مودی آج بابری مسجد کی زمین پر رام مندر کی تعمیر کا افتتاح کرینگے
ایودھیا :انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی دنیا بھر کے ہندوؤں کی عقیدت کے مرکز ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا افتتاح (آج)پانچ اگست کو کریں گے، لیکن افتتاح سے ایک ہفتے قبل ہی مندر کی تعمیر کا جشن شروع ہو چکا ہے۔یہ رام جنم بھومی مندر تقریباً 70 ایکڑ قطع ارض پر تعمیر کیا جائے گا۔رام جنم بھومی ہندو مذہب کے پیروکاروں کے لیے گہری عقیدت کا مرکز تو ہے ہی مگر اس مندر کے احاطے کے باہر درجنوں مساجد اور درگاہیں ایودھیا کے قدیم شہر کی ملی جلی وراثت کا پتہ دیتی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایودھیا ہمیشہ امن کا شہر رہا ہے اور یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی حاصل رہی ہے۔کچھ عرصہ قبل انڈین سپریم کورٹ نے منہدم بابری مسجد کی متنازع زمین کی ملکیت کے حق کا فیصلہ رام جنم بھوی کے حق میں دیا تھا۔اب اس اراضی پر بھگوان رام کے ایک عظیم الشان مندر کی تعمیر کا آغاز کیا جانے والا ہے۔ رام جنم بھومی جس علاقے میں واقع ہے وہاں کسی وقت مسلمانوں کی بڑی آبادی ہوا کرتی تھی۔اب بھی رام جنم کے لیے حاصل کی گئی زمین سے ملحقہ دس مساجد اور درگاہیں واقع ہیں، جہاں باضابطہ طور پر اذان، نماز اور سالانہ عرس وغیرہ بغیر کسی روک ٹوک کے منعقد کیے جاتے ہیں۔یہ مساجد اور درگاہیں احاطے کی بیرونی دیواروں سے تقریباً سو سے دو سو میٹر کے دائرے میں واقع ہیں۔ اس علاقے میں ہندوؤں کی مذہبی کتاب ’رامائن‘ کی رام دھن اور مسجدوں سے دی جانے والی اذانوں کی صدائیں ایک ساتھ سنائی دیتی ہیں۔منہدم بابری مسجد میں تو نماز 23 دسمبر 1949 کے بعد سے نہیں ہو سکی تھی۔مگر مندر کی زمین سے ملحقہ مساجد میں نماز ادائیگی کا سلسلہ مستقل طور پر جاری ہے۔


