امریکی صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری

اداریہ
ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت30سے زائدامریکی فوجی، سیاسی عہدیدار اور دیگرغیر ملکی افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ہیں گرفتاری میں مدد کے لئے انٹرپول سے مدد مانگ لی لیکن انٹرپول نے معاملہ سیاسی قرار دے کر معذرت کر لی ہے۔انٹر پول کی اپنی مجبوریاں ہیں۔امریکی صدر سمیت دنیا بھر کے تمام صدور کوسرکاری ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے متعدد استثناء پہلے ہی ملی ہوتی ہیں۔یہ قانونی رعایت ایران کے علم میں ہے دوران سماعت تہران کے پراسیکیوٹر عالی القاسمی مہر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ان کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی۔ تاہم ایرانی عدلیہ کا یہ فیصلہ اور ایرانی حکومت کی جانب سے کیا گیا اعلان اس حقیقت کی جانب واضح اشارا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں سے خائف نہیں۔نہ ہی اسے امریکی پابندیوں کی پرواہ ہے۔امریکی پالیسی ساز ایک بار پہلے(صدر بارک اوبامہ کے دور میں) معاہدہ کر چکے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کر دیااور ایران کو صفحہئ ہستی سے مٹا دینے کا احمقانہ نعرہ بھی لگایا تھا۔ ایرانی عوام نے طویل مدبرانہ اور جرأت مندانہ جدوجہد کے نتیجے میں امریکا کے مسلط کردہ (شہنشاہ) رضا شاہ پہلوی کوایران سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا انہوں 8سال تک امریکی مفادات کی جنگ لڑنے والے صدام حسین کا مقابلہ کیا،اور اسے شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ایرانی عوام کے سینے پر فتح کے ایک سے زائد رتمغے جگمگا رہے ہیں اور امریکا ویت نام کی شکست سے افغانستان کی شکست تک اپنی ناکامیوں کی تاریخ لکھ رہا ہے۔ امریکی پالیسی ساز ایران کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری جیسے اقدام کو اس کے اصل تناظر میں دیکھے خود کو دنیا کا چوہدری سمجھنا چھوڑ دے۔
خلق خدا پربے حدوحساب ظلم کرنے والا امریکا یہ بھی سوچے کہ انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے ننھے سے نیم جان وائرس کے سامنے’ناسا‘ سمیت تمام سائنس اور ٹیکنالوجی کیوں بے بس دکھائی دیتی ہے؟ایک وائرس نے عالمی معیشت کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے،کہیں یہ مکافات عمل تو نہیں؟فلسطین، کشمیر،شام، عراق، افغانستان، لیبیاء، صومالیہ اور دنیا بھر کے وسائل لوٹنے اور انسانوں کی بڑی تعداد کو بھوک، افلاس، جہالت اور تباہی کی طرف دھکیلنے جیسے جرائم پر قدرت کی جانب سے انتقام تو نہیں؟مظلوم عوام یہی سمجھتے ہیں کہ آج کے فرعونوں اور نمرودوں کے حساب کا وقت آچکا ہے۔اس ننھے وائرس نے کالوں کے خلاف گوروں کے دلوں میں پائی جانے والی نفرت کو بے نقاب کر دیا ہے،اگر امریکی پالیسی سازوں نے خود کو 1945کی جنگی نفسیات سے باہر نہ نکالا اور بدلتے ہوئے زمینی حقائق کا ادراک نہ کیا تو مستقبل قریب میں اسے ایرانی عدلیہ جیسے فیصلے ہر ملک کی عدالتوں میں سنانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ امریکی جنگی جنون انتہا کو پہنچ چکا ہے۔عرب ممالک راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ چار دہائیاں پہلے لگائی گئی آگ ابھی سرد نہیں ہوئی افغانستان سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا ہے۔لگتا ہے افغان طالبان سے بھی سچ نہیں بولا جا رہا،معاہدہ ہوا میں معلق ہوکر رہ گیا ہے۔امریکا کی جانب سے سنجیدگی کا فقدان ہے یا منافقت کی بدترین مثال قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ورنہ اشرف غنی میں اتنا دم نہیں کے اپنی شرائط ڈکٹیٹ کرائے۔غلط سوچ کی اصلاح نہ کی گئی تو جو کچھ ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ہوا تھا وہی مناظر کسی بھی ملک میں دیکھے جا سکتے ہیں اور ان ممالک میں امریکا بھی شامل سمجھا جائے۔گزشتہ کل والا رعب و دبدبہ امریکی صدر کے پاس آج نہیں رہا یاد رہے کہ آنے والا کل کا سورج نئے تقاضوں کے ساتھ طلوع ہوگا۔ہر صاحب شعور کو دیواروں پر لکھی ہوئی تحریر صاف نظر آرہی ہے:
”دنیا کسی نئے ہٹلر کو کسی روپ میں قبول نہیں کرے گی“،
پاکستان ابھی تک پرانی ٹیلیفونک”ہاں“ سے لگنے والے زخموں کی مرہم پٹی کرر ہا ہے۔اسامہ بن لادن کو ”شہید“ کہنے لگا ہے۔یہ بہت بڑی پالیسی شفٹ کا ہلکاسا اشارا ہے۔امریکی تھنک ٹینک اسے کافی سمجھیں پہلے دنیا کے عوام امریکا کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اب وہ حکومتیں بھی عوام کی ہاں میں ہاں ملاتی دکھائی دیتی ہیں جو کل تک امریکی صدر کے پہلو میں کھڑے ہوکر تصویر کھنچوانے کو اپنی بقاء کی ضمانت سمجھتی تھیں۔حکومتوں کانام لینے کی ضرورت نہیں،امریکی تھنک ٹینک یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔اب امریکا جان لے کہ وہ دنیا کو تباہ کرنے والا آگ اوربارود بیچ کر100، 100 ارب ڈالر وصول نہیں کر سکے گا۔دنیا 75سال سے یہ ظلم برداشت کر رہی ہے اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ممکن ہے امریکی تھنک ٹینک حکومتوں کے بدلتے تیور دیکھ کر یہ کہے کہ یہ وقتی یا عارضی رد عمل ہے مگر یہ کہنا اسے اس کے سر پر منڈلاتے خطرات سے نہیں بچا سکے گا۔کورونا کا خوف اترنا شروع ہو گیا ہے معاشی سرگرمیاں بحال ہونے لگی ہیں۔جیسے جیسے دنیا کورونا کے خوف سے باہر نکلے گی،اسی کے ساتھ ساتھ امریکی چوہدراہٹ کے خوف سے بھی باہر آ جائے گی۔ماضی میں ایمپائرز آسمان کی بلندیوں سے گر کر ناپید ہو چکی ہیں مستقبل قریب میں ایسے مناظر دہرائے جائیں گے۔جب حکمران درست فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں تو تاریخ اپنے فیصلے خود سناتی ہے۔جسے شبہ ہو رومن ایمپائر اورایرانی ایمپائر کا اتہ پتہ بتا دیں۔امریکا تو کولمبس کی دریافت ہے، اس سے پہلے یہ دنیا کے نقشے پر موجود نہیں تھا۔کولمبس نے اعلان کیا تھا:
”ہم انڈیا کے مغرب میں پہنچ گئے ہیں“

اپنا تبصرہ بھیجیں