اپوزیشن کی35 ترامیم مسترد

پاکستان کی تاریخ شاہد ہے حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کا یہ بنیادی اصل تا حال نہیں سمجھ سکیں کہ دونوں ایک ہی گاڑی کے دو پہیئے ہیں، دونوں ایک ہی سمت میں گھومیں گے تو جمہوریت کی گساڑی آگے چلے گی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پہیہ گھڑی کی سوئیوں کے موافق گھومے اور دوسرا پہیہ گھڑی کی سوئیوں کے مخالف گھومنے کی کوشش کرے اور گاڑی آگے کی سمت ہموار رفتار سے چلتی رہے۔اگر سادا الفاظ میں پاکستان کے مسائل پر گفتگو کی جائے تو سرفہرست یہی مسئلہ دکھائی دے گا۔پاکستان میں مارشل لاء کے نفاذ کا یہی سبب رہا ہے۔اپوزیشن حکومت کی مخالفت میں تمام حدود پار کرنے کی کوشش کرتی رہی انجام یہی نکلا کہ حکومت کے ساتھ اپوزیشن بھی زمین بوس ہو تی ر ہی ہے۔بظاہر اپوزیشن یہی سمجھتی ہے کہ اس نے میدان مار لیا ہے مگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو اس بے رحمانہ لڑائی میں اپوزیشن بھی بہت کچھ کھو بیٹھتی ہے۔قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان16دسمبر1971کو دو لخت ہوگیا موجودہ پاکستان کے پہلے حکمران سویلین صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرذوالفقار علی بھٹونے قائداعظم والے پاکستان کے شکست خوردہ حکمران صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرجنرل آغا محمدیحییٰ خان سے 20دسمبر1971کو اقتدار سنبھال لیا۔ اقتدار کی اس تکلیف تبدیلی (ایک باوردی مگر شکست خوردہ جنرل سے ایک سویلین کو صدر و چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تسلیم کرتے ہوئے اقتدار کی منتقلی)سے عام آدمی اور سیاسی تجزیہ کاریہ سمجھے کہ اب بچے کھچے پاکستان میں کبھی مارشل لاء نہیں لگایا جائے گا۔لیکن 5جولائی1977(سقوط ڈھاکہ کے 5سال6ماہ اور19دن بعد)جنرل محمد ضیاء الحق نے تجزیہ کاروں اور عام آدمی کی اس خام خیالی کو ہوا میں تحلیل کردیا۔ رات گئے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے کہا:
”میں خدائے بزرگ و برتر کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے موقع دیا کہ میں اس ملک کی عظیم قوم سے خطاب کر وں۔آپ نے سن لیا ہوگا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہوگئی ہے اور اس کی جگہ ایک عبوری حکومت قائم ہو ئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں نہ میں کوئی سیاسی عزائم رکھتا ہوں اور نہ فوج اپنے جنگی پیشہ سے الگ ہونا چاہتی ہے۔میرا کام ملک میں صرف اور صرف الیکشن کراناہے جو18اکتوبر1977کو منعقد ہوں گے۔۔۔۔۔ الیکشن کے فوراً بعد اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپ دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو حلفیہ یقین دلاتا ہوں کہ میں اس پروگرام سے انحراف نہیں کروں گا“۔
تاریخ شاہد ہے کہ جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنا حلفیہ وعدہ (17اگست1988)مرتے دم تک پورا نہیں کیا۔ سچ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی اپوزیشن کوبھی ایک جمہوری حکومت کو ہٹانے اور گھر بھیجنے کے صلے میں شرمناک شکست اور رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ دیکھ لیں؛ جماعت اسلامی، جمیعت علماء اسلام کہاں کھڑی ہیں؟دیگر بھی اپنا حشر دیکھ لیں انہیں اس لڑائی کے نتیجے میں کیا ملا؟اور ان مذہبی جماعتوں کا ساتھ دینے والی قوم پرست جماعتوں نے اپنا کتنا نقصان کیا؟نیپ کے سربراہ نے ”پہلے احتساب بعد میں انتخاب“ کا نعرہ لگا کر جمہوریت اور اپنی جماعت کی کتنی خدمت کی؟البتہ عوام اور ملک اس لڑائی میں اپنی ساکھ اور معیشت سمیت بہت کچھ ہارگئے۔ آج پاکستان کے حکمراں ایف اے ٹی ایف کے سامنے دست بستہ کھڑے دہائی دے رہے ہیں:”خدا را ہمیں گرے لسٹ سے نکالئے!“، ”خدارا بلیک لسٹ میں جانے بچایئے“۔ ملک عزت اور وقار سے محروم ہوا۔اس ملک کا پاسپورٹ دنیا بھر میں بے توقیر ہوا۔جس ملک کی اپوزیشن اور حکومت آپس کی لڑائی میں بہت دور نکل جائیں۔اس کی معیشت کورونا کے بغیر ہی منفی ہو چکی ہوتی ہے۔ وہاں ترقی اور خوشحالی کا عمل رک جاتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اس انجام کے بعد بھی سنجیدگی اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ اپوزیشن شائد حکومت کو قانون سازی کے حوالے سے بہت کمزور سمجھ رہی ہے ورنہ نیب قوانین کے لئے ایسی ترامیم تجویز نہ کرتی جو عام آدمی بھی اپنی کم علمی کے باوجود قبول نہ کرتا۔ پہلی نظر میں ہی محسوس ہوجاتا ہے کہ یہ تجاویز پارلیمنٹ کے معززاراکین نے نہیں تیار کیں۔ نیب کے ملزمان نے اپنے تحفظ کے لئے مرتب کی ہیں۔اپوزیشن کی یہ خوش فہمی کہ اسے دھرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ابھی راستے میں ہوں گے کہ اطلاع مل جائے گی۔ حکومت گھر بھیج دی گئی ہے،بے بنیاد ہے۔جبکہ اصل صورت حال یہ ہے اس احتجاجی ریلی/جلوس کی قیادت کے لئے پی پی پی کے نوجوان چیئرمین کہتے ہیں:”صحت مندشہباز شریف قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لئے تیار ہیں“،اور ایک لمحہ ضائع کئے بغیر مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف جواب دیتے ہیں:”میں قیادت کی ذمہ داری نوجوان کندھوں پر منتقل کرنے کے لئے تیار ہوں“۔جس تحریک کی قیادت قبول کرنے کی بجائے اپوزیشن دونوں پارٹیوں کے قائدیہ تاج دوسرے کے سر پر سجانے کی فکر میں ہوں اس کی قوت اور کامیابی کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔دونوں پارٹیوں کی دوسرے درجے کی قیادت کا بے ساختہ قہقہہ کافی ہے! یاد رہے؛سیاست دان خواہ کتنا ہی بیوقوف کیوں نہ ہو‘ اڑتی چڑیا کے پر گننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ الگ بات ہے وہ اس صلاحیت سے کام لینے کے لئے کسی غیر مرئی قوت کے اشارے کا برسوں انتظار کرتا ہے۔اشارا نہ ہو تو صرف قہقہوں پر گزارا کیا جاتا ہے۔جیسا کہ آج کل قیادت کے لئے کوئی اپنے کندھے پیش نہیں کررہا۔ جوان قائد کسی بوڑھے قائد سے امید لگائے بیٹھا ہے اور بوڑھاقائد جوان کندھوں کی تلاش میں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں