سیاست روایتی سست روی کا شکار

سیاست میں چند روزہ گہما گہمی کے بعد وہی روایتی سست روی دکھائی دینے لگی ہے۔عام آدمی کو توقع تھی کہ چند ہفتوں میں مہنگائی کی ذمہ دار، ناتجربہ کار اور نااہل حکومت پی ڈی ایم کے سیلابی ریلے میں تنکوں کی طرح بہہ کر اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔اب بھی 26مارچ زیادہ دور نہیں، فروری کے 21دن ہیں یہ سینیٹ کے انتخابات کی قانونی بحث میں گزر جائیں گے، یہ فیصلہ از خود باوقار انداز میں نہیں کرے گی، اپوزیشن نے واضح اعلان کردیا ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف ہلڑ بازی ہوگی۔ بھرپور کوشش کی جائے گی کہ سینیٹرز کا انتخاب حسب سابق آزادانہ ہارس ٹریڈنگ جاری رہے۔ضمیر فروشوں سے نہ پوچھ جائے کہ تم نے اپنے ووٹ کی کتنی قیمت وصول کی؟چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تاریخ بار بار دہرئی جاتی رہے۔64اراکین فلور آف دی ہاؤس پر با آواز بلند اعلان کریں:”ہمیں چیئرمین سینیٹ پر اعتماد نہیں!“،اور چند منٹ بعد ان معزز اراکین سینیٹ خفیہ رائے شماری میں گھٹ کر50رہ جائے۔اور اپنے اعلان سے پھر جانے والوں کی شناخت تا حال نہ ہو سکے۔حالانکہ سب جانتے ہیں،مگر بے اختیار ہیں۔اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اس کے بعد تحریک عدم اعتماد کی اصطلاح سیاست دانوں کی زبان پر آنا بند ہو گئی۔پی پی پی نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پیش کی آج تک پی ڈی ایم کی دیگر اتحادی 10جماعتیں ان سے حامی ارکان کی تعداد پوچھ رہی ہیں اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو مطمئن نہیں کر سکے۔جب سیاست اس مقام پر پہنچ جائے کہ حکومت کے ووٹ خریدے بغیراپوزیشن اپنے امیدوار کامیاب نہ کرا سکے توایوان کو مچھلی بازار بنا دے کہ اس کے لئے دھاندلی کا راستہ کھلا رہے۔ ایسی سوچ کا ساتھ دینے والے شاید لافانی زندگی کا پروانہ لکھوا کر لائے ہیں؟
عام آدمی مشکلات کا عادی ہو چکا ہے۔اور کسی حد تک لیڈروں سے اس نے اپنی توقعات ختم کر لی ہیں،یہی وجہ ہے تمام پارٹیوں کا مزاج یکساں نظر آتا ہے۔اب تو نام کے سوا انیس بیس کا فرق بھی نہیں رہا۔ورنہ اسی پاکستان میں ہر پارٹی کی اپنی شناخت تھی،پہچان تھی،پی پی پی کے ورکر جیالے کہلاتے تھے،نون لیگ کے ورکرز کو متوالے کہا جاتاتھا۔سب کے چہرے پر عزم اورپر اعتماد ہوا کرتے تھے۔اب وہ چہرے دکھائی نہیں دیتے۔اب توان کے لیڈرز بھی میڈیا کے سامنے شکایتوں کا ایک بھاری پلندہ پیش کرتے دیکھے جا تے ہیں۔جب سیاست دانوں کو اپنے ساتھیوں پر اعتماد نہ رہے۔ ہمیشہ ڈرتے رہیں نہ جانے کب 64اپنی تعداد کھو بیٹھیں،ایسے حالات میں عدم اعتماد کوجمہوریت میں ایک بڑا ہتھیار سمجھناایک مغالطہ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اب یہ بھی گالی کے درجے پر جا پہنچا ہے۔ ورنہ پی ڈی ایم پی پی پی کی تجویز مان لیتی۔پس و پیش نہ کرتی۔ٹھوس یقین دہانی کا مطالبہ نہ کرتی۔سیاستدانوں کو اگر سیاست میں رہنا ہے تو اصولوں کوپیروں روندنے کی ضد چھوڑنا ہوگی۔ سیاست بااصول نہ ہو تو دھیرے دھیرے تنہائی کے خول میں بند کر اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔دوسری بیماری انا پرستی ہے وہ بھی اتنی ہی خطرناک ہے جتنی کہ بے اصولی ہے گمنامی کی موت مقدر بنتی ہے۔قبر کا نشان بھی باقی نہیں رہتا۔سیاست دان سوچیں اپنا نام کیسی فہرست میں لکھوانا پسند کریں گے؟اس فہرست میں جہاں چاروں طرف خوشبو فضاء کو معطر رکھتی ہے؟۔۔۔ یا اس فہرست میں جہاں لوگ ناک پر رومال رکھنے پر مجبور ہیں۔ فیصلہ کی مہلت ویسے تو بہت مختصر ہے لیکن گیارہ پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت زمینی حقائق سامنے رکھے،جذبات کی بجائے ہوش سے کام لیا جائے تو اب بھی معاملہ بند گلی میں داخل نہیں ہوا۔ تمام دروازے بندنہیں ہوئے، کوشش کی جائے،کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ویسے بات چیت کا سلسلہ جاری ہوگا۔ سینیٹ کا دنگل دیکھنے کے بعد کوئی فیصلہ ہونا ممکن ہے۔سینیٹ کے انتخابات سے جس نے جو امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، دیکھنے کا موقع ضرور ملنا چاہیئے۔
ایک بار پھرکہنا پڑتا ہے کہ عوام کا تجسس اور سیاست میں دلچسپی یہ اول جلول فیصلے اور اوٹ پٹانگ قلابازیاں دیکھ کر بہت دھیما ہوتی جا رہی ہے۔عوام کو سیاست کی طرف راغب کرنے کے بگ بینگ کی ضرورت درپیش ہو سکتی ہے۔ کاش سیاست کو اس مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی کوئی مناسب راہ نکال لی جاتی۔اب تو پارٹی کے سینیئر رہنماء بھی بعض سوالوں کا جواب دیتے ہوئے پریشان ہوجاتے ہیں۔ میڈیا سیاست دانوں سے کرید کرید کر بہت کچھ پہلے ہی عام تک پہنچا چکا ہے۔نئی معلومات نہ ہوں تو عام آدمی چینل تبدیل کر دیتا ہے۔یہ رویہ کچھ عرصہ مزید جاری رہا تو عام آدمی کی دلچسپی لاتعلقی میں تبدیل ہو نے کا اندیشہ ہے۔عوسام کی تیز چبھتی ہوئی نگائیں حکومت کے تعاقب میں نہ ہوں تو بے لگام حکومت کسی بھی کھڈے یا گہری کھائی میں گرا سکتی ہے۔ گوناگوں مسائل میں جکڑاپاکستان کسی نئے صدمے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔سیاست عدالت میں سوالی بن کر کھڑی نظر آئے تو اس کے چہرے کا سارا وقاراڑ جاتا ہے۔عدالت کے طنزیہ ریمارکس کی گونج فضاء میں باقی رہتی ہے۔وکلاء کے جوابات اپنے متن کی کمزوری میں دب جاتے ہیں۔پاکستان میں مختصر وقفوں کے بعد یہی کچھ دہرایا جاتا ہے،سیاست دان اس مسئلے کا کوئی مستقل حل 73برسوں میں نہیں دے سکے۔اور کبھی سنجیدگی سے اسے حل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ورنہ یہ تکلیف دہ صورت حال خوش اسلوبی سے حل کی جا سکتی تھی۔اور اسے برسوں پہلے حل ہو جا نا چاہیئے تھا۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دوسروں کی موجودگی برداشت کرنے کی عادت ڈالی جائے۔کالا کوٹ پہننے میں عجلت نے یہ دن دکھائے ہیں۔اب فرصت ملی ہے سوچیں اور آئندہ سمجھداری سے کام لیا جائے۔تھپکی دینے والوں کوسنے کی بجائے ان کی تھپکی سے بچنے کی زیادہ ضرورت ہے۔سیاست ساری دنیا میں رائج ہے تاریخ کا مطالعہ مدد دے سکتا ہے۔اپنے مزاج میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لانے سے انکار نہ کیا جائے۔اس مرتبہ معاملات ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں