احتساب عدالتیں التواء نہ دیں: سپریم کورٹ
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے احتساب عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران 120احتساب عدالتوں کی تشکیل کے لئے حکومت کوایک بار پھر ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے احتساب عدالتوں /چیئرمین نیب کو ہدایت کی ہے کہ مقدمات کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر کی جائے، رات دیر تک بیٹھیں اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں، التواء نہ دیا جائے، التواء کے ذمہ داروں کے خلاف انضباطی کارروائی کریں۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنائیں۔لمحہئ فکریہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کو بھی بار بار یہ کہناپڑتا ہے کہ
”عدالتی حکم پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے“
تو سمجھ لینا چاہیئے کہ ماتحت عدالتوں میں مظلوم سائلین کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ احتساب عدالتوں میں اربوں روپے غبن، ہیرا پھیری اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ملزمان کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں۔ملزمان کے بااثر ہونے میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ مہنگے ترین وکلاء کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔اور ان کے وکلاء قانون میں موجود ہر سقم سے بھرپور استفادہ کرنے کی صلاحیت سے انکار ممکن نہیں۔ برسوں فرد جرم عاید نہیں ہونے دیتے۔ہر پیشی پر ایک نئی درخواست جمع کرادیتے ہیں، عدالت اگر پوچھے کہ یہ پہلے کیوں نہیں دی تو انتہائی رعونت سے جواب دیتے ہیں: عدالتی نظیریں تلاش کرنے میں وقت لگتا ہے، بہت پڑھنا پڑتا ہے، پھر اتنی جلدی کیوں ہے؟کیا فرق پڑے گا اگر ایک مہینہ بعد فرد جرم عاید کر لی جائے۔حقیقت یہ ہے کہ احتساب عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے والے بیشتر ملزمان خودقانون ساز ادارے کے اراکین ہیں۔ کوئی سابق وزیر اعظم ہے، اور کوئی کسی صوبے کا سابق وزیر اعلیٰ ہے، باقی سابق وزیر ہیں،مشیر ہیں، یا ان کی اولاد ہیں، بھتیجے بھانجے ہیں۔ انہیں تخت نشینی کے علاوہ اپنے خدا ہونے کا بھی ضرورت سے زیادہ یقین تھا۔وہ یقین کئے بیٹھے تھے کہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔پارلیمنٹ ان کے اشاروں پر چلتی تھی۔دو تہائی اکثریت کے مالک تھے۔ کھلے بندوں کہا کرتے تھے:”نیب کی کیا مجال کہ ان کی طرف دیکھ سکے“!سپریم کورٹ نے بجا طور پر درست حکم دیا ہے کہ احتساب عدالتیں بلاتاخیراور کسی التواء کے بغیر مقدمات کی سماعت کریں، فیصلہ سنائیں۔ملزمان التواء کے بل پر سماعت کاراستہ روکتے ہیں اور پھر پریس کانفرنسز میں دعویٰ کرتے ہیں:”ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی“۔ عام آدمی حکمرانوں کی لوٹ مار سے براہِ راست متأثر ہوتا ہے۔پینے کے لئے صاف، شفاف اور صحت افزاء پانی دستیاب نہیں۔دریا، ندی اور برساتی نالے صنعتی فضلے کی بھرمار سے آلودہ ہیں۔ غریب لوگ جلدی امراض سمیت خطرناک بیماریوں میں مبتلاء ہیں۔حتیٰ کہ آوارہ کتوں کی خوراک بن رہے ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی سگ گزیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔اسپتالوں میں علاج کی ویکسین موجود نہیں۔ ہر محکمہ اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہے۔ قانون شکن عناصر اتنے با اثر ہیں کہ برسوں سے وزارت قانون کو قائم مقام سیکرٹری چلا رہے ہیں۔ایک قائم مقام جاتاہے دوسراقائم مقام آجاتا ہے۔120احتساب عدالتوں کے قیام میں تاخیرکا بھی یہی جواز پیش کیا جاتا ہے کہ مستقل سیکرٹری قانون موجود نہیں۔نیب کے رولز کی تیاری کے بارے میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ منظوری کے لئے صدر مملکت کو بھجوائے گئے تھے انہوں نے وزارت قانون کو بھیج دیئے ہیں جہاں تفتیش اور استغاثہ کے قواعد الگ الگ کئے جا رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے اس کام کی تکمیل کے لئے بھی ایک ماہ کی مہلت دے دی۔گویا تاخیری حربے استعمال کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے احکام اگر ہوا میں نہیں اڑائے جاتے تب بھی تاخیر کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا جاتا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کاایک قول ہمارے وکلاء اور ججز اکثر دہراتے ہیں:”جب تک عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں،برطانیہ قائم رہے گا“۔لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ ہزاروں خامیاں اور سقم رکھنے والے قوانین کی موجودگی میں عدالتیں کیسے انصاف فراہم کر سکتی ہیں؟اور جب تک پارلیمنٹ قانون شکن عناصر کے قبضے میں ہے اس وقت تک خامیوں سے پاک قانون سازی ممکن نہیں۔اپوزیشن سلیکٹڈ حکومت اور پارلیمنٹ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تحریک چلا رہی ہے لیکن صاف،شفاف اور ہر قسم کی دھاندلی سے پاک انتخابات کے انعقاد کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کی جارہی۔سوال یہ ہے کہ خامیوں والے قوانین کے تحت جو بھی انتخابات ہوں گے انہیں دھاندلی زدہ نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ کہاں سے ملے گا؟ کون دے گا؟ عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ دھاندلی سے پاک انتخابات گیارہ رکنی اپوزیشن کا مرکزی ہدف نہیں۔کسی نیب زدہ شخصیت کو بیرون ملک بھجوانے کی مزیدایک کوشش ہے۔ ورنہ ’انتخابی قوانین کی تیاری‘ پی ڈی ایم کے 26نکات کا پہلااور بنیادی نکتہ نظر آتا۔اب یہ بھی کہا جا رہاہے کہ لاہور کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، اس کی تعداد اور عوامی جوش و خروش دیکھ کر ہی کوئی اندازہ لگایا جائے گا کہ حکومت مخالف تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔لیکن معروضی حالات سے آنکھیں بند نہ کی جائیں۔مستقبل قریب میں گرفتاری سے بچنے کے لئے پڑوسی کے گھر میں پناہ لینے والے کسی نئے اعتزاز احسن کو موجودہ آرمی چیف کا فون آنے کی امید نہ رکھی جائے۔7ستمبر 2020کو نون لیگ کے اہم رہنما کو دیئے گئے جواب کو اتنا ہلکا نہ سمجھا جائے۔اس جواب کے بعد آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا یہ بیان فراموش نہ کیا جائے کہ اب اس مفروضے کا خاتمہ ہوگیا ہے کہ پاکستان کچھ نہیں کر سکتا، اب سب کو یقین ہونا چاہیئے کہ پاکستان سب کچھ کر سکتا ہے۔اگر11جماعتی اپوزیشن کا یہ دعویٰ ایک لمحے کے لئے درست مان لیا جائے کہ عمران خان کو لانے والے عوام نہیں کوئی اور تھے تب بھی 7ستمبر کا جواب(سیاسی معاملات میں پارلیمنٹ اور قانونی مسائل کے لئے عدالت سے رجوع کیا جائے) یہی ظاہر کرتا ہے کہ ابھی وہ عمران خان کی کارکردگی سے مایوس نہیں ہوئے۔انہیں کسی دوسرے پیج پرجانے کی جلدی نہیں۔زمینی حقائق تویہی اشارہ دے رہے ہیں۔


