے کہاکہ افنان اللہ اپنا موبائیل استعمال کرنا بند کریں۔ صادق سنجرانی نے کہاکہ اگر آئندہ ایوان میں موبائل استعمال کیا تو ضبط کر لیا جائے گا، چیئرمین سینیٹ کی تنبیہ کے بعد سینیٹر افنان اللہ نے اپنا موبائل جیب میں رکھ لیا۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہاکہ ہم سارے سیاسی ورکرز ہیں کسی کی گرفتاری پر شادیانے نہیں بجاتے،کوئی ایسی حکومت نہیں جو ہمیشہ کیلئے رہی ہو،حکومت صرف خدا کی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ جتنی بھی ظالم حکومت ہو اس کا خاتمہ ہوتا ہے ،جو بھی جو کرتا ہے مکافات عمل کی صورت میں آتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ فواد چوہدری کی گرفتاری پر یہاں بات کی جارہی ہے،آپ کے دور میں کیا کیا ہوا کون ایسا تھا جس پر کیس نہ بنوائے ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ آپ جب یہ باتیں کرتے ہیں تو آپ کیوں مریم نواز فریال تالپور کے ساتھ جو کیا بھول گئے۔ انہوںنے کہاکہ رانا ثناء اللہ پر کس طرح ہیروئن کا مقدمہ بنایا کہاں ہے وہ جنہوں نے اللہ کو جان دینی تھی۔ پلوشہ خان نے کہاکہ عرفان صدیقی ایک بزرگ شخصیت ہیں ان کو ہتھکڑیوں میں جکڑا،حنیف عباسی کا کیس کسی کو یاد ہو رات کو سزا دلوانے کیلئے عدالت لگی،ہم کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیتے نہ کسی کی سیاسی گرفتاری ہونی چاہیے۔سینیٹ میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ عمران خان کہتے ہیں قانون سب کے برابر ہو، اے سی غریب آدمی کی جیل میں بڑے آدمی کی جیل میں اے سی کیوں ہو؟۔ انہوںنے کہاکہ چھوڑے چور جیل میں بڑے چور اقتدار میں ہیں ،ایک عمران خان کو ہٹانے سارے چور اکٹھے ہوگئے ہیں ،عمران خان نے این آر او نہیں دیا انہوں نے این ار او مانگا ،عمران خان دوبارہ وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ،وزیروں نے اداروں کے خلاف بہت بیانات دئیے ،فواد چوہدری نے اْس طرح کی اداروں کے خلاف بات نہیں کی ۔ انہوںنے کہاکہ رضا ربانی کہاں ہیں جو ہمارے دور اقتدار میں جو آئین کھول کے بات کرتے تھے آج کیوں خاموش ہیں 30،35 سال سے باریاں لگی ہوئی ہیں ،کسی کو غریب کی فکر نہیں مہنگائی بڑھ گئی ان کا اکنامک سروے بتاتا ہے پی ٹی آئی گورنمنٹ بہتر تھی ،پنجاب اور کے پی کے میں فوری الیکشن ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ پی ایف یو جے سراپاً احتجاج ہے ،حکومت میں آزادی صحافت پر قد غن لگائی جارہی ہے ،ارشد شریف کو شہید کر دیا گیا ،عماد یوسف کا قصور کیا ہے؟۔ فیصل جاوید نے کہاکہ عمران خان سے ڈر کر پارلیمنٹ بند کردی،ہم استعفے واپس لینے آرہے تھے اس لئے پارلیمان بند کردی۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ بجلی کا شارٹ سرکٹ ہوا جس کیوجہ سے پارلیمنٹ بند کردی۔پی ٹی آئی سینیٹر دوست محمد محسود نے انکشاف کیا کہ خیبر پختوانخواہ میں وزارتیں بک رہی ہیں،کے پی میں بڑے بڑے سیٹھ وزراء بنے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جے یوآئی،(ن )لیگ،پیپلزپارٹی اور اے این پی نگران حکومت کیلئیوزارتوں کے لئے بولیا لگا رہی ہے،ان جماعتوں کا ایک پول ہے وہاں جاکر بولی لگتی ہے اور من پسند وزرات لی جاتی ہے۔سینیٹر بہرہ مند نے کہاکہ میرے لیڈر نے ملک کو آگ لگانے کی بات نہیں کی ،زرداری نے کہا تھا عمران خان تم رو گئے ،عمران کو خان نہیں کہوں ان کو خان کہنا پٹھان کو گالی دینے کے مترادف ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عمران کٹھ پتلی وزیر اعظم تھا بجٹ پاس کرنے کیلیے اداروں کی منتیں کرتا تھا ۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ ہی ٹی آئی کا لیڈر گرفتاری سے ڈرتا ہے فواد چوہدری کو پی پی پی نے گرفتار نہیں کیا،سندھ میں حکمرانوں نے گندم چوری کی ہے اْس کا جواب دیں ۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم خود اس میں شامل جماعتوں کو انصاف نہیں دے رہی ،میری جماعت خود مجھے وقت نہیں دے رہی ورنہ میں آپ کی طبیعت صاف ہو جاتی ۔ انہوںنے کہاکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو نوازشریف نے جیل ڈالا ،عمران خان نے جیل میں نہیں ڈالا ۔انہوںنے کہاکہ پندرہ جنوری کو کراچی میں بلدیاتی الیکشن ہوا ،ہمارے ایم پی اے کے ساتھ کیا کیا؟۔سینیٹ میں سینیٹر محمد مشتاق نے کہاکہ بلوچستان دْکی کے علاقے میں خان محمد مری کے بیوی بچے نجی جیل میں ہیں ،خان محمد کی بیوی بچوں کو بازیاب کرایا جائے ،سینیٹ غریب آدمی کی آواز بنیں ظلم ختم ہونا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ بلوچستان میں ایک ظلم وسائل پر ظلم ہورہا ہے ،معاملہ انسانی حقوق کمیٹی کے سپرد کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ فواد چوہدری کے ساتھ بہت اختلاف ہیں مگر اْس کے ساتھ ہورہا ہے وہ غلط ہے ،ہمیں آصولوں کے ساتھ چلنا چاہیے ،اعظم سواتی کو ایک ٹوئٹ پر گرفتار کیا جائے ،پرویز مشرف کے خلاف عدالت کا فیصلہ پڑا اْس پر کوئی بات نہیں کرتا ،پارلیمنٹ ہائوس کی توہین پر کوئی بات نہیں کرتا ،دبئی کا ٹریفک سگنل پاکستان کے قانون سے زیادہ طاقتور ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں