بحرین /اسرائیل امن معاہدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدہ کی تصدیق کردی۔اس طرح متحدہ عرب امارات(یو اے ای) کے بعداسرائیل سے امن معاہدہ کرنے والا بحرین دوسرا ملک ہے۔گویاجلد یا بدیر ایک ایک کرکے دیگر عرب ممالک بھی اسی رسم کو دہراتے دکھائی دیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ عرب ممالک اسرائیل سے امن معاہدہ کیوں کر رہے ہیں؟آزاد ریاست ہونے کی بناء پر انہیں یہ حق حاصل ہے کہ اپنے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مفادات کے پیش نظر جس ملک سے چاہیں امن معاہدہ کریں۔سوال یہ ہے کہ فلسطین کی سر زمین پرسے اسرائیل کاغاصبانہ قبضہ ختم کرائے بغیر امن معاہدوں کی دوڑ کیوں شروع ہو گئی ہے؟ بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ساکھ کو ایک حد تک سہارا دیا جائے اور جو بائیڈن کی ممکنہ جیت کا راستہ روکا جائے تاکہ اسرائیلی دارالحکومت کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کو مستقل کرنے میں مدد ملے۔اور دوسری وجہ یہ نظر آتی ہے کہ چین کے خلاف بھارت کے حمایتی ملکوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور اقوام متحدہ میں اسے یکہ و تنہاہونے سے بچایا جائے۔عرب ریاستیں آبادی کے لحاظ سے چھوٹی ہیں مگر ووٹوں کی گنتی میں وہ دوسرے ملکوں کے مساوی ہیں۔اقوام متحدہ میں فیصلے ووٹوں کی گنتی سے کئے جاتے ہیں۔ملکوں کی آبادی اور معیشت نہیں دیکھی جاتی۔بھارت میں بھی کورونا نے وہی کچھ کیا ہے جو امریکا میں دنیا دیکھ چکی ہے۔بھارتی میڈیا بھی کورونا کی یلغار کو ایک بڑی آفت قرار دے رہا ہے۔بھارت میں اپریل تا جون کے اعدادوشمار کے مطابق معاشی گراوٹ 23.9فیصد رہی۔جو برطانیہ اور امریکا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔تقریباً 10کروڑ لو گ گھر بیٹھے ہیں۔ایسی معاشی گراوٹ گزشتہ40برسوں میں نہیں دیکھی گئی،عوام کی قوت خرید میں 54.3فیصد کمی آئی ہے۔ مارکیٹیں کھل گئی ہیں مگر صارفین کہاں ہیں؟اب کورونا دیہاتوں میں پھیل رہا ہے۔لوگ خوف کے سبب گھروں میں پھنس گئے ہیں۔بڑی بڑی فیکٹریاں کھل گئی ہیں لیکن ان کا تیار کردہ سامان کون خریدے گا؟دوسری جانب چینی مسلح افواج ایل اے سی عبور کرکے لداخ میں اپنی پوزیشن مستحکم بنا رہی ہیں۔ماہرین سمجھتے ہیں کہ محدود جنگ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔یہ صورت حال خطے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ افغانستان میں امن مذاکرات کا آغاز خوش آئند ہے۔اس خطے کے عوام کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔لیکن جنگوں کے فیصلے عوام سے پوچھ کر نہیں کئے جاتے۔افغانستان گزشتہ 40سال سے امن کو ترس رہا ہے۔اس کے اثرات پاکستان نے بھی دیکھے ہیں۔ عرب ممالک بھی امریکی مفادت کی جنگوں میں الجھ کر تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔دانشمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ برصغیر میدان جنگ نہ بنے۔لیکن اس کا فیصلہ بھارتی حکومت کے ہاتھ میں ہے جس نے5اگست 2019 کو اپنے آئین کی بعض شقیں تبدیل کرکے خطے کا جغرافیائی منظر تبدیل کر دیا ہے۔عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان محدود پیمانے کی جنگ ہو سکتی ہے۔لیکن جنگ کے بارے میں تجربہ یہی بتاتا ہے کہ جنگ شروع کرنا اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن اسے ختم کرنے کے لئے بہت ساری قوتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑتا ہے۔افغانستان کی مثال سب کے سامنے ہے۔امریکا یہ سوچ کر افغانستان میں داخل ہوا تھا کہ جدید اسلحے سے لیس اپنی عسکری برتری کے بل پر افغانستان کوجلد ہی اپنا تابع ملک بنا لے گا۔لیکن نکلنااس کے لئے ایک پیچیدہ عمل بن گیااورجنہیں دہشت گرد کہہ کر افغانستان پر بمباری کی تھی چار دہائیوں بعدآج کل ان سے امن مذاکرات کرکے با عزت واپسی کی راہ تلاش کرنے میں مصروف ہے۔جنگ کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔اتحادی کودپڑتے ہیں، حریف نئے مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔ ہر لمحہ میدان جنگ سے ہولناک خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔لاشیں اٹھانا بڑا تکلیف دہ عمل ہوتا ہے جبکہ جسمانی اعضاء سے معذورزخمیوں کا علاج معالجہ لاشوں کی تدفین سے زیادہ دشوار مرحلہ بن جاتا ہے۔بھارت نے ابھی تک جنگ کو پھیلنے روکا ہوا ہے۔لیکن اس بارے میں کوئی پیشگوئی آسان نہیں کہ آنے والے دنوں میں برصغیر کے عوام کیسے مناظر دیکھیں گے۔ امریکی عزائم کا اندازہ لگانے کے لئے عرب اسرائیل معاہدے کافی ہیں۔مصر بہت پہلے اپنی ہار مان چکا ہے شام اپنی پہاڑیاں واپس نہیں لے سکااردن بھی تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ایران ترکی، روس اور چین کی مدد سے اسرائیل اور امریکا کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ جلد ہی دنیا ایران کے حوالے سے بھی مثبت خبریں سنے گی اپنی جگہ معنی خیز اور ذومعنی ہے۔شائد امریکا نے ایران سے یکطرفہ معاہدہ ختم کرنے کے منفی اثرات کو محسوس کر لیا ہے اورامریکی تھنک ٹینکس نے اقوام متحدہ اوریورپی یونین کا رد عمل دیکھ کر حالات کی سنگینی کا کسی حد تک اندازہ لگا لیا ہے۔مگر یاد رہے کہ مفادات ملکوں کی قیادت کو اندھا کر دیتے ہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتے ہیں۔اچھاہے پاکستان نے ابھی تک صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔آئندہ بھی بے صبری سے بچنے کی ضرورت ہے۔اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے کہ چین اور بھارت آبادی اور معیشت کے حوالے سے پاکستان کے مقابلے میں بڑے ملک ہیں۔ امید ہے کہ تینوں ہمسائے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کو جنگ میں دھکیلنے کی غلطی نہیں کریں گے۔اس لئے کہ جنگ کسی وجہ سے روایتی نہ رہی تو ایٹمی ہتھیارآن واحد میں سب کچھ جلا کر بھسم کر دیں گے کچھ نہیں بچے گا۔ابھی تک اعصاب پر قابو موجود ہے اسے زائل ہونے سے پہلے مسائل کا کوئی پرامن حل تلاش کر لیاجائے۔


