چین کیساتھ تعلقات محاذ آرائی کے بجائے طاقت کے ذریعے طے کیے جائیں گے، امریکا کی نئی دفاعی حکمت عملی جاری
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پینٹاگون نے امریکہ کی نئی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی جاری کر دی ہے جس میں چین کے بجائے داخلی خطرات کو اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اب اپنے اتحادیوں کو پہلے کے مقابلے میں محدود پیمانے پر مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت اب امریکی محکمہ دفاع کی اولین ترجیح امریکہ اور مغربی نصف کرہ کی سلامتی ہو گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات اب محاذ آرائی کے بجائے طاقت کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔ پینٹاگون کی نئی دفاعی حکمت عملی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور شمالی کوریا کی طرف سے لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادیوں سے زیادہ ’بوجھ بانٹنے‘ کے مطالبے کی عکاسی کرتی ہے۔ 34 صفحات پر مشتمل رپورٹ گزشتہ سال امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی کی اشاعت کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہا گیا تھا کہ یورپ کو تہذیبی زوال کا سامنا ہے جبکہ رپورٹ میں روس کو امریکا کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا گیا۔ نئی دفاعی حکمت عملی میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں سے آگے بڑھ کر بوجھ بانٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اتحادی شراکت دار اپنے دفاع کے لیے واشنگٹن پر زیادہ انحصار کر رہے تھے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کی توجہ اپنی عوام کو لاحق حقیقی خطرات پر ہو گی۔ نئی امریکی دفاعی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن امریکی مفادات کو باقی دنیا کے مفادات کے ساتھ جوڑنا نہیں چاہتا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے کسی دوسرے کونے میں موجود کسی شخص کو لاحق خطرے اور کسی امریکی شہری کے لیے خطرے میں فرق ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اب اتحادی، خاص طور پر یورپ، ان خطرات کے خلاف قیادت کریں گے جو ہمارے لیے کم لیکن ان کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہیں۔ نئی حکمت عملی میں روس کو نیٹو کے مشرقی ارکان کے لیے ایک مستقل لیکن ایک ایسا خطرہ قرار دیا گیا ہے جس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔


