زمبابوے میں 11 ہاتھیوں کی پُراسرار ہلاکت

زمبابوے کے سب سے بڑے گیم پارک میں 11 نوجوان ہاتھی پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے اور حکام کو شبہ کو ہے کہ وہ کسی بیکٹریل انفیکشن سے ہلاک ہوئے۔

پارک کی ایجنسی کے مطابق ہاتھیوں کے غیر قانونی شکار اور سائینائڈ سے زہر خورانی کے شواہد نہ ملنے کے بعد شبہ ہے کہ وہ کسی انفیکشن کا شکار ہوئے۔ برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق ہاتھیوں کی لاشیں گزشتہ جمعے (28 اگست) کو زمبابوے کے مغربی علاقے میں ہوانگے نیشنل پارک اور وکٹوریہ فالز کے درمیان پائی گئی تھیں۔

زمبابوے پارکس اینڈ وائلڈ لائف منیجمنٹ اتھارٹی (زمپرکس) کے پرنسپل ویٹرنری افسر کولمبس شیٹزوی نے بتایا کہ ابتدائی ٹیسٹس کے بعد ایجنسی کو شبہ ہے کہ ہاتھیوں کو خوراک کی تلاش کے دوران ایک مہلک بیکٹیریل انفیکشن ہوگیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موسم گرما کے دوران کھانا کم ہوجاتا ہے اور چھوٹے ہاتھی گھاس کھاتے ہٰیں اور مٹی میں کھانا تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس دوران وہ خود کو بیکٹریا کا شکار کردیتے ہیں۔

کولمبس شیٹزوی نے بتایا کہ اب تک لیبارٹری کا عندیہ ہے کہ یہ ایک بیکٹیریل انفیکشن ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ کس قسم کا بیکٹیریا ہے۔

زمپارکس کے ترجمان تیناشے فاراوو نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے ہاتھیوں کی عمریں 5 سے 6 سال کے درمیان اور کچھ کی 18 ماہ سے بھی کم تھیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ نوجوان ہاتھی درخت کی چوٹیوں تک نہیں پہنچ سکتے ہیں لہذا وہ کچھ بھی کھاتے ہیں ،جو زہریلا بھی ہوسکتا ہے۔

کرس فوگ گین، جن کی وکٹوریا فالز وائلڈ لائف ٹرسٹ لیبارٹری ب نمونے ٹیسٹ کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے اور انہوں نےاس سے قبل بوٹسوانا سے نمونے بھی ٹیسٹ کیے تھے نے کہا کہ اب تک دونوں ممالک میں ہاتھیوں کی موت کے درمیان کوئی مماثلت نہیں پائی گئی۔

خیال رہے کہ سال 2019 میں تباہ کن خشک سالی کے بعد زمبابوے کی جنگلی حیات کے پارکس میں کھانے اور پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ کئی بھینسیں اور ہرنوں کے ساتھ ساتھ 200 ہاتھی ہلاک ہوگئے تھے۔ زمپارکس حکام کا کہنا ہے کہ زمبابوے کے ہاتھیوں کو سب سے بڑا خطرہ زیادہ آبادی سے ہے اور رواں برس کم بارشوں سے جانوروں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہاتھیوں کے محافظین کے تخمینے کے مطابق زمبابوے میں افریقہ کے کل پانچواں حصے کے برابر تقریباً 80 ہزار ہاتھی ہیں۔حالیہ برسوں میں زمبابوے میں مجموعی طور پر ہاتھیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے، جس کی زیادہ تر وجہ غیر قانونی شکار اور خشک سالی کے امتزاج ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں