کراچی، لیاری کے علاقے بغدادی میں 6 منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے5 افراد جاں بحق، 7 زخمی
ویب ڈیسک : کراچی میں لیاری علاقے بغدادی میں 6 منزلہ خستہ حال رہائشی عمارت زمیں بوس ہوگئی، حادثے میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچنے کے لیے شہر بھر میں حکام کی جانب سے ’خطرناک‘ قرار دی گئی 570 سے زائد عمارتوں کو خالی کرانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اجلاس کو آگاہ کیا تھا کہ کراچی میں اتھارٹی کی جانب سے 570 عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے جب کہ حیدرآباد میں 80، میرپورخاص میں 81، سکھر میں 67 اور لاڑکانہ میں 4 عمارتیں مخدوش ہیں۔ریسکیو 1122 کے مطابق لیاری کے علاقے بغدادی میں رہائشی عمارت گرگئی، عمارت کے ملبے سے مکینوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو ادارے ایدھی نے ڈان کو بتایا کہ حادثہ لیاری کے علاقے آٹھ چوک میں چوبیس گھنٹہ کلینک کے قریب پیش آیا۔شہید بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر سول ہسپتال کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حادثے میں 2 خواتین سمیت 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔مرنے والوں میں 55 سالہ فاطمہ دختر بابو، 32 سالہ پریم، 35 سال وسیم ولد بابو، 55 سالہ حور بائی دختر کشن اور 21 سالہ پرانتک ولد آرسی شامل ہیں۔کے ایگزیکٹو ڈائر ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا کہ 6 زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 5 کو معمولی زخم آئے ہیں۔ایس ایس پی سٹی کے مطابق ملبے سے 5 افراد کی لاشیں اور 6 زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔ایس ایچ او بغدادی نے ڈان کو بتایا کہ عمارت سے نکالے گئے 5 زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں 25 سالہ راشد ولد عزیز، 45 سالہ یوسف ولد سبحان، 35 سالہ سنیتہ زوجہ چینن، 50 سالہ فاطمہ زوجہ بابو اور 35 سالہ چندہ زوجہ جمعہ شامل ہیں۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے بتایا کہ عمارت کے ملبے تلے 20 سے 25 افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں نکالنے کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ترجمان ریسکیو 1122 نے ڈان نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ موبائل سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے دیر سے اطلاع ملی، حادثے کی جگہ پر بھاری مشینری کی مدد سے آپریشن کریں گے، حادثے میں لوگوں کی اموات کا بھی خدشہ ہے، عینی شاہدین کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ریسکیو کے مطابق عمارت کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں، رہائشی عمارت میں موجود افراد کی تفصیلات تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ریسکیو کے مطابق لیاری میں تنگ گلیوں کے سبب ریسکیو آپریشن سست روی کاشکار ہے جبکہ تنگ گلیوں کے سبب بھاری مشینری لانے میں مشکلات کا سامنا ہے، مقامی افراد اور فلاحی امدادی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو ملبے سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں 12 سے زائد فلیٹ تھے اور حادثے کے وقت متاثرہ عمارت میں دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کا نوٹس لے لیا، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، متعلقہ حکام فوری رپورٹ پیش کریں اور ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو فوری نکالنے کے لیے اقدامات کریں، زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ لیاری میں عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، ملبے سے اب تک 5 زخمی افراد کو نکالا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے شہر کی بوسیدہ و خستہ حال عمارتوں کی فوری تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بھی واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس بی سی اے کےمتعلقہ افسران کومعطل کرنے کاحکم دے دیا۔وزیر بلدیات نے عمارت گرنےکی تحقیقات کے لیے فوری طورپر کمیٹی قائم کردی جو 3 دن میں غفلت کے مرتکب افسران کی نشاندہی، رپورٹ پیش کرے گی۔سعید غنی نے کہا کہ عمارت میں پھنسے ہوئے تمام لوگوں کو جلد از جلد ریسکیو کیا جائے اور عمارت کے اطراف کی تمام رکاوٹوں کو دور کرکے ریسکیو آپریشن کو تیز سے تیز کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت تمام اداروں کے افسران فوری طور پر جائے وقوع پر اپنی نگرانی میں اس ریسکیو کام کو سرانجام دیں اور عمارت گرنے کی وجوہات اور اس کے تمام اسباب کی فوری رپورٹ پیش کی جائے۔وزیر بلدیات نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح اس عمارت میں پھنسے لوگوں کو نکالنے پر مرکوز ہونی چاہیے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔


