بائیڈن کی حلف برداری، ٹرمپ کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے امریکی صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کی تقریب میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے جواب میں بائیڈن نے ٹرمپ کی عدم شرکت کو ایک ’اچھی بات‘ قرار دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت میں اب گنے چنے دن رہ گئے ہیں۔ انہوں نے بیس جنوری کو چھیالیسویں امریکی صدر جو بائیڈن کی حلف برداری میں شریک نہ ہونے کا اعلان جمعہ آٹھ جنوری کو کیا۔ جمعے ہی کے دن نو منتخب صدر جو بائیڈن نے ٹرمپ کے شریک نہ ہونے کو ایک ‘اچھی بات‘ قرار دیا۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق نو منتخب صدر نے ٹرمپ کے اس فیصلے پر مناسب تبصرہ کر کے صورتحال کو نظر انداز کر دیا ہے۔ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کے ذاتی اکاؤنٹ پر مستقل پابندی لگا دی

ٹرمپ نے عدم شرکت کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب کانگریس میں ان کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کی بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ مواخذے کی قرار داد پیر گیارہ جنوری کو پیش کرنے کے قوی اشارے سامنے آ چکے ہیں۔


مواخذے کی قرار داد پیر گیارہ جنوری کو کانگریس میں پیش کرنے کے قوی اشارے سامنے آ چکے ہیں۔​​​​​​
امریکی کانگریس کی عمارت پر صدر ٹرمپ کی ‘شہ‘ پر ان کے حامیوں کی چڑھائی کا تفتیشی معاملہ بھی جاری ہے۔ ڈیموکریٹ ارکان اور میڈیا نے اس معاملے کو ‘بغاوت‘ پر اکسانے سے بھی تعبیر کیا۔ ایوانِ نمائندگان کے ارکان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد کا متن ترتیب دے دیا ہے اور اب اس کی کانٹ چھانٹ شروع ہے۔’کیا خوبصورت منظر ہے‘، کیپیٹل ہل پر دھاوا اور چینیوں کا طنز

اس کا بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے مواخذے کی تحریک پیر کو پیش کرنے کے بعد اس پر بحث اور مختلف افراد کی فوری طلبی کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔ اراکین کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں قرارداد کو منظور کرنے کی کارروائی مکمل کر لیں گے۔

اس قرار داد کو سینیٹ میں منظوری کے لیے دو تہائی اراکین درکار ہوں گے۔ سینیٹ کی اکثریتی سیاسی جماعت کی حیثیت ڈیموکریٹک پارٹی کو بیس جنوری کو حاصل ہو گی۔
امریکی کانگریس کی عمارت پر صدر ٹرمپ کی ‘شہ‘ پر ان کے حامیوں کی چڑھائی کا تفتیشی معاملہ بھی جاری ہے
ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا، ”وہ لوگ جو یہ جاننا چاہتے ہیں، میں بیس جنوری کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کروں گا۔‘‘
یہ ان کی آخری ٹوئیٹ بھی ثابت ہوئی کیوں کہ اس کے بعد ٹوئٹر نے ان کا ہینڈل مستقل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا
اس بیان سے پہلے ٹرمپ نے ایک دوسرے بیان میں یہ کہا تھا کہ بیس جنوری کو اقتدار کی منتقلی صاف اور منظم انداز میں کی جائے گی۔
نو منتخب صدر جو بائیڈن نے جمعہ آٹھ جنوری کو ہی حلف برداری کی تقریب میں ٹرمپ کی عدم شرکت کو ایک ‘اچھی بات‘ قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس موقع پر موجودہ نائب صدر مائیک پینس آتے ہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
جو بائیڈن بیس جنوری کو منصبِ صدارت کا حلف اٹھائیں گے
پینس نے یہ واضح کیا تھا کہ اگر انہیں دعوت دی گئی تو وہ اس تقریب میں ضرور شریک ہوں گے۔ سابق امریکی صدور بِل کلنٹن، جارج بُش اور باراک اوباما نے بیس جنوری کی تقریب میں شریک ہونے کا عندیہ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں