شایدپی ٹی آئی کو لانے والے مایوس نہیں؟

اپوزیشن اس خیال سے بڑی پر امید تھی کہ پی ٹی آئی /عمران خان کو لانے والے اس کی ناتجربہ کاری، نااہلی، نالائقی اورمایوس کن کارکردگی کے باعث بری طرح مایوس ہو چکے ہیں اور اسے ہٹانا چاہتے ہیں۔چنانچہ 11جماعتی اتحاد(پی ڈی ایم) اپنی قوت دکھائے تو اس کی جگہ لے سکتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ جتنی تیزی سے مہنگائی اگست2018کے بعد بڑھی ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اس پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی ہے ایسی مثال اس سے پہلے 71سالہ دور میں نہیں ملتی۔آٹا، چینی، سبزیاں اورادویات سمیت سب کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔مہنگائی کا دفاع پی ٹی آئی کے ایم این ایز،ایم پی ایز اور وزراء بھی نہیں کر سکتے۔حکومتی بینچوں پر ہونے کے باوجود اپنی ہی حکومت کے خلاف تند و تیز تقاریر کرتے نظر آتے ہیں۔وزراء عوام کا سامنا نہیں کر سکتے۔خود وزیر اعظم عمران خان مہنگائی میں اندھا دھند اضافے کا اعتراف کرتے ہیں،کہتے ہیں انہیں رات کو نیند نہیں آتی۔ جلد قابو پانے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں مگر تاحال انہیں اس میں کوئی کامیابی نہیں ہو سکی۔ریلوے وزیر شیخ رشید احمد جیسا بذلہ سنج سیاستدان بھی مہنگائی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے اپنی نظریں جھکا لیتا ہے، آواز دھیمی ہوجاتی ہے، الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔وہ باربار کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کا اصل دشمن مہنگائی ہے، اس پر قابو نہ پایا توآئندہ انتخابات میں عوام کا سامنا نہیں کر سکے گی۔ بقول شیخ رشیدچوتھے سال سیاستدان اپنے حلقے میں شادی بیاہ کی تقاریب اور جنازوں میں شریک ہونا شروع کردیتے ہیں، اگلے انتخابات کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ حکومت ڈھائی سالہ اقتدار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مہنگائی کی ذمہ دار مافیاز ہیں۔سوال یہ ہے کہ حکومت(وزیر اعظم عمران خان) نے ملکی ضروریات کو سامنے رکھے بغیرگندم اور چینی برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی تھی کہ بعد میں یہ دونوں اہم ترین اشیائے خوردنی درآمد کرنا پڑیں۔اب تو عام آدمی کی طرح تجزیہ کاربھی یہ کہنے لگے ہیں کہ مان لیا عمران خان ایماندار ہیں لیکن انہوں نے اپنی کابینہ میں مافیاز کے ایجنٹ بٹھا رکھے ہیں تو ان کی کابینہ میں اور سابقہ حکومتوں میں کیا فرق رہا؟اقتدار کے تیسرے سال کی پہلی سہ ماہی گزر چکی۔تحقیقاتی رپورٹس آنے کے باوجود کسی ایک نامزد ملزم کوعدالتوں سے سزا نہیں دلوائی جا سکی۔نیب مالیاتی خورد برد کے چھوٹے موٹے کیسز میں ریکوری کرلیتا ہے مگر اربوں روپے کی ہیرا پھیری میں ملوث بڑے ملزمان کے خلاف کوئی کیس انجام کو نہیں پہنچایا جا سکا۔ چیئرمین نیب کا یہ کہنا اپنی جگہ درست ہے:”اگر نیب نے کچھ نہیں کیا تو نامزد ملزمان ملک سے بھاگے کیوں؟“لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی، عام آدمی پوچھتا ہے کہ انہیں بھاگنے کا موقع کس نے فراہم کیا؟ صرف شریف فیملی بیرون ملک نہیں گئی،پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما جہانگیر ترین بھی لندن میں ہیں۔جو ملک میں موجود ہیں ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔پشاور کی بی آر ٹی بسیں چلتے ہی جلنے لگیں اور اب چلتے چلتے خراب ہونا شروع کر دیا ہے۔خریداری میں کمیشن نہیں وصول کی گئی تو متعلقہ فرم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی جاتی؟گھٹیا اور غیر معیاری بسوں کی خریداری پاکستانی عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔مالم جبہ کیس کیوں نہیں چلایا جا رہا؟کرپشن کا کوئی ایک بڑا کیس اگر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا تو عام آدمی یہ یقین کر لیتا کہ بسم اللہ ہو گئی ہے آئندہ کوئی کرپٹ نہیں بچے گا۔لیکن ایسی ایک مثال کا نہ ہونا مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دے سکتا۔اتنے اچھے حالات اور اتنا وسیع میدان قدموں تلے ہونے کے باوجوداپوزیشن نہ جانے کیوں مہنگائی کے ایجنڈے سے بھٹک کر بند گلی میں چلی گئی؟اور وہ بھی ایسے انداز میں کہ خود ان کی اپنی صفوں میں بھونچال آگیا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے اہم رہنما حافظ حسین احمد کا بیانیہ اپنے قائدمولانا فضل الرحمٰن سے قطعی مختلف بلکہ برعکس ہے۔نون لیگ کے رہنماؤں کی اکثریت منظر سے غائب ہے۔دیگر جماعتوں کے قائدین بھی حیران ہیں کہ اچانک یہ سب کیا ہو گیا ہے؟ اس کی اتنی جلدی کیا ضرورت تھی۔سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے نون لیگی قیادت کو ایسے بیانات دینے سے پہلے پی ڈی ایم کے دیگر قائدین سے مشاورت ضروری تھی۔ پی ڈی ایم کو مشترکہ ایجنڈا لے کر چلنا تھا۔باہمی مشاورت اور سنجیدہ سوچ بچار کے بعداپنے ا ہداف طے کرنا چاہیئے تھا۔اس ہدف کو حاصل کرنے کے راستے متعین کئے بغیر آگے بڑھنے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔نون لیگ کو جلد احساس ہو جائے گا کہ عجلت میں وہ کلمات پارلیمنٹ میں نہ کہے جاتے، توان وضاحتوں کی ضرورت نہ ہوتی جو مسلم لیگ نون کی دوسرے درجے کی قیادت آج پیش کر رہی ہے۔ اس مشقت سے بچا جا سکتاتھا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث مباحثے کے ذریعے صاف، شفاف اور دھاندلی سے پاک انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے قانون سازی کی جائے۔ الیکشن کمیشن کو اتنا با اختیار بنایا جائے کہ کوئی (ادارہ/سیاسی پارٹی)اس پر اثر انداز نہ ہو سکے۔لیکن اب شیشے کے گھر میں رہنے والوں سے پتھر پھینکنے کی غلطی ہو چکی ہے۔اب پہلے جوابی سنگ باری سے بچاؤ کا بندوبست کتنا ہوگا۔ ترجیحات کے تعین میں چو ک ہو جائے توخمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔حکومت گرانا اتنا آسان کام ہوتا تو پی ٹی آئی یہ کام 2016میں کر لیتی،126روزدھرنا دینا پاکستان کی سیاسی تاریخ کی پہلی مثال تھا، بے نتیجہ رہا۔اس لئے کہ 2008 کے بعد جلسوں کے ذریعے حکومتوں کو گھر بھیجنے کی پالیسی متروک ہو چکی ہے۔جدید دور ہے، سیاست میں بھی جدید فارمولے استعمال کئے جائیں گے۔اب مناسب راستہ یہ رہ گیا ہے کہ ہر پارٹی اپنا الگ ایجنڈا لے کر نہ چلے۔پی ڈی ایم اگر واقعتاً 11جماعتی اتحاد ہے تو اس کا مشترکہ پروگرام بھی ہونا چاہیئے۔یہ بھی طے کیا جائے کہ اصل لڑائی کس سے ہے؟ عمران خان سے؟ یا اسے لانے والوں سے؟ورنہ یہ رسہ کشی نقصان دہ ثابت ہوگی۔یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ پی ٹی آئی کو لانے والے ابھی اس کی کارکردگی سے اتنے مایوس نہیں ہوئے کہ اقتدارپی ڈی ایم کے حوالے کر دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں