افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور واشنگٹن میں نیشنل گارڈز پر فائرنگ کا واقعہ خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، پاکستان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملے کے نتیجے میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تاجکستان میں 3 چینی باشندوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان چینی شہریوں پر بزدلانہ حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مسلح ڈرونز کا استعمال افغانستان سے آنے والے خطرے کی سنگینی اور اس کے پیچھے کارفرما افراد کی ڈھٹائی کو واضح کرتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے پاکستان بار بار افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حملوں کا شکار ہوا، افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، دہشت گرد عناصر کی جانب سے افغان سرزمین کا بار بار استعمال عالمی برادری کے لیے تشویشناک ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹھوس اور قابل تصدیق کارروائی ہی خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے، پاکستان چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ 26 نومبر کی رات کو تاجکستان پر افغانستان کی حدود سے حملہ کیا گیا تھا جس میں گرنیڈ اور اسلحہ لگا ڈرون استعمال ہوا جس میں ایل ایل سی شاہین ایس ایم کے تین چینی باشندے مارے گئے تھے۔ دفتر خارجہ نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکا کے نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے کی تشویشناک علامت ہے۔ بدھ کو وائٹ ہاو¿س کے چند کوس کے فاصلے پر فائرنگ کے واقعے میں نیشنل گارڈ کے 2 اہلکار شدید زخمی ہوگئے تھے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا تھا، بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان میں سے ایک خاتون اہلکار ہلاک ہو گئی۔ دفتر خارجہ نے جمعے کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا کہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں پیش آنے والے اس فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک افغان شہری ملوث تھا، ہم مرحوم اہلکار کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ واقعہ یقیناً دہشت گردی کا عمل اور امریکی سرزمین پر ایک سنگین حملہ ہے، گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان نے ایسے کئی دہشت گردانہ واقعات سہے ہیں، جن کے واضح روابط افغانستان سے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں