بلوچستان، تعلیم کے حوالے سے طالبات صنفی امتیاز کا شکار ہیں، ثناء بلوچ

کوئٹہ،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعت بی این پی کے رکن ثنا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں شروع سے ہی خواتین کے ساتھ صنفی امتیاز برتا جارہا ہے۔ بچیوں کے ساتھ سب سے بڑا امتیاز تب شروع ہوتا ہے جب ان کی عمر سکول جانے کی ہوجاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت بلوچستان میں 15 ہزار کے قریب سرکاری سکول ہیں جن میں لڑکیوں کے لیے مختص سکولوں کی تعداد تین ہزار بھی نہیں ہے۔ بلوچستان کا رقبہ 3 لاکھ 47 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر یہاں کل 3257 سرکاری مڈل سکولوں میں صرف 245 مڈل سکول لڑکیوں کے لیے ہیں۔یعنی بلوچستان میں اوسطا ایک لڑکی کو مڈل سکول تک رسائی کے لیے 636 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور اتنا بڑا فاصلہ 18 گھنٹوں میں بھی طے نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح لڑکیوں کے لیے پرائمری سکول 35 کلومیٹر کے اوسطا فاصلے پر بھی موجود نہیں۔ پنجاب میں دو کلومیٹر اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں صرف 1.2 کلومیٹر کے اوسط فاصلے پر ایک پرائمری سکول موجو دہے۔ جبکہ ہائی سکول تو ایک ہزار ایک سو 92 کلومیٹر کے فاصلے پر صرف ایک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں