فضول بحث

حکومت نے شاہدرہ پولیس اسٹیشن (لاہور)میں مسلم لیگ نون کے 40اہم رہنماؤں بشمول سابق وزراء اعظم، گورنرسندھ اوردیگر کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرانے کے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے اور نون لیگ کے نامزد رہنماؤں میں سے بعض نے تھانے پہنچ کر خود کو گرفتاری کے لئے پیش بھی کردیامگر پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا۔ گویا مقدمہ بے جان اور احمقانہ اقدام تھا جس نے بھی ایسا کیا اس میں اتنی اخلاقی ہمت نہیں تھی کہ ذمہ داری قبول کرتا۔یہ طے شدہ بات ہے کہ یہ کام بدر رشید نامی شہری نے اپنی مرضی سے نہیں کیا تھا۔اسے پی ٹی آئی کا ”گلو بٹ“ کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ اس کے خلاف بھی ایک سے زائد ایف آئی آر پہلے سے مختلف تھانوں میں درج ہیں۔ کوئی ذی ہوش شخص ایسے کام نہیں کیا کرتا۔اسی قماش کے لوگ استعمال ہوتے رہے ہیں اور ابھی دیر تک ہوتے رہیں گے۔ماضی میں کسی پارٹی کے وزیر اعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی۔البتہ پی پی پی نے 2008سے 2013تک اور مسلم لیگ نون نے 2013 سے2018تک بحیثیت پارٹی آئینی مدت پوری کی تھی۔اس مرتبہ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور اس کے وزیر اعظم وزیر عمران خان (شائد)اپنی آئینی مدت پوری کرکے 2023پہلی مثال قائم کریں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان بنیادی طور پر سماجی کارکن ہیں،مزاجاًسیاست دان نہیں۔انہوں نے خود تسلیم کیاہے کہ اللہ سے ایک بار وزیر اعظم بننے کی دعاکی تھی تاکہ غریب عوام کے لئے سرکاری وسائل سے ایسے کام کر جائیں جن سے ان کی حالت بہتر ہوسکے۔ورنہ اپنی ذاتی تشفی کے لئے ورلڈ کپ(کرکٹ) جیتنا، شوکت خانم کینسر اسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے نمایاں کام کافی تھے۔بنی گالہ جیسے صحت افزاء مقام پر وسیع رہائشگاہ اور زمان پارک والا گھر دوسروں سے بہترزندگی گزارنے کے لئے کم نہ تھے۔
پاکستانی سیاست دان عمران خان کے مزاجی فرق کو سمجھنے میں ناکام رہے یا انہوں نے سمجھنے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی،پہلے وہ یہ سمجھتے رہے کہ عمران خان کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر ہی نہیں۔ جب 2018میں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا تو انہوں نے اسٹک اینڈ کیرٹ والا فارمولہ آزمایا۔ پہلے ”سلیکٹڈ وزیر اعظم“کہا پھر ساتھ مل کر چلنے کی پیشکش کی۔لیکن اس دوران ہونے والی نعرے بازی نے ایوان کا ماحول دوستانہ سے مخاصمانہ بنا دیا تھاچنانچہ ہاتھ ملانے کا موقعہ نہیں رہا۔اس کے بعد پرانے سیاستدانوں کو امید رہی کہ وزارت عظمیٰ کے ٹھاٹ باٹ دھیرے دھیرے عمران خان کو بھی سہل پسند اورتجربہ کاربیوروکریٹس اپنا اسیر بنا دیں گے۔جبکہ سرکاری خزانے کی ریل پیل عمران خان کو انہی جیسا بنا دے گی۔مگر ایسا نہ ہوا۔عمران خان نے مستقل طور پر اپوزیشن سے دور رہنے اور کبھی ہاتھ نہ ملانے کا اٹل فیصلہ کر لیا۔اس کے نتیجے میں عمران خان کے لئے بیوروکریٹس اور مافیاز نے مسائل پیدا کئے۔چینی اور آٹے کا بحران مافیاز کا پہلا رد عمل تھا۔لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ”سلیکٹڈ“ جیسا نعرہ اپوزیشن کو بھی مہنگا پڑا۔ ”چور، چور“ کے شور میں ان کے لئے ایوان میں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔وفاقی وزیر مراد سعید جیسے ہی تقریر کے لئے اٹھتے ہیں اپوزیشن واک آؤٹ کر جاتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی اور اہم قانون سازی کے مواقع پرحکومتی برتری قائم رہنے سے اپوزیشن جان گئی کہ ایوان کے اندر حکومت سے کوئی بات منوانا ممکن نہیں۔چنانچہ دوسال بعد سڑکوں پرآنے کی حکمت عملی مجبوراًاختیار کرنا پڑی۔دباؤ میں آکر مخالفین سے سر جھکا کر ملنا عمران خان نے کبھی پسند نہیں کیا۔مزاج کے اس فرق کا نتیجہ یہی ہوسکتا تھا کہ اپوزیشن عوام سے مدد مانگے۔اپوزیشن کا یہ کہنا اپنی جگہ وزن رکھتا ہے کہ بجلی گیس کے بلوں میں مسلسل اضافے اورآٹے چینی کی قیمتوں عدم استحکام عام آدمی کے لئے حکومت مخالف جذبات پیدا کرنے میں ایک اہم محرک ہے۔مگر کیا غم وغصے کا درجہ اتنا بلند ہو گیا ہے کہ عوام پی ٹی آئی سے مایوس ہوکراپوزیشن کے گرد جمع ہو جائیں اور حکومت کو گھر بھیج دیں۔
یوں تو غیر جانبدارانہ رائے دینا کسی بھی مرحلے پر آسان نہیں ہوتا مگر موجودہ حالات میں یہ کام زیادہ مشکل ہے اس لئے کہ اپوزیشن کے جلسوں کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا۔دونوں جانب سے زبانی کلامی جنگ جاری ہے۔جیسے ہی جلسے جلوس دیکھنے کو ملیں گے مبصرین کے لئے رائے زنی آسان ہوتی چلی جائے گی۔ تاہم اپوزیشن نے عوام کی بہت بڑی تعداد جمع کرنے کا مشکل ٹاسک اپنے سر لیا ہے۔غداری کے پھس پھسے مقدمے کا اندراج حکومت کے لئے شرمندگی کا سبب بناہے۔ماضی میں جنہیں غدار کہہ کر برسوں جیل میں رکھا گیا ان میں سے ایک کو توپوں کی سلامی دے کر گلے لگانے کا منظر بھی تاریخ کا حصہ ہے۔جبکہ دیگر کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔غدار سازی کی حکمت عملی نہ پہلے کارآمد رہی اور نہ ہی آئندہ اس کے کارآمد ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔بلکہ اب تو عام آدمی کو غداری کے مقدمے پر کی جانے والی گفتگو بھی ایک فضول مشق نظر آتی ہے۔اس بحث کو جتنا آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے گی عوام کو اس سے اتنی ہی گھن آئے گی۔ زندہ مسائل کی کمی نہیں، زندہ مسائل پر بات کی جائے ان کاحل سامنے لایا جائے۔اپوزیشن شروع دن سے کہہ رہی ہے کہ حکومت کے آدھے مشیر پی پی پی دور والے اور دیگر نون لیگ کی کابینہ والے ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہی چہرے جنرل پرویز مشرف کے نورتنوں میں بھی شامل تھے۔حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے کوئی نیا نعرہ لگایا جائے اور نیا چہرہ سامنے لایا جائے۔پرانے چہروں اور پرانے نعروں کی مدد سے حکومت کو گھر بھیجنے کی توقعات کم نظر آتی ہیں۔ جدید دور میں جدید نعرے درکار ہیں۔اپوزیشن کو زیادہ محنت اور ذہانت سے کام لینا ہے۔نمائشی یا نیم دلانہ اقدامات سے حکومت کو گھر بھیجنا مشکل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں