پاکستان کتنے فیصد گروی ہو چکا ہے؟
وزیر اطلاعات شبلی فرازکی پریس بریفنگ کے مطابق حکومت نیا قرض لینے کے لئے ڈیڑھ ارب ڈالرمالیت کے اسلامی سکوک بانڈز جاری کرنا چاہتی ہے۔اس مقصد کے لئے ایف9 پارک یا کوئی سڑک بطور ضمانت رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس قسم کے بانڈز طویل عرصے سے جاری کئے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد ایئر پورٹ سمیت ملک کے کی اہم شاہراہیں اور دیگر اثاثے پہلے ہی رہن ہیں۔جبکہ بعض اثاثے واپس لئے جا چکے ہیں۔کابینہ میں سمری پیش کئے جانے پر وزراء نے یہ اعتراض کیا کہ بطور ضمانت عوامی اثاثہ جات کیوں گروی رکھے جاتے ہیں؟امیروں کی اسلام آباد کلب کیوں بطور ضمانت نہیں رکھی گئی؟وزیر اعظم عمران خان نے پوچھا یہ سمری کس نے تیار کی؟ اور وزراء کا اسلام آد کلب گروی رکھنے کی تجویز کے بارے میں کہا:”اس میں کوئی حرج نہیں!“وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اس قسم کے بانڈ جاری کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ ہمارے اسلامی بینکنگ سسٹم میں کاروبار کا کوئی طریقہ وضع نہیں کیا گیااس لئے وقتاً فوقتاًسکوک بانڈز جاری کئے جاتے ہیں۔وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں اسلامی بینکنگ میں پائی جانے والی ایک بنیادی خامی اجاگر کی ہے۔انہوں نے بجا طور پر درست کہا ہے کہ اسلامی بینکنگ میں کاروبار کا کوئی طریقہئ کار وضع نہیں کیاگیا۔ یہ بیان توجہ طلب ہے۔انہوں یہ بھی بتایا کہ انہوں اس خامی کو دور کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں 2017یا2018 میں ایک بل بھی پیش کیا تھا۔مناسب ہوگا کہ پارلیمنٹ اس بل پر تفصلی بحث کرے، اس میں کروبار کے حوالے سے پایا جانے والا سقم دور کیا جائے۔انہوں نے تجویز پیش کی اسلامی بینک 30فیصد کاروبار کے لئے مختص کرے۔
دراصل پاکستان اور عالم اسلام نے سودی نظام کو ختم کرنے اور اسلامی معیشت نافذ کرنے کے بارے میں کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں۔سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا حل قرآنی تعلیمات /قرآنی آیات میں تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔انہوں نے قرآنی اصطلاح ”ربوٰ“پر جتنی بحث کی وہ قرآن سے باہر نکل کر کی،اور ان کی ناکامی کی اصل وجہ یہی ہے کہ انہوں قرآن سے رہنمائی حاصل نہیں کی۔چنانچہ وہی اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ rate of interest (شرح سود)جو سالانہ کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے اسی کو کسی مہینے 200روپے کم کرکے اوراگلے مہینے 250 روپے بڑھا کر اس طرح ظاہر کرتے ہیں جیسے انہیں ایک مہینے میں اتنا نقصان ہوا تھا اور دوسرے مہینے انہیں نفع ہوا تھا۔لیکن ان کا سالانہ نفع /نقصان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ سالانہ rate of interest (شرح سود) کے مساوی ہوگا۔ جسے شبہ ہو اسلامی بینکنگ سسٹم کے جاری کردہ اعدادوشمار بابت فکسڈ ڈیپازٹ خود دیکھ لے۔انشاء اَللہ ہرسال اسٹیٹ بینک کے rate of interest (شرح سود) کے مساوی نکلیں گے۔واضح رہے یہ وہی شرح سود ہے جو پاکستان میں کام کرنے والے تما م بینکس کے زیر استعمال ہے۔جب تک قرآنی آیات اَللہ کا دیا گیا حتمی حکم نہیں مانا جائے گا اس وقت تک اسلامی نظام معیشت کوسمجھنا ممکن نہیں۔اس ضمن میں سورۃ البقرۃ کی آیت275فیصلہ کن آیت ہے:
”جو لوگ اَلرّبوٰ کھاتے ہیں ان کی حالت اس شخص جیسی ہوجاتی ہے جسے شیطان نے مس کرکے حواس باختہ کر دیا ہو؛ یہ اس لئے ہوتا ہے/ہوگا کہ یہ لوگ کہتے ہیں:’اَلْبَیْعَ بھی اَلرّبوٰ جیسا ہی تو ہے،‘(نہیں ایسا ہرگز نہیں)اَللہ نے الْبَیْعَکو حلال قرار دیا ہے اور اَلرّبوٰ کو حرام قرار دیا ہے“؛۔۔۔۔ جو اپنے رب کی نصیحت کی طرف آئے گااور باز آگیا، اس کے لئے جو ہو چکا سو ہوچکا،(ماضی کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا)، یہ اَللہ کا حکم ہے، پھر جو سابق طریقے پر چلے، وہی اصحاب النّا ہیں، ہمیشہ اسی میں رہیں گے!“
مسلم علماء نے آج تک اَلرّبوٰ کے قرآنی معانوں پر غور نہیں کیا، قرآن سے باہر گشت کرنے والے مفاہیم سے اَلرّبوٰ کے معنے کشید کئے، جو انہیں گمراہ کرتے ہوئے یہودیوں کے وضع کردہ مفہوم کی جانب لے گئے۔ویسے بھی معاشی طور پر مستحکم پارٹی اپنا مؤقف منوا لیتی ہے۔ مسلم علماء نے اَلرّبوٰ پر اپنی تمام توجہ مرکوز رکھی مگر اَلْبَیْعَ پر سرے سے غور نہیں کیا۔دوسری اصطلاح کو نظرا نداز کرکے جو فارمولہ مرتب کیا جائے گا، ناقص ہوگا۔ اس نقص کو دور کئے بغیر اَلْبَیْعَ کے درست معنوں تک رسائی ممکن نہیں۔
علماء سوچیں: اَلْبَیْع میں کون سی خاص بات ہے جو اَلرّبوٰ میں نہیں۔انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اَلْبَیْعَ میں انویسٹرہر مرحلے پر باخبر ہوتا ہے کہ اس کا سرمایہ کس کاروبار میں لگایا جانے والاہے،انویسٹر کی مشاورت اور رضامندی کے بغیر بزنس نہیں ہوتا۔اسی طرح اس کے سرمائے سے خریدی گئی پراپرٹی کتنے میں بیچی جارہی ہے، اس سے مشاورت کی جاتی ہے اور رضامندی سے فروخت کی جاتی ہے۔ انویسٹر اصل منافع سے باخبر ہونے کی بناء پر طے شدہ تناسب کے مطابق اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔اور بینک کو اپنا حصہ ملتا ہے۔منافع کی شرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان مقرر نہیں کرتا، نہ ہی اسے یہ اختیار حاصل ہے۔ کوئی دانشمند شخص rate of interest کو بقائمی ہوش و حواس قبل از وقت منافع تسلیم نہیں کر سکتا۔کاروبای شراکت میں باہمی رضامندی سے انویسٹر اور (sleeping partner) نفع و نقصان میں تناسب طے کرتے ہیں۔اور تجارتی مراحل سے گزرنے کے بعد حقیقی منافع کو دیکھ کر اس میں سے طے شدہ تناسب کے مطابق،دونوں فریق، اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ میں قرض دینے والا(بینک/شخص) قرض دینے سے پہلے 100مالیتی جائیداد کی دستاویزات بطور ضمانت قرض لینے والے سے ایک معاہدے پر دستخط کرا لیتا ہے کہ قرض ادا نہ کرنے کی صورت میں یہ جائیداد بینک کی ملکیت تصور ہوگی۔گویا بینک نقصان میں کسی طور شریک نہیں ہوتا۔قسطوں کی صورت میں بھاری منافع وہ پہلے ہی کما چکا ہوتا ہے۔دیئے گئے 80فیصدقرض کی 100 فیصد مالیت بطور ضمانت اس کے قبضے ہوتی ہے، گویا 20فیصد منافع وہ قرض دیتے وقت کما لیتا ہے۔یہ ہے اَلرّبوٰکا وہ ظالما نہ کردارجسے اَللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اسلامی بینکنگ کے نام پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سرپرستی میں رائج ہے۔


