فاقی حکومت سے علیحدگی کے بعد سے سازش کے تحت صوبے میں حالات خراب کئے جارہے ہیں،بی این پی

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد سے ایک سازش کے تحت صوبے میں حالات خراب کئے جارہے ہیں تاکہ ہم دوبارہ حکومت کی جانب رجوع کرے، کسی بھی صورت میں نااہل اور کرپٹ صوبائی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، خضدار میں ہندو تاجر کو بھتہ نہ دینے پر قتل کیا گیا، صوبائی حکومت میں شامل اتحادی ناراض ہے، ورکر سے لے کر پارٹی قائد تک صوبے کے حقوق پر سودے بازی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرملک عبدالولی کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی میر اکبر مینگل نے کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بی این پی کے مرکزی فنانس سیکرٹری و بلوچستان اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی، ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ، بلوچ سٹوڈنٹس کے مرکزی سیکرٹری جنرل منیر جالب بلوچ، اراکین صوبائی اسمبلی ثناء بلوچ، ٹائٹس جانسن، بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے رکن غلام نبی مری، ٹکری شفقت لانگو بھی موجود تھے۔اس موقع پر ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے صوبے کے مختلف اضلاع، شہروں اور علاقوں میں روز کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18جولائی کو خضدار کے علاقے وڈھ میں ہندوتاجر نانک رام چن کو دن دیہاڑے قتل کرکے ملزمان فرار ہوگئے اس سے قبل 17اور 18جولائی کی درمیانی شب کو ناگ میں نیپ کے سرکردہ رہنماء پروفیسر عبدالخالق بلوچ اور اس کے سالے عبدالرشید جو کہ کھیتی باڑی کے بعد واپس گھر جارہے تھے کی گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا اور آج تک ان کے قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ملزمان کو جاننے کے باوجود گرفتار نہ کرنا باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ خضدار میں پارٹی کے سینئر نائب صدر شفیق الرحمن ساسولی کو ٹیلی فون پر سنگین نتا ئج کی دھمکیاں دی گئیں ان کے گھر کفن پھینکا گیا حکومت اور انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کے باوجود آج تک ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے بلوچ اضلاع کے علاوہ پشتون اضلاع میں بھی امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خود اس بات کا اعتراف کرچکی ہے کہ ان کے پاس اختیار نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ صوبے میں سازش کے تحت حکومتی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے ایسے واقعات کرائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات کے باعث صوبے میں خانہ جنگی کے خدشات پیدا ہوں گے۔ صوبے کے مزدور، غریب اور بے سہارا لوگوں پر مسلط حکومت کی کارکردگی سے حکومت کے اپنے اتحادی اس کی کارکردگی سے نالاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر حکومت نے صوبے میں ہونے والے واقعات پر قابو نہ پایا تو بی این پی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک بہت بڑے احتجاجی تحریک کی کال دے گی۔ اس موقع پر خضدار کی تحصیل وڈھ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اکبر مینگل نے کہاکہ بلوچستان کے موجودہ حالات کسی سے پوشیدہ نہیں، صوبے میں ایک بار پھر کالعدم تنظیمیں اور ڈیتھ سکواڈ فعال ہورہے ہیں۔ ہندوتاجر نانک رام چن کو بھتہ نہ دینے پر قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محسوس ہورہا ہے کہ جب سے بی این پی نے وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کی ہے تب سے ایسے حالات پیدا کرکے پارٹی پر سیاسی میدان میں زمین تنگ کی جارہی ہے جو کہ صوبے کے حالات خراب کرنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2سالوں میں بلوچستان حکومت کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں جتنے فنڈز مجھے دیئے گئے ان سے 3گناء زیادہ فنڈز ایک غیر منتخب شدہ شخص کو دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو حالات خراب کرنے والوں کے خلاف اہم اقدامات اٹھانے چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں ملک عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ جب ہم وفاق میں حکومت کے اتحادی تھے تو ہمیں بار بار بلوچستان حکومت میں شامل ہونے کا کہا جاتا رہا تاہم ہمار ا اب بھی موقف واضح ہے کہ کرپٹ اور نااہل صوبائی حکومت کا حصہ کسی صورت نہیں بنیں گے۔ پارٹی کے ورکر سے لے کر قائد تک صوبے کے حقوق پر سودے بازی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہماری آواز کو جتنی دبانے کی کوشش کی جائے گی ہمارے حوصلے اتنے ہی بلند اور مضبوط ہوں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کے اتحادی ناراض ضرورہے تاہم انہیں مختلف حربے اختیار کرکے حکومت میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحادی جماعت کے پارلیمانی لیڈر نے گزشتہ روز اپنی ہار اور اسٹبلیشمنٹ کی جیت کا اعتراف کیا، بتا یا جا ئے کہ موصوف اپنی جماعت کے اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر اراکین کے خلاف کیا کارروائی کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں