امید و بیم کے تین سال

پاکستانی عوام بڑے سخت جان واقع ہوئے ہیں،مشکل ترین حالات میں جینے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر لیتے ہیں۔علامہ اقبال کو پڑھنے والے ہوں یا بھوک، افلاس،بیماری اور بیروزگاری کی درسگاہ میں زندگی بسر کرنے والے ہوں ایک ہی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔ اس کا مشاہدہ گجر نالے کے کناروں پر آبادبہادر عورتوں اور بوڑھوں کے کئی روز سے جاری احتجاج میں کیا جا سکتا ہے۔ان لوگوں کو انسدادِ تجاوزات کے اہلکار بے گھر کرنے آئے تھے تاکہ گندے نالے سے بارش کا پانی با آسانی گزر سکے اور وہ تباہی آئندہ نہ پھیلے جو حالیہ بارشوں میں کراچی والوں نے دیکھی۔یہ احتجاج اس روز بھی جاری تھا جب وزیر اعظم عمران خان گورنر ہاؤس سندھ(کراچی) میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمرا ہ اعلان کر رہے تھے کہ نالوں کی صفائی کا کام ”قومی آفت سے نمٹنے کا ادارہ“(این ڈی ایف سی)کرے گا اور بے گھر ہونے والوں کی آباد کاری حکومت سندھ کرے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم کا یہ اعلان سنا مگر کچھ نہیں بولے۔ اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ یہ معاملہ پہلے سے طے شدہ تھا اور 1100ارب روپے والے تین سالہ پلان کا حصہ ہے۔لوگوں کو بے گھر کرنے کا کام جاری ہے۔ان کی آباد کاری کے سلسلے میں کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔بے گھر کئے جانے والے مکین سراپا احتجاج ہیں کہ اور حکومت سے پوچھ رہے ہیں:
”ہمارے سروں سے چھت چھیننے والو! ہم کہاں جائیں؟“
آبادکاری کی اہم ذمہ داری اپنے سر لینے والے وزیر اعلیٰ سندھ تاحال خاموش ہیں حالانکہ انہیں گجر نالے کے مکینوں کو گھروں سے محروم کرنے سے پہلے آباد کرنا چاہیئے۔ انہیں باہمی مشاورت کے دوران معلوم ہوگیاتھا کہ کتنے خاندان نالوں کی صفائی کے نتیجے میں بے گھر ہوں گے۔پی پی پی 12 سال سے سندھ کی حکومت سنبھالے ہوئے ہے۔تمام اعدادوشمار وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کے علم میں ہوں گے۔کراچی کے میئر (ایم کیو ایم کے) وسیم اختر اپنے عہدے کی بلدیاتی مدت چار سال پوری کرکے بے اختیاری کاروناروتے دھوتے گھر جا چکے ہیں۔گندے نالوں کے کنارے گھر بنانے کی اجازت ایم کیو ایم کی ”مہذب عوام دوست پالیسی“ کا شاہکار کارنامہ ہے۔ایم اے جناح روڈ پر قائم اردو بازار بھی ایک گندے نالے پر آباد ہے۔نالے کو ڈھانپ دینے کے نتیجے میں گیس کی نکاسی کا سلسلہ متأثر ہوا، اور جمع شدہ بائیوگیس نے دھماکے سے مارکیٹ اڑا دی تھی۔اس حادثے سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے وہا ں دو منزلہ مارکیٹ تعمیر کر دی گئی۔گندے پانی کا جمع ہونا روز مرہ کا معمول ہے۔کراچی کے دیگر نالوں کی طرح اس نالے پر اور بھی متعدد عمارتیں سرکاری/سیاسی سرپرستی میں تعمیر کی گئی ہیں۔اس علاقے میں بارشیں ہمیشہ عذاب ثابت ہوتی ہیں۔ سمندر کا کنارا ڈی ایچ اے نے اپنے تصرف میں لے لیا۔گویا اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں، کوئی پارسائی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔چار دن تک بجلی،پانی غائب رہنے اور گلیوں و سڑکوں پر دو سے چار فٹ گندے پانی کی موجودگی کے خلاف اس پوش علاقے کے سفید پوش مکینوں نے دفتر کے سامنے جمع ہوکر”ٹیکس کا حساب دو“کے نعرے لگائے۔ کراچی کے عوام نالوں کی صفائی کے کام پر نظریں جمائے ہوئے ہیں وہ دیکھنا چاہتے ہیں کیا ڈی ایچ اے سے”مقبوضہ سمندر“ خالی کرایا جائے گا؟اس لئے کہ سیلابی پانی کا آخری ٹھکانہ بحیرہئ بلوچستان کا سمندر ہی تو ہے۔اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ کراچی کے شہریوں کو درپیش سارے مسائل حل طلب ہیں۔تمام مسائل متعلقہ اداروں کی چشم پوشی، نالائقی اور اندھی کرپشن کامنطقی نتیجہ ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں بارشوں کی مقدار میں اضافہ قدرتی آفت ہے۔اس کا مستقل حل نکالنا از حد ضروری ہو چکا ہے۔یاد رہے یہ تباہی و بربادی کراچی کے ان اداروں کے ہاتھوں ہوئی ہے جو اس شہر کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔عدالت بھی کوشاں ہے کہ کراچی کو اس کا کھویا ہوا حسن اور خوبصورتی لوٹائی جائے۔مختصر وقفوں کے بعد سماعت کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ان عاقبت نااندیش محکموں نے اپنے کرپٹ آقاؤں کی سرپرستی میں کراچی شہر کو دونوں ہاتھوں سے برسوں لوٹا ہے۔کچھ اس کا حساب بھی مانگا جائے۔اگر حساب نہ مانگا گیا تو افسران اور اہلکار اپنی جیبیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔کراچی کے شہری صاف ہوا کو ترستے رہیں گے۔یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے مجرموں کوکوئی رعایت نہ دی جائے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد جانتے ہیں کہ جہانگیر پارک صدر اور ہل پارک کے سوا شہر کا کوئی پارک ابھی تک واگزار نہیں کرایا جا سکا۔ سابق میئر کراچی نعمت اللہ مرحوم پارکوں کی بحالی کا معاملہ عدالت لے کر گئے تھے۔دیر ہوتی جا رہی ہے۔سینیئر سٹیزن کراچی شہر کو خوبصورت دیکھنے کی حسرت دل میں لئے ایک ایک کرکے اس فانی دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں۔عدالت قانون شکن عناصر کی سرکوبی میں مثالی کردار ادا کر رہی ہے۔ایمپریس مارکیٹ(صدر) کو اصل شکل میں لوٹانا آسان کام نہیں تھامگر ہو گیا۔ امید ہے اسی طرح شہر کے تمام حصوں کو لینڈ مافیا اور ان کے سرپرستوں سے نجات دلائی جائے گی۔ کراچی سرکولر ریلوے کا راستہ بحال ہونا بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہوگا۔سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ لینڈ مافیا کے سر سے ناقابلِ تسخیر ہونے کا خنّاس نکل جائے گا۔ اصل خرابی یہی خنّاس ہے، بتدریج دور ہوتا جا رہا ہے۔مجرم بظاہر کتنا مضبوط ہو، اندر سے کمزور اور دیمک زدہ ہوتا ہے۔ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کا ارادہ کر لے تو مافیاز کے پاس صرف ایک آپشن رہ جاتا ہے کہ سرنڈر ہوجائیں۔1100ارب روپے(امریکی کرنسی میں) 7ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم ہے اسے خورد برد سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں