پی ٹی آئی اور باپ کے لئے لمحہ فکریہ!

سندھ کی 2 اور بلوچستان کی1 (مجموعی طور پرتین نشستوں) کے ضمنی انتخابات کے نتائج پی ٹی آئی اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت کے لئے ہر لحاظ سے لمحہئ فکریہ ہونے چاہئیں۔اول اس لئے کہ دونوں صوبوں میں تین میں سے ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے۔پشین میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے امیدوار سید عزیز اللہ آغا24965ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے قریبی حریف عصمت اللہ خان ترین کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا، صرف7123ووٹ لے سکے۔ 17842ووٹو ں کے مارجن سے شکست اپنی جگہ قابل توجہ اور بڑا مارجن ہے،اس لئے کہ بی اے پی صوبے کی حکمران جماعت ہے۔صوبہ سندھ میں کراچی اور سانگھڑکی دونوں نشستیں پی پی پی نے با آسانی جیت لیں۔سانگھڑ کی سیٹ پی پی پی کے جام شبیر علی خان 48ہزار سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے،جبکہ ان کے قریبی حریف پی ٹی آئی کے مشتاق 6ہزار925کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔یہا ں پی پی پی کے امیدوار کو پی ٹی آئی کے امیدوار پر42ہزار سے زائد ووٹوں کی سبقت حاصل تھی۔کراچی میں پی ٹی آئی کے امیدواردوری پوزیشن پر بھی نہ آسکے،دوسری پوزیشن تحریک لبیک پاکستا ن کے امیدوار نے6ہزار99ووٹ لئے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار 4ہزار870ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ایم کیوایم کے امیدوارصررف 2634لے سکے اور ان کی چوتھی پوزیشن تھی۔ پی پی پی کے امیدوار 24ہزار 261ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اگر بات صرف ہار یا جیت کی ہوتی تب تو کوئی بات نہیں تھی،مگر یہاں توجیتنے والے کے سوا دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آرہا، جیت کا مارجن اپنی جگہ ہر چوراہے پر سوال پوچھ رہا ہے کیا اسے مقابلہ کہہ سکتے ہیں؟سیدھی سی بات ہے سندھ میں وفاق کو شکست ہوئی ہے۔ اور بلوچستان میں بی اے پی اپنی پگڑی اونچی رکھنے میں بری طرح ناکام رہی۔کسی امیدوار کے لئے اس سے بڑی اور کوئی سیاسی گالی نہیں ہوسکتی کہ اس کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی ہے۔بہرحال جو ہونا تھا ہو چکا، اس پر نوحہ خوانی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔عام آدمی نے اپنی رائے کا اظہار کر دیاہے۔مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کا بیان سچ ثابت ہوا ہے۔ووٹر بجلی کا بل دکھاتا ہے،آٹے کا کنستربجاتاہے۔حکومت کیلئے یہ بجا طور فخر کی بات ہونی چاہیئے کہ کئی دہائیوں کے بعد زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 97ملکوں میں مقیم پاکستانیوں نے 50کروڑ ڈالر جمع کرا دیئے ہیں اس سے واضح طور پر یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی کے لئے کشکول لے کر ملکوں ملکوں نہیں گھومناپڑے گا مگر عام آدمی کو ہر مہینے بجلی کا اضافی بل،پیٹرولیم کا نیا ریٹ پریشان کرتا ہے۔غذائی اشیاء کے بڑھتے ہوئے دام عام آدمی چیخیں نکالنے کے لئے کافی ہیں۔ سندھ میں سیلاب کیدنوں میں ایک بچے کا ککڑ(مرغا) گندا پانی پینے سے مر گیا تھا تو اس نے بلاول بھٹو سیفریاد کی تھی، اسے ایک کی جگہ متعدد مرغے مل گئے، آٹے، چینی، گھی اور سبزیوں کی قیمتیں تاحال بے قابو ہیں، یہی حال کچھ عرصہ مزید جاری رہاتو ووٹرز کی ناراضگی میں اضافہ ہوگا۔وزیراعظم عمران خان کو تینوں نشستوں کے نتائج کا (3مارچ کے بعد)سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیئے،عام آدمی اپنے مسائل کا حل آج چاہتا ہے۔سہانے سپنے اسے برسوں سے دکھائے جا رہے ہیں۔74سال بیت گئے،ابھی تک سپنوں نے حقیقت کاروپ نہیں دھارا۔بانیان پاکستان کی دوسری نسل خوشحالی کو ترس رہی ہے۔ تیسری نسل روزگار کی تلاش میں ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حالات اندرون ملک بسنے والے پاکستانیوں سے بہتر ہیں،ورنہ اپنے دیس میں رہنا ہر انسان کو اچھا لگتاہے، دوسراثبوت یہ ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں 50کروڑ ڈالر5ماہ میں جمع ہو جانا اس لئے ممکن ہوا کہ وہ اتنی بڑی رقم بچا سکتے ہیں۔پاکستان میں بسنے والوں کی طرح انہیں ہر مہینے دو بار پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوتا۔پاکستان کے عوام صرف یہ چاہتے ہیں کہ اپنی آمدنی سے اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ادھار لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔اور اگر کبھی ادھار لینا پڑے توحسب وعدہ ادائیگی ان کے بس میں ہو۔بچوں کواسکول بھیج سکیں، تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں انہیں کو ئی دشواری نہ ہو، بوڑھے والدین کی اللہ کے حکم کے مطابق دیکھ بھال کرنے کے وسائل ان کے پاس موجود ہوں تاکہ ان کے منہ سے ”اف“ بھی نہ نکلے۔لیکن زمینی حقائق کچھ اور کہتے ہیں۔ایدھی جیسے فلاحی اداروں میں وارث ہونے کے باوجود لاوارثوں جیسی زندگی بسر کرنے والے بوڑھے والدین سے کبھی عید تہوار پر مل کر تو دیکھیں ان کی آنکھیں اپنی اولاد کی راہ دیکھتے دیکھتے تھک چکی ہیں، ان کے کان اپنی اولاد کی آواز سننے کو ترس رہے ہیں۔خود آپ نے بھی روزگار کی تلاش میں شہروں کارخ کرنے والے محنت کشوں کے لئے پناہ گاہیں تعمیر کرکے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے لیکن یہ سہولت بھی خیرات جیسی ہے، اپنی کمائی سے دووقت روکھی سوکھی روٹی سے گزارہ کرنے والے انسان کو جو خوشی انسان کو ملتی ہے وہ خوشی لذیذ خیراتی کھانوں میں نہیں ہوتی۔کبھی اس فرق کی لذت کو محسوس کرکے دیکھیں۔آپ خیرات خانوں کی کثرت کو عزت نفس کے منافی سمجھیں گے۔ انسانیت کی تذلیل قرار دیں گے۔مسئلے کا باوقار حل ایک ہی ہے لوگوں کو معقول اجرت کے ساتھ روزگار فراہم کیاجائے۔سر چھپانے کو اپنی جھونپڑی ہو، آپ مخیر حضرات سے اربوں روپے ڈونیشن لے کر کینسر اسپتال جیسے ادارے چلا رہے ہیں، مگر یہ کام ریاست کیوں نہیں کرتی؟ملک کی گلی گلی، کوچے کوچے عالمی معیار کی ”نمل یونیورسٹی“کھولنے سے ریاست کیوں معذور ہے؟ ایسے خیراتی اداروں کی تعمیر و تشکیل نے آپ کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا ہے، اب ریاست میں ریاستی ذمہ داریاں ادا کرنے کی اہلیت پیدا کریں۔پورے ملک کوایک بہت بڑے خیرات خانے میں تبدیل نہ کریں۔نوجوانوں سے خودداری نہ چھینیں۔اگر آپ نے اپنی ضد نہ چھوڑی تو ڈھائی سال بعد ایسے ہی انتخابی نتائج دیکھنے کے لئے تیاری کر لیں۔ابھی تک کی کارکردگی عوام نے تین صوبائی حلقوں میں مسترد کردی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں