نیب کا ناقابل یقین دعویٰ

اداریہ
نیب کی جانب سے وقتاً فوقتاً اپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کو باخبر رکھنے کے لئے اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے۔یہ استحقاق ہر ادارے کو حاصل ہے۔اب تو ججز بھی بولتے ہیں جبکہ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ جج نہیں بولتے،ان کے فیصلے بولتے ہیں۔نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ نیب کی کارکردگی نہ صرف ملک میں مثالی رہی ہے بلکہ سارک ممالک کے لئے بھی رول ماڈل ہے۔یہ دعویٰ پاکستانی عوام و خواص کے علم و تجربہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ حتّٰی کہ چند روز قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے بھی نیب کی کارکردگی کے حوالے سے شدیدی برہمی کا اظہار کیا اور یہاں تک کہا کہ نیب کو بند کر دینا چاہیئے۔ 20،20سال میں ریفرنس کا فیصلہ نہیں ہوتا حالانکہ نیب کو90روز میں ریفرنسز کا فیصلہ سنا دینا چاہیئے۔نیب کے علم میں سپریم کورٹ کی برہمی اور دیئے گئے ریمارکس ہوں گے۔ تعجب ہے کہ جب پاکستان کی سپریم کورٹ نیب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تو نیب اعلامیہ میں کیا جانے والا یہ دعویٰ عام آدمی کیسے تسلیم کر لے گا کہ نیب کا ادارہ سارک ممالک کے لئے بھی رول ماڈل ہے؟اس کے معنے یہی ہوں گے کہ سارک ممالک کے پاس نیب سے بھی زیادہ ناقص کارکردگی والے احتسابی ادارے ہیں۔جب نیب کی 5عدالتیں برسوں سے جج کی تقرری کو ترس رہی ہیں،اور ارشد ملک جیسی کالی بھیڑیں موجود ہوں جو مجرموں کی سفارش پر اپنی پوسٹنگ کراتی ہیں (یاد رہے کہ جج ارشد ملک کی ویڈیو میں یہ اعتراف موجود ہے)، انہوں نے تین بار وزیر اعظم رہنے والے محمد نواز شریف جیسے اہم ترین ملزموں کے مقدمات کا فیصلہ سنایاہے اور فیصلہ سنانے کے بعد مجرم کے گھر جا کر انہیں ایک مقدمے میں بری کرنے اور دوسرے مقدمے میں کم سزا سنانے کی شاباشی وصول کرتے رہے ہیں۔ عام آدمی یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہے کہ اتنے طاقت ور ادارے میں ججز کی تقرری سے پہلے ان کی اہلیت اور کردار کے حوالے سے مناسب چھان بین بھی نہیں کی جاتی۔
نیب کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ نیب میگا کرپشن اوروائٹ کالر کیسز نمٹانے کے لئے پر عزم ہے،اس کا انحصار مستقبل کی کارکردگی پر ہے۔البتہ سزا کی شرح68.8ہونے کے شواہد نیب کے پاس ہوں گے،اس پر کوئی تبصرہ مناسب نہیں عام آدمی کی نظریں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہیں جہاں ایک دو روز بعد 120نیب کورٹس کی تشکیل کے حوالے سے سماعت ہونے جا رہی ہے۔بہت کچھ سامنے آ جائے گا، عدالت کے تیور بتا رہے ہیں کہ اب بگاڑ کو کسی صورت، کسی جگہ اور کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ عدالتی سست روی کے بارے میں قانون دان ایک کہاوت اکثر دہراتے ہیں:
Justice delayed is justice denied.
انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے
پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے 23ماہ ہو چکے۔اگر نیب عدالتیں 90روز میں فیصلہ سنانے کا قانونی فریضہ ادا کرتیں تو نیب کو اعلامیہ جاری کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ ہوتی۔ہر شخص دیکھ رہا ہوتا کہ میگاکرپشن کیسز کے فیصلے سنائے جا رہے ہیں۔ اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد میڈیا کو دکھانے کی بجائے ان شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنا دی جاتیں تو کسی ملزم اور اس کے حمایتیوں کو یہ کہنے کی ہمت نہ ہوتی کہ ایک دھیلے کی کرپشن اتنے برسوں میں ثابت نہیں ہو سکی۔سارے الزامات جھوٹے ہیں۔ ملزمان کی طرف سے اس قسم کے دعوے بے بنیاد نہیں، صداقت پر مبنی ہیں۔اس لئے کہ قانون یہ کہتا ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مجرم نہیں سمجھا جا سکتا جب تک کہ اس کا جرم ثابت نہ ہوجائے۔ چیئرمین نیب کی ساری پیشہ ورانہ زندگی عدالت میں گزری ہے۔لوئر کورٹ سے سپریم کورٹ تک ہر منصب پر کام کیا ہے۔ان حقائق سے ان سے زیادہ کوئی دوسرا شخص باخبر نہیں ہو سکتا۔عدالتی حلقوں میں یہ جملہ بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے:انصاف کا صرف ہونا کافی نہیں یہ بھی ضروری ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔
واضح رہے کہ یہ تنہانیب پر کوئی تنقید نہ سمجھی جائے اس لئے ضرورت کے مطابق عدالتوں کا قیام، اہل مستعد اور عدل پر مبنی فیصلہ سنانے کی صلاحیت رکھنے والے ججز کی تقرری نیب از خود نہیں کرتا۔ وزارت قانون کے دائرہ اختیار میں ہے۔اور وزارت قانون مطلوبہ فنڈز کے لئے وزارت خزانہ کی محتاج ہے۔کابینہ سے منظوری بھی آسان نہ سمجھی جائے۔پی ٹی آئی کی حکومت سے پہلے اتنی باقاعدگی سے کابینہ کے اجلاس منعقد نہیں ہوتے تھے۔وزیر اعظم مہینوں ملک سے باہر قیام کرنے کے عادی تھے۔گویا ہر شخص کی زبان پر غالب کا یہ مصرع بیقرار رہتا تھا:”کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک!“۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔جعلی اسناد اور لائسنس والے پائلٹ ملک کی بدنامی کا سبب اس لئے بنے کہ انہیں جعلی اسناد اور لائسنس فراہم کرنے والے ادارے موجود تھے۔جعلی اسناد قبول کرنے والے بااختیار افسران پی آئی اے میں بیٹھے تھے۔انہیں لانے والے اور ان کی سرپرستی کرنے والوں میں بہت سارے پردہ نشینوں کے نام شامل ہیں۔کورونا وائرس کے خاتمہ جیسی ایک مہم کرپشن وائرس کے خاتمہ کے لئے بھی چلانے کی ضرورت ہے۔نیب کے ملزم کو پابند کیا جانا بھی اہم ہے کہ وہ ہر پیشی پر حاضر ہو جو پوچھا جائے اس کا جواب دے یہ نہ کہے کہ اس سوال کا جواب میرا بیٹا دے گااور اس کا بیٹا برطانیہ کا شہری نکلے۔عام آدمی نیب کا اعلامیہ پڑھ کر مطمئن نہیں ہوگااسے عدالتی فیصلے اور فیصلوں پرہونے والا عمل درآمد مطمئن کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں