موٹروے پر زیادتی کا واقعہ نہیں ہوا، مراد سعید

مراد سعید نے سانحہ موٹر وے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ افسوس بحث اس پر نہیں ہورہی درندوں کو کیسے عبرت کا نشان بنایا جائے بحث اس پر نہیں ہورہی کہ اس خاتون پر ہماری گفتگو کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ہم نظام کو ٹھیک کرنے پر بحث نہیں کررہے۔ ہمارے ہاں بحث برائے بحث اور برائے سیاست ہورہی ہے میں کہتا ہوں عوام کو بتائیں بچی رحمت ہے آپ خواتین کو یقین دلائیں کہ ریاست ذمہ داری لے گی انہوں نے کہا کہ میں ایک لائن پر کہہ سکتا تھا واقعہ موٹروے پر نہیں ہوا۔ خدارا اس ایوان کو واقعہ پر سیاست کرکے تماشہ نہ بنائیں۔اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایوان سے سوال کیا کیاایسے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں قانون سازی کر کے سقم دور کئے جائیں۔مجرم کو ایسی سزا دیجائے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے؟وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری عزت کسی کی ماں بہن بیٹی بیوی کے طورپر نہیں ایک عورت کی حیثیت سے کی جائے۔ اپوزیشن لیڈر کی یہ بات درست نہیں کہ وہ قوم کی بیٹی تھی بلکہ کہیں عورت تھی ہمیں یہ قبول نہیں کہ ہم نے کس محرم کو ساتھ لیکر نکلنا ہے ہمیں بھول گیا ماڈل ٹاون میں دو خواتین کے منہ میں گولیاں ماری گئیں۔ ہمیں عابد باکسر بھول گیاشہبازشریف کو عورتوں کا بڑا درد ہے تو ماڈل ٹاون کا بھی ذکر کرلیتے۔ اگر مرد اپنے آپکو قابو نہیں کرسکتے تو انہیں گھروں میں بند کریں۔ہمیں کیپٹل سزا پر بھی سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک میں کیپٹل سزا دی گئی مگر جرائم نہیں رکے۔ بعض ممالک میں کیمیائی مواد سے نامرد کردیئے جانے کی سزا نافذ ہے دریں اثناء قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت ایم این اے عطاء اللہ پر لپک پڑے، حکومتی اراکین نے بیچ بچاؤ کرایا۔ پیر کو قومی اسمبلی اجلاس میں سانحہ موٹر وے پر بحث کا آغازہوا تو کراچی سے رکن عامر لیاقت کا شور شرابہ کیا اور کہاکہ کراچی میں بچی سے زیادتی ہوئی اس پر بھی بحث کی جائے اسد قیصر نے کہاکہ دونوں معاملات پر مشترکہ بحث کر لیں۔ اجلاس کے دور ان ڈاکٹر عامر لیاقت اپنی نشست سے اٹھ کر دوسرے ایم این اے عطا اللہ پر لپک پڑے،حکومتی ارکان نے بیچ بچاو کرا دیا۔ عامر لیاقت نے کہاکہ عطا اللہ مجھے گالیاں دے رہا ہے۔ اسد قیصر نے سپیکر نے عامر لیاقت کو اپنی نشست پر جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر عامر لیاقت اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں ورنہ مجھے طریقہ آتا ہے۔ مراد سعید کے خطاب کے دوران لقمہ دینے پر اسپیکر نے نون لیگی رکن کو وارننگ دی۔ سجاد اعوان نے مراد سعید کے خطاب کے دور ان مداخلت کی اور کہاکہ کچھ سی سی پی او کے بارے میں بھی بتائیں۔ اسد قیصر نے کہاکہ میں آپ کو وارننگ دیتا ہوں خاموش رہیں قومی اسمبلی میں سانحہ موٹروے پر بحث کے دور ان حکومت اور اپوزیشن اراکین مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبہ میں ہم آواز ہوگئے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مجرم کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرسکے۔ پیر کو اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ لاھور موٹروے پر تفصیلی بحث کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایوان سے سوال کیا کہ ایسے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، قانون سازی کر کے سقم دور کئے جائیں، مجرم کو ایسی سزا دیجائے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں