حکومت ہمارے مطالبات سے بھاگ رہی، آئی پی پیز کا مسئلہ حل نہ ہونے تک دھرنا جاری رہے گا ،حافظ نعیم الرحمان
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم ہمارے مطالبات سے بھاگ رہی ہے، آئی پی پیز والا معاملہ جب تک حل نہیں ہوگا ہمارا دھرنا ختم نہیں ہوگا،مطالبات پورے نہیں کریں گے تو یہ تحریک حکومت ہٹائو تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے۔راولپنڈی میں دھرنے کے ساتویں روزپریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی جو مطالبات کررہی ہے وہ تمام حقیقت پر مبنی ہیں، حکومت مختلف لوگوں سے کہلوانا چاہ رہی ہے جماعت اسلامی کے مطالبات قابل عمل نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے پاس ہماری کسی بات کا جواب نہیں، ہم سے بجلی قیمت وصول کریں،اضافی ٹیکس وصول نہ کریں، جو بجلی بن ہی نہیں رہی اس کی قیمت بھی ہم سے وصول کی جاتی ہے،1994سے ہی آئی پی پیز کا دھندا شروع ہوا تھا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جن لوگوں نے آئی پی پیز معاہدے کئے ان کو بھی فکس ہونا چاہیے تاکہ آئندہ قوم کے ساتھ مذاق نہ ہو،آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ہزاروں ارب روپے لوٹ لئے گئے ،یہ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی باتیں کہ معاہدے ختم نہیں کرسکتے،جن معاہدوں کی مدت ختم ہوگئی، ان کو ختم کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جو بجلی مہنگے طریقے سے بن رہی ہے اس کے پیسے قوم کیوں ادا کرے، آئی پی پیز والا معاملہ جب تک حل نہیں ہوگا ہمارا دھرنا ختم نہیں ہوگا، جماعت اسلامی کے دھرنے میں کراچی کے انڈسٹریل آئے ہیں، تنخواہ دار طبقے پر بجٹ میں نیا سلیب لگایا اس کو ختم کیا جائے۔انہوںنے کہا کہ یہ کہتے ہیں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے کا آئی ایم ایف نے کہا ہے، حکومت نے آٹا،چینی ،چاول اور بچوں کے دودھ پر بھی ٹیکس لگادیا ہے، یہ قوم کے ساتھ کیا مذاق ہورہا ہے؟ اسحاق ڈار کہاں کھڑے ہیں،چیئرمین ایف بی آر کہاں کھڑا ہے، یہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جس رکن ارکان اسمبلی اور سرکاری افسر گاڑی چلانی ہے پرائیویٹ پٹرول ڈالے، تمہارے گھر کی شاپنگ کا خرچہ مڈل کلاس اور تاجر برداشت نہیں کریں گے،تمہاری بیگمات اور بچوں کا خرچہ عوام کیوں ادا کریں، یہ نہیں ہوسکتا تم عیاشیاں کرتے رہو اور ہم ٹیکس ادا کریں، وہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگا رہے ہیں مگر جاگیرداروں پر ٹیکس نہیں لگارہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ کہ انہیں بجلی کی قیمت لاگت کے حساب سے طے کرنا ہوگی، جاگیرداروں پر مناسب ٹیکس بھی لگ جائے تو عوام کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے، جاگیردار چینی کا بحران پیدا کرکے بھی اربوں کماتے ہیں، یہ طبقہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں رکھ کر ہم پر مسلط ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کو برباد کرکے رکھ دیا ہے، پاکستان کی 54فیصد ایکسپورٹ کراچی سے ہوتی ہے، کراچی کی انڈسٹری کو پانی اور گیس کی سہولت ٹھیک سے میسر نہیں، ایف بی آر کے 25ہزار ملازمین ہیں، ایف بی آر میں انکوائری کا مطلب ہوتا ہے رشوت کا ریٹ بڑھانا، ایف بی آر میں ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، آپ ایف بی آر کو مزید اختیار دے کر انڈسٹری کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم بتادیں ان کو 1300سی سی والی گاڑی میں بیٹھنے پر تکلیف کیا ہے، بڑی گاڑیوں میں بیٹھنے پر آپ کو امریکہ یا کسی اور سے نہیں پوچھنا پڑے گا، یہ اتنی معمولی سی بات بھی نہیں مان سکتے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گورنمنٹ سود پر اپنے ہی بینکوں سے قرضے لئے جارہی ہے،حکومت سے مذاکرات کا تیسرا دور میڈیا پر ہونا چاہیے،حکومت یہ مت سمجھے کہ ہم گھر جائیں گے، حکومت ہمارے مطالبات سننے کہ بعد کہتی ہے کہ ہم مجبور ہیں، مطالبات پورے نہیں کرسکتے تو گھر جائیں، مطالبات پورے نہیں کریں گے تو یہ تحریک حکومت ہٹائو تحریک میں تبدیل ہوسکتی ہے، ہم سارے آپشن استعمال کریں گے، ہڑتال کریں گے، شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔


