بار بار کی تاخیر کے بعد ڈپٹی چیئرمین کی صدارت میں سینیٹ اجلاس شروع

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر اب تک اتفاق رائے نہ ہونے کے باوجود سینیٹ اجلاس بار بار کی تاخیر کے بعد شروع ہوگیا۔ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس مقررہ وقت سے 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع ہوا۔تاخیر سے شروع ہونے والے سینیٹ اجلاس میں مجموعی طور پر 49 سینیٹرز موجود ہیں، اجلاس میں وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک منظور کی گئی، تحریک سینیٹر عرفان صدیقی نے پیش کی۔ایوان میں معمول کے ایجنڈے کے تحت کارروائی جاری ہے، بینکنگ کمپنیز ترمیمی بل 2024 سینیٹ سے منظور کیا گیا، بل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں پیش کیا۔اجلاس کے دوران سینیٹر دنیش کمار نے سوال اٹھایا کہ اس بل کا بینکنگ کے شعبے اور بینک مالکان کو کیا فائدہ ہوگا؟وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل خزانہ کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے، بل بینکنگ انڈسٹری کو معاشی نقصان سے بچانے کے لیے ہے، بل کے ذریعے کئی اصلاحات لائی گئی ہیں، بینکنگ کے شعبے میں اصلاحات لارہے ہیں۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ آج چھٹا دن ہے ترامیم پیش کی جائیں، ہمیں ہر جگہ سے فون آرہا ہے کہ کیا بنا ہے؟ ہمیں لوگ ترمیم والا سینیٹرز کہنا شروع ہوگئے ہیں۔محمد اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ جلد ہی ایوان میں نان فائلرز کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی کیونکہ دنیا کے کسی ملک میں نان فائلرز کی اختراع موجود نہیں ہے۔ایوان میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اسلامک بینکنگ کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ سے سوال کیا کہ یہ کس طرح کی بینکنگ ہے؟جواب میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس پر اسلامی بینکاری کے ماہرین کو بلا کر ایک علیحدہ سیشن رکھا جائے گا، ہم اپنے ملک کی مقامی صنعتوں کو شرعی بینکنگ کی طرف لے کر جاسکتے ہیں، تاہم ہم اپنے بیرونی قرض کے حوالے سے اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں