اربن فلڈ کا مستقل حل نکالا جائے
اداریہ
امسال بارشیں معمول سے زیادہ ہوئیں لیکن پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ معمول کی بارش کا پانی شہروں میں ہمیشہ سڑکوں پر سے گزرتا ہے۔بلکہ کراچی اور بڑے شہروں میں گٹرسارا سال ابلتے رہتے ہیں۔گندگی اور کچرے کے ڈھیرسڑکوں اور شاہراہوں پر جمع کرنا متعلقہ اداروں کے فرائض میں شامل ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔سپریم کورٹ کی سرزنش بھی بلدیاتی اداروں کوکام کرنے پر آمادہ نہیں کرسکتی۔ اداروں کے پاس فنڈز کی کمی سمیت بہت سارے بہانے ہیں۔اور ان بہانوں میں صداقت بھی پائی جاتی ہے۔ اسلام آباد کی حدود میں قائم چڑیا گھر کے جانوروں کو مناسب خوراک فراہم نہ کرنے کے ریمارکس اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز ججز دے رہے ہیں۔بد نظمی اور عملے کی نااہلی کا ثبوت یہ ہے کہ شیر کو منتقل کرنے والے عملے اورافسران نے پنجرے کے گرد آگ لگادی اس کے نتیجے میں دھوئیں کی بہتات اور آکسیجن کی کمی کے باعث شیردم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔ اس سے پہلے گرمی سے بدحال ہتھنی سمیت دیگر جانوروں کی حالت زا رمیڈیا پر آچکی ہے۔ جب ملک کے دارالحکومت میں قائم چڑیا گھر مالیاتی گڑ بڑ سمیت ہر قسم کی بد انتظامی کا شکار ہو تو دیگر شہروں میں حکومتی کارکردگی کیونکر بہتر ہوسکتی ہے؟ دوردراز علاقوں کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے حکومت بارش کو نہیں روک سکتی مگر عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ان کے دعوے میں کتنی سچائی ہے اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔ اس لئے کہ عوام تمام معاملات کے چشم دید گواہ ہیں۔بلدیاتی انتخابات اگر منعقد ہوئے اور روایتی دھاندلی سے بچائے جا سکے تونتائج خود بولیں گے۔تاریخ شاہد ہے کہ شفاف انتخابات پاکستان میں کبھی منعقد نہیں ہوئے۔کبھی چمک نے کام دکھایا، کبھی ریٹرننگ افسران کی ہنر مندی سامنے آئی اور کبھی انتخابات کو انجنیئرڈکہا گیا۔2018کے انتخابات میں سلیکشن ہوئی، ثبوت یہ ہے کہ اپوزیشن بیک زبان ملک کے وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کہتی ہے اور روز اول سے اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر باہر اسی کو دہراتی رہی ہے۔ممکن ہے بعض لوگ اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہوں یہ کہنا درست نہیں کہ تمام پاکستانی اسے قسمت کا لکھا سمجھتے ہیں۔اب لوگ جان گئے ہیں کہ دنیا کے مہذب ملکوں میں انتخابات کے نتائج زیادہ تر عوام کے دیئے گئے ووٹوں کے مطابق ہوتے ہیں۔اکا دکا شکایت سے زیادہ کبھی کچھ نہیں سنا جاتا۔ہمارے مشرقی ہمسائے بھارت کے بارے میں بیشمار شکایتیں موجود ہیں لیکن انتخابی نتائج میں بڑے پیمانے کی دھاندلی کے حوالے سے شکایت کبھی سامنے نہیں آئی۔حالانکہ اس کی آبادی پاکستان کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے اور عوامی مزاج بھی ملتا جلتا ہے۔ امریکا کی حالت البتہ مثالی نہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انہیں ہرانے کے لئے دھاندلی کا امکان ہے۔یورپی ممالک میں انتخابی دھاندلی کے نعرے نہیں سنے جا تے۔صدارتی امیدوار الگور کو ہرانے کے لئے ووٹوں کی گنتی میں مشینی اور انسانی گنتی کے نام پر اتنی تاخیر کی گئی کہ عدالت کو اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت بش کے حق میں فیصلہ دینا پڑا،اس فیصلے پر الگور کا جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔ انہوں نے ایک صحافی کو جواب دیتے ہوئے کہا: ”یہ میری ہار یا جیت کا معاملہ نہیں میں چار سال بعد الیکشن لڑ سکتا ہوں لیکن عدالت کی دوسو سالہ تاریخ کو دھچکا لگے گا“۔اور اس کے بعد انہوں نے صدارتی انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ اگر ملک میں انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور شفاف نہ بنایا گیاتو عوام اربن فلڈسمیت دیگر مسائل کے انبار تلے دبے رہیں۔ یہ صورت حال مناسب قانون سازی کے ذریعے درست کی جا سکتی ہے اور سب مانتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کی جانی چاہئیں،لیکن پالیسی ساز ادارے اسے ا ہمیت نہیں دیتے۔یاد رہے جب تک جیتنے والے دھاندلی سے جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچتے رہیں گے اس وقت تک عوام کی فلاح کا کام کوئی حکومت نہیں کرے گی۔ سیاست دان گیٹ نمبر چار میں سے گزرتے اور دھرنوں میں کسی ایمپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتے رہیں گے۔سیاست دانوں کی گیٹ نمبر چار کی طرف دیکھنے کی عادت چھڑائی جائے ورنہ عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ماضی میں دھاندلی زدہ انتخابات کی شکایت پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی قیادت زبانی حد تک کرتی تھی لیکن دھاندلی کے خلاف126روزہ احتجاجی دھرنے کی مثال پی ٹی آئی نے قائم کی۔ اب یہ نعرہ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن تنہا لگا رہے ہیں اور دونوں بڑی پارٹیوں سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسے ہی جمیعت احتجاج کرتی ہے یہ دونوں پارٹیاں حکومت کے ساتھ ہاتھ ملا لیتی ہیں۔ مولاناقانون سازی میں اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی حمایت کو اسی انداز میں دیکھتے ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن صرف سیاسی پارٹیوں سے شاکی ہوتے توبات سمجھ میں آجاتی مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ”دھرنا ختم کرانے والوں نے مارچ تک حکومت ختم کرانے کی ضمانت دی تھی، مارچ گزر گیا ہے اس لئے اب ملین مارچ ہوگا“تو عام آدمی کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔عام آدمی سوچنے لگتا ہے کہ مولانا اور ان کی رہبر کمیٹی میں شامل دیگر جماعتیں بھی کسی ایمپائر کی انگلی اٹھوانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ عوام کی حاکمیت ان کی پہلی ترجیح نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ وہ کسی غیبی قوت کے آلہئ کار نہیں بلکہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مولانا شائد کسی خوش فہمی کا شکار ہیں انہیں یاد رہے کہ عوام کسی ایمپائر کی انگلی اٹھوانے کے لئے ان کے گرد جمع نہیں ہوں گے۔عوام جان چکے ہیں کہ ایمپائر جسے سلیکٹ کرتا ہے سیاست دان اسے سلیکٹڈ کہتے ہیں اور سلیکٹڈ وزیر اعظم بعض مجبوریوں اورمصلحتوں کے پیش نظر مسائل حل نہیں کر سکتا۔


