مہنگائی ختم کریں، غداری کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹیں

پاکستانی تاریخ کا سب سے کمزور پہلو یہی ہے کہ یہاں سیاسی اختلاف کوغداری کہنا ایک مستقل روایت کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔یہ کام بلاتخصیص حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے کیاگیا ہے۔حکومت کے پاس قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوتے ہیں اس لئے اپوزیشن کو لگام ڈالنے کے لئے غداری کا صرف الزام نہیں لگایا جاتا بلکہ الزام عائد کرنے کے بعد مقدمات بناکر جیل بھیجنے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔اپوزیشن حکمرانوںکو غدارکہہ کر جیلوں نہیں ڈال سکتی اس لئے وہ وزیر اعظم کو” سیکیورٹی رسک “ کہتی ہے۔اس کے معنے یہ سمجھے جاتے ہیں کہ اگر وزیر اعظم کو جلد معزول کرکے گھر نہ بھیجا گیا تووزیر اعظم دشمن ملک کے ساتھ ساز باز کرکے ایسے حالات پیدا کردے گا کہ ملک دشمن کے قبضے میں چلا جائے ۔پاکستان کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ آئین سازی میں بوجوہ9سال لگ گئے۔دستورساز ی اگر ابتدائی دنوں اوربانی¿ پاکستان کی موجودگی میںکر لی جاتی تو شائد حکومت سازی میں جو ہلڑ بازی اور بدنظمی بھگتنا پڑی اس سے بچ جاتے۔آئین سازی کسی نوزائیدہ ملک کی اولین ضرورت ہونے کے باوجود آسان کام نہیں ۔اسٹریٹ پاور جس کے پاس ہو وہی اپنی مرضی ڈکٹیٹ کرتاہے جبکہ حکومت طاقت سے کچلنے کا راستہ اختیار کرتی ہے۔جب سے پڑوسی ملک کے وزیر اعظم نے یہ دعویٰ کیاہے کہ انہوں نے مکتی باہنی میں شریک ہو کر پاکستان توڑا ہے اس مقصد کے لئے ”مودی کا یار“ جیسی اصطلاح استعمال ہونے لگی ہے۔بھارتی آئین میں یکطرفہ طور پربعض ترامیم کرکے نریندر مودی نے اس خطے کے امن کے لئے بہت بڑا خطرہ پیداکردیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں 5اگست2019سے مسلسل کرفیوکا نفاذ بلاوجہ نہیں۔لداخ میں چینی مسلح افوج کا آنا کوئی تفریحی دورہ نہیں۔کسی لمحے معمولی سی اشتعال انگیزی بہت بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔اس لئے کہ تینوں ہمسائے ایٹمی طاقت ہیں۔
مذہبی حلقے اپنے سیاسی مخالفین کو ”کافر“کہہ کر اپنا ووٹ بینک بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ محمد علی جناح بھی ”کافر اعظم“جیسی گالی سے نہیں بچ سکے۔اس کی وجہ اپنا ووٹ بینک بڑھانا تھی۔قیام پاکستان کے بنیادی اسباب میں ہندو اکثریت کے مستقل غلبہ سے بچاو¿ والی سوچ کونظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بابری مسجد کا انہدام اور5اگست2019 کی آئینی ترامیم دو اہم واقعات ہیںکوئی انکار نہیںکر سکتا کہ ان دو واقعات نے سیکولر سوچ کومذہبی تعصب کی آگ میں جلاکر راکھ کر دیا ہے ۔ سرحد کے تینوں جانب ہم آہنگی اور قربت کے جذبات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ایک وسیع خلیج پیداہوگئی ہے اسے پاٹنے میں طویل عرصہ لگے گا۔آذر بائیجان اور آرمینیاکی توپوں سے پھول نہیں برسائے گئے۔دونوں جانب لاشیں گری ہیں املاک سے شعلے اٹھے ہیں، موت رقصاں رہی ہے ، انجام کارکمزور فریق کو اپنی ہار ماننا پڑے گی۔ترکی خلافت عثمانیہ کا خواب دیکھ رہا ہے یروشلم کو اپنا حصہ قرار دینے لگاہے۔گویا آگ برسانے کادائرہ وسیع تر ہو نے کا خدشہ ہے۔ امریکی مفادات بھی خطے میںکشیدگی کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔امریکی معیشت میں اسلحہ کی فروخت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ امریکی ریاست کےلئے ایک خطرہ ہے۔اسلحہ کی فروخت کو آسان نہیں لیا جا سکتا۔امریکا اپنی بھوک مٹانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔اسے اپنی سرحدوں سے ہزاروں میل دور لاشیں گرانے پر کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ عراق، شام، لیبیا ،افغانستان اور پاکستان میں آگ کے شعلے ابھی سرد نہیں ہوئے۔زمینی حقائق سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔پاکستان کوآگ کے کسی نئے دریا میں کودنا بہت مہنگا پڑے گا۔حکومت اور اپوزیشن کو چاہیئے کہ سیاسی معاملات کو ذاتی انتقام میں ڈھالنے کی غلطی سے حتی الامکان بچیں۔غدار اور کافر کہنے سے دوسروں کے دل نہیں جیتے جاسکتے۔
سچ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے ووٹرز کی حمایت بڑھانے کی کوشش میں ہیں۔اپوزیشن دونوں پرانی غلطی دہرا رہی ہیں ۔اپوزیشن کی زبان پر”سیکیورٹی رسک“ اور حکومت” غداری“ جیسا گھسا پٹا نعرہ لگا رہی ہے۔عام آدمی اگر ان نعروں کو اہمیت دیتا تو آج ملک میں کوئی غدار اور سیکیورٹی رسک موجود نہ ہوتا۔مگر سیاست دانوں کی یہی دو اقسام گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام کے درمیان موجود ہیں۔امریکا کے انتخابا ت دیکھ لیں وہاں بھی اس سے ملتے جلتے نعرے سنائی دیتے ہیں۔ عوام کو ان نعروں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ان کے پاس کوئی تیسرا چوائس نہیں۔اسی کھیپ میں سے اپنے حکمرانوں کو پسند یا مسترد کرنا ہے۔عام آدمی کا بنیادی مسئلہ مہنگائی ہے۔ہر مہینے پیٹرول، بجلی، گیس کی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں۔آمدنی میں اضافہ نہیں کیا جاتا۔تنخواہ دار یا دیہاڑی دار طبقہ پریشان ہے۔اس کی قوت خرید دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔کاروبای حضرات بھی رو رہے ہیں، خریدار کے پاس قوت خرید ہو گی تو کاروبار چلے گا۔اپوزیشن مہنگائی سے پیدا ہونے والی ناراضگی کو کیش کرنا چاہتی ہے مگر کوئی جاذب نظرپر کشش معاشی حکمت عملی اس کے پاس بھی نہیں۔معاشی تجزیہ کاروں میں بیشتر سابقہ حکومتوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔وہی کچھ کرتے رہے ہیں جو آج کیاجا رہا ہے بلکہ اس کے معاشی مشیر بھی پرانے ہیں۔حکومت سنجیدہ کوشش کرے اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرے اسے بے لگام نہ چھوڑے۔آٹا، چینی ،سبزیاں اور دالیں عام آدمی کی خوراک کاحصہ ہیںان کی قیمتیں نہ بڑھنے دے۔عام آدمی مہنگائی کا خاتمہ چاہتا ہے۔غداری کے سرٹیفکیٹ اس کے کسی کام کے نہیں۔مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے غداری کے سرٹیفکیٹ نہ بانٹے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں