اسلام آباد سے جو جیتے گا،وہی ملک پہ راج کرے گا
سینیٹ کے انتخابات کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ اتنا سنجیدہ رخ اختیار کر جائیں گے کہ اسلام آباد کی ایک سیٹ ملکی سیاست کے لئے بھونچال پیدا کر دے گی لیکن سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے کاغذات نامزدگی جمع ہوتے ہی صورت حال سنسنی خیز ہوگئی ہے۔جیت کے لئے 172ووٹ درکار ہوں گے،حکومت کے پاس اس وقت اتحادیوں سمیت177ووٹ ہیں اور اپوزیشن کواپنی برتری ثابت کرنے کے لئے صرف 6ووٹرز کو قائل کرنا ہے۔یوسف رضا گیلانی جنوبی پنجاب کی روحانی شخصیت ہیں،انہیں ہر لحاظ سے ایک بااثر سیاستدان سمجھا جاتا ہے اور وہ ہیں۔عام حالات میں ان کے لئے 6ووٹ حاصل کرنا کوئی مشکل بات نہ ہوتی مگر موجودہ صورت حال میں یہ اقدام حکومت کے خلاف عدم اعتماد کے مترادف ہوگا۔دوسری جانب سارا کھیل سیکرٹ بیلٹنگ کے دوران کھیلا جاتاہے،ٹیکنیکل بنیادوں پر ووٹ کا مسترد ہونا جرم نہیں مانا جاتا، مہر کا مناسب طور پر ثبت نہ ہونے سے ووٹ ناکارہ ہوجاتاہے اور ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے،چیئرمین سینیٹ کے خلاف 64 کا 50ہوجانا اسی کاریگری کا شاخسانہ تھا۔جب تک ایک ہی ووٹر کو اپنی رائے کے اظہارکے لئے بیک وقت دونوں سہولتیں حاصل رہیں گی اس وقت تک مہرstamp کے اپنے درست مقام پر نہ ہونے کی روایت برقرار رہے گی۔ واضح رہے موجودہ صورت میں ووٹر قومی اسمبلی کا رکن ہے اسے اگر ووٹر کی حیثیت سے اسٹیمپ لگانا بھی نہیں آتا توسوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس معزز ادارے کا رکن بننے کا اہل ہے؟اگر 3مارچ کو بھی ماضی کی روایت برقرار رہی توعام پاکستانی کی زبان پر یہ سوال ضرور آئے گامگریہ بھی یقینی ہے کہ عام آدمی کوحسب معمول کوئی جواب کہیں سے نہیں ملے گا۔آج بھی سپریم کورٹ اس سوال پر غور نہیں کررہی۔معزز عدالت اگر ضروری سمجھے تو اس کو اختیار حاصل ہے، اس سوال کو مقدمے کا حصہ بنا سکتی ہے۔الیکشن کمیشن بھی ووٹر کو پابند کر سکتا ہے کہ اسٹیمپ والی غلطی نہ کی جائے،مگر ہر جگہ یہی کہا جائے گا کہ آئین اور قانون میں کہاں لکھا ہے کہ میں یہ غلطی نہ کروں؟سادہ اور عام فہم زبان میں یہی کہا جا سکتاہے کہ یہ سقم دانستہ چھوڑااور اسے بوقت ضرورت کیش کرایاجا سکے۔عام آدمی اس رویہ پر نجی محفلوں میں انتہائی دکھ کے ساتھ یہ جملہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے:”قانون ساز کرپشن کے کسی موقع سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں“،جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بکنے کے عمل میں گنتی کے چند افراد ہوتے ہیں،پورا ایوان شریک نہیں ہوتا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پورا ایوان اس گھناؤنے عمل کی توک تھام کے لئے سنجیدہ قانون سازی /آئینی ترمیم سے کیوں گریزاں ہے؟اسکے معنے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتے کہ وہ یہ گندی گلی بند کرنا نہیں چاہتے۔انہیں بھی اس گلی کی کبھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ورنہ ایک جملے کو قانون کاحصہ بنانے میں کتنا وقت درکار ہے؟ کیایہ کام 18ویں ترمیم سے بھی زیادہ مشکل ہے؟یہی کہا جا سکتا ہے کہ ابھی معزز اراکین کرپشن کا دروازہ بند کرنا نہیں چاہتے۔جب تک عزم اور ارادے کا فقدان رہے گا،کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ 3مارچ آنے میں صرف 14دن کی دوری ہے۔ایوان نے اپنا کام بھی عدالت کے کندھوں پر لاد دیاہے۔اور عدالت کی مجبوری یہ ہے کہ اسے دستیاب قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے ہاتھ پیر باندھنے ہیں،جبکہ اراکین نے عدالت کی آسانی کے لئے اس ضمن میں ضرورت کے مطابق کام نہیں کیا۔کاش پارٹی کی سطح سے بلند ہو کر سوچا جاتا،آئندہ نسلوں کو نگاہوں کے سامنے رکھ کر کرپشن کی یہ کھڑکی بند کر دی جاتی۔ چند بکاؤ اراکین کی مدد سے پورے ایوان کو محکوم بنانے کی نقصان دہ روایت جنم ہی نہ لیتی۔یاد رہے یہ دو چار دن کی بات نہیں بانیان دستور کی زبان سے یہ تلخ جملے سننے کو ملے کہ جس کے پاس 200کروڑ روپے ہوں وہ جب چاہے پاکستان پر حکمرانی کر سکتاہے۔یہی ماحول محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو ملا،چھانگا مانگا کی منڈیاں لوگوں کو یاد ہیں۔عدم اعتماد کے وقت لگائی جاتی تھیں۔اپنے اراکین کو بکنے سے بچانے کے لئے حکمران پارٹی کو بہت کچھ کرنا پڑتا تھا۔دیکھیں اس مرتبہ کیسا منظر دیکھنے کو ملے گا؟اس لئے ہر بار نیا منظر سجانے کی کوشش کی جاتی ہے۔مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کی انٹری کو حکومتی شکست سے تعبیر کرتے ہوئے سلیکٹرز کو خبردار کیا ہے کہ پہلی غلطی ہم نے معاف کردی، آئندہ ایسی غلطی نہ کرنا۔اس میں شک نہیں کہ حکومت کے مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔صرف 6 اراکین کا ادھر سے ادھر ہونا ملکی سیاست کا نقشہ تبدیل کر سکتا ہے۔اسلام آباد کی سینیٹ کی زیر بحث سیٹ کا انتخاب بادیئ النظر میں vote of no confidence کا درجہ رکھتی ہے۔اور حکومت اس راز سے بخوبی واقف ہے۔اور سب جانتے ہیں کہ حکومت کے پاس اپنے اراکین کی نقل و حرکت کے محدود کرنے کے ایک سے زائد راستے موجود ہوتے ہیں جبکہ اپوزیشن کو اپنے اراکین کی حاضری یقینی بنانے میں بھی ان دیکھی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔سینیٹ انتخابات میں دو ہفتے سے بھی کم مدت رہ گئی ہے اس لئے کس کے سر پر کتنے بال ہیں 3مارچ کو سامنے آجائیں گے۔میدان اسی قومی اسمبلی میں سجے گا جہاں 64میں سے 14نے اچانک اپنے قول کے برعکس حیران کن کرتب دکھاکے پوری قوم کوحیران کر دیاتھا۔واضح رہے وفاداریاں بدلنے والے اپوزیشن اراکین تھے،حکومتی اراکین نے یہ تماشہ اپنے گھروں پر ٹی وی کے ذریعے دیکھا۔اپوزیشن نے ان ”لوٹوں“ یا ”غداروں“ کے خلاف آج تک کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی، اس لئے خطرات اسی کے سر پر منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں۔3مارچ تک سپریم کورٹ کی جانب سے کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائن دیئے جانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔توقع ہے الیکشن کمیشن آج اپنی تجاویز حتمی شکل میں پیش کر دے گا اور ان تجاویز کی روشنی میں گائیڈ لائن کی تیاری آسان ہو جائے گی۔لیکن سچ یہی ہے کہ اسلام آباد کی سیٹ جو جیتے گا،وہی ملک پر آئندہ ڈھائی سال راج کرے گا۔


